اڑھائی ماہ کے طویل وقفے کے بعد جموں کشمیر میں تمام سرکاری دفاتر دوبارہ کھل گئے

پہلے روز دفاتر میں سماجی دوری کے ساتھ ہوا کام ، ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی سے ملازمین کی حاضری کمی رہی

سرینگر06جون:کورنا وائرس کی وبائی بیماری کے بڑھتے پھیلائو کے بیچ اڑھائی ماہ کے طویل وقفے کے بعد جموںکشمیر میں تمام سرکاری دفاتر دوبارہ باقاعدگی سے کھل گئے تاہم جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے دوردراز کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے ملازمین اپنے اپنے دفاتر میں حاضر ہونے سے قاصر رہے وہیں تمام تعلیمی اداروں میں سناٹا چھایا رہا۔سی این آئی کے مطابق عالمی وبائی بیماری کورنا وائرس کے پھیلائو کے بیچ جموں کشمیر میںجاری لاک ڈائون کے چلتے سنیچروار کے روز طویل عرصہ کے بعد سرکاری دفاتر میں کام کاج دوبارہ بحال ہو ا۔ اس ضمن میں جمعہ کی شام لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ کی جانب سے ایک حکمنامہ جاری کر دیا گیا تھا جس میں ہفتے کے روز وادی میں تمام سرکاری دفاتر تین مہینے کے بعد دوبارہ سے کھولے گئے ہیں۔خیال رہے کہ کورونا وائرس کے پیش نظر جموں و کشمیر میں تمام سرکاری دفاتر اور ادارے انتظامیہ کی جانب سے بند رکھے گئے تھے تاہم گزشتہ روز ایک بڑی پیش رفت کے تحت لیفٹنٹ گورنر مرمو کی جانب سے احتیاطی لاک ڈان میں نرمی فراہم کرتے ہوئے تمام سرکاری دفاتر کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی ملازمین کو باقاعدگی سے دفتر میں اپنا کام کاج کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے ۔ حکمنامہ کے تحت سنیچروار کے صبح سے ہی جموں کشمیر میں تمام سرکاری دفاتر میں دوبارہ کام کاج بحال ہو ا جس کے ساتھ ہی ملازمین و یگر عملے نے دفاتر کا رخ کر دیا ۔ شہر سرینگر کے مختلف دفاتر میں صبح سے ہی ملازمین کی خاصی تعداد نظر آئی جس دوران انہوں نے دفاتر کے دوبارہ کھولنے پر خوشی کا اظہار کیا ۔ سنیچرورا کی صبح سے ہی سماجی دوری کے دیگر احتیاطی تدابیر کے بیچ دفاتر میں دوبارہ کام کاج شروع ہوا ۔ یار رہے کہ حکومت کے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جاری ایک حکمنامے میں کہا گیا تھا کہ 6 جون 2020 سے تمام افسران اور تمام سطح کا عملہ اپنے اپنے دفاتر میں باقاعدگی سے حاضر ہوں گے۔تاہم عمر رسیدہ ملازموں، حاملہ خواتین اور مختلف بیماریوں میں مبتلا ملازمین کو زیادہ احتیاط سے کام لینے کی تاکید کی گئی ہے۔

Comments are closed.