کشمیر میں مزید 18 اور جموں میں سات کیس کورنا وائرس کیلئے مثبت ، تعداد 207تک پہنچ گئی

لاک ڈاون کے 23ویں روز بھی معمولات زندگی درہم برہم،بندشوں کے باعث تیسرے جمعہ کو بھی مساجد کے ممبر ومحراب خاموش

کئی مقامات پر نماز ادا کرنے والے درجنوں افراد گرفتار، سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے پاداش میں درجنوں کیس درج

سرینگر/10اپریل: جموں کشمیر میں کورنا وائرس کے بڑھتے پھیلائو کے بیچ جمعہ کو مزید 25 مریضوں کے ٹیسٹ وائرس کیلئے مثبت آنے کے ساتھ ہی مریضوں کی تعداد 208تک پہنچ گئی ۔25نئے مثبت کیسوں میں 18کاتعلق کشمیر جبکہ 7 جموں سے سامنے آیا ہے ۔ ادھرکوروناوائرس کے چلتے لاک ڈاون کے 23ویں روز بھی وادی کشمیر میں معمولات زندگی درہم برہم ہوکے رہ گئیں جبکہ آج تیسرے جمعہ کو بھی وادی کی اکثر مساجد کے ممبرو محروم خاموش رہے اور جمعہ کی نماز کے بجائے لوگوںنے اپنے گھروںمیں نماز ظہر اداکی۔ اس دوران وادی کے حساس مقامات کے علاوہ شہر خاص و لالچوک کے گردونواح میں حفاظت کے سخت انتظامات کئے گئے جبکہ لاک ڈائون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نماز جمعہ کی ادائیگی کرنے والوں کو گرفتار کیا گیا اور کئی مقامات پر منتظمین کے خلاف کیس درج کر لیا گیا ۔ سی این آئی کے مطابق جمعہ کو مزید 25مریضوں کے ٹیسٹ مثبت آنے کے ساتھ ہی جموں کشمیر میں مریضوں کی تعداد 207تک پہنچ گئی ہے ۔بتایاجاتا ہے کہ مثبت آنے والے کیسوں میں 18 کا تعلق کشمیر جبکہ سات جموں سے تعلق رکھتا ہے ۔ 207مریضوں میں چارکی موت ہوئی ہے جبکہ چھ صحت یاب ہو چکے ہیں ۔ ادھر بھارت بھر کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر میں بھی آج لاک ڈاون پر مکمل عمل درآمد ہوا جس کے نتیجے میں وادی کشمیر میںمعمولات زندگی بُری طرح سے متاثر ہوئی ہے جبکہ جمعہ کے پیش نظر وادی میں حساس علاقوں کے ساتھ ساتھ شہر خاص میں سخت بندشیں عائد رہیں جبکہ کوروناوائرس کی زنجیر کو توڑ نے کے ایک حربے کے بطور وادی کشمیر کی اکثر مساجد میں آج تیسرے جمعہ بھی نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی ۔ اگرچہ بڑی مساجد کو چھوڑ کر بیشتر مساجد میں جمعہ کو آذان حسب معمول دی گئی تاہم جمعہ کی جماعت نماز ادانہیں کی گئی اور لوگوں نے اپنے ہی گھروںمیں نماز ظہر اداکی۔ ادھر کورناوئرس کے کیسوںمیں مسلسل اضافہ ہونے کے نتیجے میں اہلیان وادی میں سخت تشویش دور گئی ہے اور لوگوں میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا ہے ۔ اس دوران انتظامیہ کی جانب سے بندشوں میں مزید سختی برتی جارہی ہے اور حکم امتناعی کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جارہا ہے ۔اور درجنوں افراد کے خلاف روزانہ کیس دائر کیا جارہا ہے ۔ عالمی وبائی کوروناوائرس کے تیزی کے ساتھ پھیلائو کی وجہ سے ملک بھر کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر میں بھی گذشتہ23روز سے مکمل لاک ڈاون جاری ہے جس کے نتیجے میں معمولات زندگی درہم برہم ہے ۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار تیز گام ہونے کے پیش نظر وادی کشمیر میں جہاںجمعہ کو مسلسل 23ویں روز بھی سخت لاک ڈاؤن جاری رہا وہیں لوگوں میں بھی خوف وتشویش لہر بھی جاری ہے اور لوگوں میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا ہے ۔ لاک ڈاون جاری رہنے کے باوجود بھی وادی میں کوروناوائرس کے کیسوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ انتظامیہ نے کورونا وائرس پر قابو پانے کے لئے درجنوں ان علاقوں، جن سے وائرس کے مصدقہ یا مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں، کو ‘ریڈ زون’ قرار دے کر مکمل سیل کیا ہے اور ان علاقوں کے لوگوں کو اپنے ہی گھروں میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔جبکہ پابندی کو مزید سخت کردیا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ کوروناوائرس کو پھیلنے سے بچنے کیلئے حکم امتناعی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔ادھر پٹن سے سی این آئی نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ مارکی پورہ پٹن میں پولیس نے لاک ڈائون کی خلاف ورزی کرنے کے پاداش میں مسجد انتظامیہ اور امام کے خلاف کیس درج کر لیا ہے ۔ (سی این آئی )

Comments are closed.