ضلع پلوامہ کے کئی کورنٹائن مراکز میں بنیادی سہولیات کا فقدان

قرنطینہ مراکز میںموجود افراد نالاں ، حکام سے مداخلت کی اپیل

سرینگر06جون:جنوبی ضلع پلوامہ کے مختلف کورنٹائن مراکز میں موجود افراد نے بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کورنٹائن سنیٹروں میں ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق وبائی بیماری کورنا وائرس کے بڑھتے پھیلائو کے بیچ جنوبی ضلع پلوامہ کے مختلف علاقوں میں کیس مثبت آنے کے بعد رابطے میںرکھیں گئے لوگوں کو مختلف کورنٹائن مراکز میں رکھا گیا ہے تاہم کورنٹائن مراکز میںموجود افراد نے اس بات کی شکایت کی ہے کہ انہیں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی سے کافی پریشانی ہے جبکہ کھانے پینے کے علاوہ بیت الخلا ء اور غسل خانوں میں صفائی نہ ہونے کے باعث بھی انہیں مشکلات کا سامنا ہے ۔ پلوامہ سے فون کرکے سی این آئی کو کورنٹائن میں رکھیں گئے ایک شخص نے بتایا کہ ان کے گھر میں ایک حاملہ خاتون کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد انہیں کورنٹائن کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی انہیں کورنٹائن مراکز میں پہنچایا گیا تو انہیں وہاں پہلے سے ہی کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ کھانے پینے کے علاوہ وہاں صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہے اور بعض اوقات انہیں کورنٹائن مراکز میں ا ز خود ہی صفائی کرنی پڑتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اتنا ہی نہیں بلکہ کورنٹائن مراکز میں ان کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے اور انہیں کھانے پینے کے اوقات باہر ہی کھانا ڈال کر خود کلئے جانے کو کہا جاتا ہے ۔ ضلع کے ترال قصبہ سے ایک کورنٹائن شخص نے فون کرکے بتایا کہ وہ گزشتہ دس دونوں سے کورنٹائن میں ہے تاہم کورنٹائن سنیٹر میں صفائی کا کوئی بھی انتظام نہیں ہے جس کے باعث وہ کورنٹائن سنیٹروں میں غیر محفوظ محسوس کرتے یں ۔ انہوں نے کہا کہ کورنٹائن سنیٹر میں ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے کہ جیسے ہی کہ وہ ہی پازیٹیو ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمسائیگی میں ایک خاتون کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد انہیں کورنٹائن کیا گیا تاہم نہ تو انہیں کورنٹائن مرکز میں صیح کھانا فراہم کیا جاتا ہے اور نہ ہی وہاں ان مراکز میں صفائی کا کوئی انتظام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس دنوں سے وہ کورنٹائن مرکز میں موجود ہے اور بنیادی سہولیت کی عدم دستیابی کے باعث ان کی زندگیو ں کو اب خطرہ لاحق ہو گیا ہے اور انہیں اب لگ رہا ہے کہ وہ بھی وائرس کے شکار ہو گئے ہیں ۔

Comments are closed.