کرونا وائرس کی ممکنہ ویکسین محض چند ماہ کیلئے موثر ہوگی؟:ویکسین تین سے چھ ماہ تک بیماری سے بچاتی ہے،پورا سال محفوظ نہیں رکھتی/ ماہر امراض

سرینگر05جون: عالمی وبائی بیماری کورنا وائرس کے روکتھام کیلئے جاری کوششوں کے بیچ وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی ویکسین ممکن ہے کہ اگلے سال کے شروع تک بھی نہ بن پائے۔ اور جب بن جائے گی تو ہوسکتا ہے کہ محض چند ماہ کے لیے موثر ہو۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے ان خیالات کا اظہار امریکی میڈیکل ایسوسی ایشن کے جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر فاؤچی امریکہ میں وبائی امراض کی روک تھام کے ادارے کے سربراہ ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ وہ محتاط طور پر امید کرتے ہیں کہ سائنس دان کرونا وائرس کی موثر ویکسین اگلے سال کی ابتدا تک بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ انھیں توقع ہے کہ تب تک ویسکین کی کروڑوں خوراکیں دستیاب ہوں گی۔ لیکن اس کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ ماہرین کو یہ بات یقینی بنانے میں مہینوں لگ سکتے ہیں کہ کوئی ویکسین واقعی موثر ہے۔ڈاکٹر فاؤچی نے خبردار کیا کہ ممکن ہے کہ نئی ویکیسن طویل عرصے کے لیے تحفظ فراہم نہ کرسکے۔ انھوں نے کہا کہ اگر آپ دوسرے کرونا وائرسز کو دیکھیں تو ان میں سب سے عام وہ ہے جو عام ٹھنڈ لگنے کا باعث بنتا ہے۔ اس کی ویکسین تین سے چھ ماہ تک بیماری سے بچاتی ہے اور کبھی پورا سال محفوظ نہیں رکھتی۔ یہ دیرپا تحفظ نہیں دیتی۔نیویارک ٹائمز نے خبر دی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے کرونا وائرس کی ممکنہ ویکیسن کی بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے پانچ دواساز اداروں کو منتخب کیا ہے۔ ان میں میساچوسیٹس میں قائم موڈرنا، آکسفرڈ یونیورسٹی کی شراکت میں کام کرنے والی آسٹرا زینیکا، جانسن اینڈ جانسن، مرک اور فائزر شامل ہیں۔اخبار کے مطابق، ایک سرکاری اہلکار کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس چند ہفتوں میں اس بارے میں فیصلے کا اعلان کرے گا۔

Comments are closed.