اننت ناگ زچہ بچہ ہسپتال میں تعینات طبی عملہ بشمول ڈاکٹروں کی سٹرائک دو روز بعد ختم
جنوبی کشمیر کے ریڈ زون اور بفر زونوں سے آنے والے ڈیلوری کیسوں کیلئے جے وی سی بمنہ میں انتظام/ سپرانٹندنٹ
سرینگر28اپریل : اننت ناگ کے زچہ بچہ ہسپتال میں پی پی کٹس کی عدم دستیابی کے خلاف ہسپتال عملہ بشمول ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملہ نے گذشتہ روز احتجاجی ہڑتال شروع کی تھی۔ عملہ کا کہنا تھا کہ انہیں ابھی تک پی پی کٹس فراہم نہیں کئے گئے اوراس ضمن میں آج دو روز کے بعد ہڑتال ختم کردی گئی جبکہ عملہ کو پی پی کٹس فراہم کئے گئے ہیں ۔ اس دوران ہسپتال انتظامیہ نے کہاہے کہ ریڈزونوں اور بفر زونوں سے آنے والے ڈیلوری کے کیسوں کو سرینگر کے جے وی سی میں انتظامات رکھے گئے ہیں لھٰذا اس ہسپتال میں بفر اور ریڈزونوں کے ڈیلوری کیس نہیں دیکھے جائیں گے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے واحد میٹرنٹی اینڈ چائلڈ کیئراسپتال میں تعینات ڈاکٹروں اور دیگر طبی و نیم طبی عملے نے اسپتال میں پی پی ای کٹ و دیگر حفاظتی ساز و سامان کی عدم دستیابی کولیکر احتجاج کیا اور کام کرنے سے انکار کیاتھا۔ 25 اپریل کو خاتون کی جڑوا نوزایدہ بیٹوں سمیت موت کے اسکے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد 7 ڈاکٹر ز اور کئی نرسز کورنٹائین میں چلے گئے اور پورے اسپتال میں سنسنی پھیل گئی۔ خاتون کے مثبت ٹیسٹ کی خبر لگتے ہی زچہ بچہ اسپتال کے ڈاکٹروں و دیگر عملے نے کام کا بائیکاٹ کیا اور پی پی ای کٹس و دیگر ساز و سامان کی فراہمی کو لیکراسپتال و ضلع انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ عملے کا کہنا تھا کہ وہ اکثر اوقات بنا پی پی ای کٹس کے کام کرتے ہیں جبکہ کورونا کی وبا کی سنگین صورتحال کے باوجود بھی انہیں خطرناک مراحل سے گزرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور انفیکشن کے ڈر سے وہ اپنے گھروں کو واپس جانے سے کتراتے ہیں۔ اس ضمن میں ہسپتال عملہ بشمول معالجین نے گزشتہ روز احتجاجی ہڑتال شروع کی تاہم آج ضلع انتظامیہ کی جانب سے ہسپتال عملہ کیلئے پی پی کٹس دستیاب رکھی گئی ۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر ایس ایم اندربی نے اس سلسلے میںکہاکہ پی پی کٹس کا معاملہ حل ہوگیا ہے اور مذکورہ کٹس ملنے کے بعد عملہ نے کام دوبارہ شروع کردیا اورہڑتال ختم کردی ۔اس دورن میڈیکل سپرانٹنڈنٹ نے کہاہے کہ ریڈزونوں اور بفر زونوں سے آنے والے ڈیلوری کے کیسوں کو سرینگر کے جے وی سی میں انتظامات رکھے گئے ہیں لھٰذا اس ہسپتال میں بفر اور ریڈزونوں کے ڈیلوری کیس نہیں دیکھے جائیں گے ۔
Comments are closed.