لاک ڈاون کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک اور لوگوں کی نقل وحمل محدود ہونے سے آوارہ کتوں نے سڑکوں پر ڈھیرا جمادیا ہے ۔ اکا دُکا چلنے والوں پر ہوتے ہیں حملہ آور
سرینگر/29اپریل: لاک ڈاون کی وجہ سے سڑکوں پر لوگوں اور ٹرانسپورٹ کی آمدورفت محدود ہونے کے نتیجے سڑکوں پر آوارہ کتوں نے اپنی سلطنت قائم کی ہے آوارہ کتے سڑکوں کے بیچوں بیچ بیٹھ کر سڑکوں پر اکا دُکا چلنے والوں پر حملہ آور ہورہے ہیں جس کے نتیجے میں لوگ سخت ذہنی کوفت کے شکار ہورہے ہیں ۔ ہر نکڑ ، ہر گلی ، ہر کوچے میں درجنوں درجنوں آوارہ کتوں کے جھڑوں کی وجہ سے لوگوں کو اپنے گھروں سے باہر آنے میں ڈر و خوف محسوس ہورہا ہے جبکہ آج تک درجنوں افراد کتوں کے حملوں میں ازجان ہوچکے ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوچکے ہیں ۔ اس حوالے سے عوامی حلقوں نے کہا کہ یہاں اب انسانی کی جانوں سے زیادہ آوارہ جانوروں کی جانوں کی قیمت سمجھی جاتی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق کوروناوائرس کے نتیجے میں جاری لاک ڈاون کی وجہ سے سڑکوں پر لوگوں کی نقل و حمل اور گاڑیوں کی آواجاہی محدود ہونے کے نتیجے میں سڑکوں پر آورہ کتوں نے ڈھیرہ جمایا ہے اور سڑکوں کے بیچوںبیچ آوارہ کتوں کے جھنڈوں کے جھنڈ سڑکوں پر قابض ہوگئے ہیں جس کے نتیجے میں چلنے والوں پر حملہ کرتے رہتے ہیں ۔ آوارہ کتوں کی تعداد آئے روز بڑھ جانے کے نتیجے میں وادی کے ہر گلی اور ہر نکڑ پر آوارہ کتوں کے جھنڈ کے جھنڈ دکھائی دے رہے ہیں ۔ جبکہ ہر علاقے میں رہائشی مکانوں کے کھڑکیوں اور دروازوں کے باہر دو دو تین تین آوارہ کتے پہرے پر بیٹھے دکھائی دے رہے ہیں ۔ آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد اب اس قدر زیادہ ہوگئی ہے کہ آوارہ کتوں کی تعداد انسانی آبادی کے یکساں جلد ہی ہوگی ۔ اس صورتحال پر تشویشناک اور انسانیت کیلئے خطرناک قراردیتے ہوئے عوامی حلقوں نے کہا ہے کہ آوارہ کتوں اور دیگر جانوروں اب یہاں انسانوں سے زیادہ قدرومنزلت کی نظروں سے دکھائی دے رہے ہیں کیوں کہ اگر کوئی شخص آوارہ کتے کو مارے گا تو اس کو جھیل بھہج دیا جائے گا جبکہ اس کے خلاف جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا تاہم جب آوارہ کتوں کے حملوں میں کوئی انسان اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھتا ہے تو اس پر انتظامیہ خاموشی اختیار کررہی ہے ۔ آوارہ کتوں کو اگرچہ قانونی تحفظ فراہم ہے لیکن انسانوں کیلئے کوئی تحفظ نہیں ہے ۔ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوںنے سی این آئی کو فون پر بتایا کہ کوروناوائر س کی وجہ سے سڑکوں پر لوگوں کی نقل و حمل بندہے جبکہ ٹرانسپورٹ بھی بند ہے جس کے نتیجے میں آوارہ کتے سڑکوں پر ڈھیرہ جمائے ہوئے ہیں جو وہاں سے گزرنے والے ہر شخص پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔ ادھر وادی میں میونسپلٹی آوارہ کتوں کو ایک جگہ رکھنے میں ناکام ہوچکی ہے ۔ اس سلسلے میں ہارون میں بنائے گئے آوارہ کتوں کیلئے بازآباد کاری سنٹر میں آج کل کوئی آوارہ کتا نہیں ہے اور نا ہی شہر اور دیہات سے کسی کتے کو لاکر اس سنٹر میں رکھا جاتا ہے تاہم سرکاری خزانے سے ہر ماہ لاکھوں روپے اس کام کیلئے نکالے جاتے ہیں ۔ لیکن زمینی سطح پر اس طرح کا کوئی کام عمل میں نہیں لایا جاتا۔
Comments are closed.