کورونانے خطرناک شکل کی اختیار ، سیدھے پھیپھڑوں پر حملہ کرہا ہے

دس سال پہلے سارس کیو نامی اسی وائرس نے سینکڑوں افراد کو موت کے گھاٹ اُتار دیا

سرینگر28اپریل: نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بایو میڈیکل جنومکس بنگال (NIBG) کی ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ A2a وائرس اب پوری دنیا میں اپنا قبضہ جمع چکا ہے۔ تحقیقی کے مطابق وائرس کی یہ تبدیلی اور بھی زیادہ خطرناک ہے۔ یہ سیدھے انسان کے پھیپھڑوں پر حملہ کرتا ہے جس سبب انسان کے بچنے کا امکان کافی کم ہو جاتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق وائرس کافی حد تک SARSCoV وائرس جیسا ہوگیا ہے جس نے دس سال پہلے تقریبا 800 لوگوں کی جان لے لی تھی اور 8 ہزار سے زیادہ لوگ اس سے متاثر ہوئے تھے۔ یہ وائرس تیزی سے پھیپھڑوں پر حملہ کرتا ہے اور انہیں کافی نقصان پہنچاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق A2a وائرس کا تیزی سے ٹرانس مشن ہوتا ہے اور کووڈ-19 کا یہ ٹائپ پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق چین سے دنیا بھر میں کوروناوائرس تیزی سے پھیل رہاہے دسمبر 2019 کو چین کے ووہان میں جب کورونا کا پہلا معاملہ سامنے آیا تھا تب سے لیکر ابھی تک اس وائرس کی زد میں آنے سے 30 لاکھ سے زیادہ لوگ بیمار پڑ چکے ہیں۔ جبکہ دو لاکھ سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ ان سب کے درمیان ایک بڑی اور اہم خبر آرہی ہے کہ اس مہلک بیماری نے خود میں بڑی تبدیلی کرلی ہے۔ بتادیں کہ کوروناوائرس نے اب تک 10 الگ۔الگ طرح کی تبدیلیاں کی ہیں۔ انہی تبدیلیوں میں سے ایل ہے A2a۔ سائنسدانوں نے تحقیق (c) میں پایا ہے کہ A2a ٹائپ وائرس پہلے وائرس سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور پوری دنیا میں اسی وائرس کے چلتے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بایو میڈیکل جنومکس بنگال (NIBG) کی ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ A2a وائرس اب پوری دنیا میں اپنا قبضہ جمع چکا ہے۔ تحقیقی کے مطابق وائرس کی یہ تبدیلی اور بھی زیادہ خطرناک ہے۔ یہ سیدھے انسان کے پھیپھڑوں پر حملہ کرتا ہے جس سبب انسان کے بچنے کا امکان کافی کم ہو جاتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق وائرس کافی حد تک SARSCoV وائرس جیسا ہوگیا ہے جس نے دس سال پہلے تقریبا 800 لوگوں کی جان لے لی تھی اور 8 ہزار سے زیادہ لوگ اس سے متاثر ہوئے تھے۔ یہ وائرس تیزی سے پھیپھڑوں پر حملہ کرتا ہے اور انہیں کافی نقصان پہنچاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق A2a وائرس کا تیزی سے ٹرانس مشن ہوتا ہے اور کووڈ-19 کا یہ ٹائپ پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔کرونا وائرس کی یہ تبدیلی سائنسی نقطہ نظر سے بہت اہم ہے کیونکہ اس سے سائنسدانوں کو ویکسین بنانے میں مدد ملے گی۔ تحقیق کے مطابق ، گزشتہ لے 4 مہینوں میں 10 قسم کے کورونا وائرس پائے گئے ہیں۔

Comments are closed.