پابندی کے باوجود زرعی ا راضی کو رہائشی کالنیوں میں تبدیل کرنے کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری
سرینگر/16فروری/کے این ٹی // سرینگر اوراس کے مضافاتی علاقوں کے علاوہ وادی کے دیگر اضلاع میں پابندی کے باوجود زرعی راضی کو رہائشی کالنیوں میں تبدیل کرنے کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے کیونکہ زرعی زمین کے استعمال کیلئے بنائے گئے قوانین اور پالیسیوں کے باوجود بھی کشمیر میں غیر قانونی طریقے سے زرعی اراضی کو رہائشی کالونیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور لینڈ مافیاکے سامنے ریاستی سرکار بے بس نظر آرہی ہے۔کشمیر نیوز ٹرسٹ کے مطابق جموں کشمیر میں اراضی کے استعمال کیلئے بنائی گئی سرکاری پالیسی میںاس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں تیز ترقی اور شہری علاقوں کے پھیلاو کی وجہ سے زرعی اراضی کا خاتمہ ہورہا ہے۔ محکمہ زراعت کی جانب سے دسمبر 2016میں پیش کی گئی رپوٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں سالانہ 1375ہیکٹر زرعی اراضی پر رہائشی کالنیاں، اینٹ کے بٹھے، تجارتی مراکز اور شاپنگ مال وغیر تعمیر کئے جارہے ہیں۔جموں و کشمیر میں کام کرنے والے سرکاری محکمہ جات کے درمیان تامیل میل کے فقدان کی وجہ سے ہی سرکاری اداروں کے پاس کشمیر میں موجود زرعی اراضی، رہائشی رقبہ اور پچھلے 30سال کے دوران تعمیر کئے گئے تجارتی مراکز اور صنعتی علاقوں کیلئے استعمال کی گئی زمین کے اصل اعدادوشمار موجود نہیں ہیں اور حد تو یہ ہے کہ محکمہ مال کی جانب سے چند سال قبل سرکاری اراضی پر قبضہ، زرعی اراضی کا دیگر کاموں میں استعمال اور ریاست کے مختلف اضلاع میں غیر قانونی تجارتی مراکزکی تفصیل طلب کی تھی مگر تین سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی اب تک محکمہ مال کویہ جانکاری فراہم نہیں کی گئی ہے۔ محکمہ زراعت کے عدوشمار کے مطابق سال 1990میں کشمیر میں کل زرعی اراضی 2لاکھ 62ہزار کنال تھی جس میں ایک لاکھ 62ہزار کنال اراضی پر چاول جبکہ ایک لاکھ کنال اراضی پر مکئی کی پیداوار ہوتی تھی۔ محکمہ زراعت کے ذرائع نے بتایا کہ اسوقت ایک لاکھ 40ہزار کنال اراضی پر چاول جبکہ80ہزار کنال اراضی پر مکئی کی پیداوار ہوتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کشمیر میں پچھلے تین دہائیوں کے دوران زرعی زمین میں تقریباً50ہزار کنااراضی کی کمی واقع ہوئی ہے تاہم چاول اور مکئی کی پیدوار میں اضافہ ہوا ہے۔محکمہ زراعت کے اعدادوشمار کے مطابق1952میں کشمیر میں ایک کنال زرعی اراضی پر 2کوئنٹل چاول کی پیدوار ہوتی تھی جبکہ ایک ہیکٹر زمین پر 30سے 40کوئنٹل چاول کی پیدوار ہوتی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ جدید سائنسی بنیاد پر بنائی گئی چاول کی قسم متعارف کرانے سے سالانہ ایک ہیکٹیر پر اب 60سے 70کوئنٹل اناج پیدا ہوتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ محکمہ زراعت آئندہ ایک سال مزید چاول کے مزید اقسام متعارف کرانے جارہا ہے جس سے سالانہ فی ہیکٹر پیدا ہونے والے اناج کی مقدار 80سے 100کوئنٹل ہوجائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں اسوقت سالانہ 11لاکھ 50ہزار میٹرک ٹن چاول کی ضرورت ہوتی ہے جس میں 55فیصد بیرون ریاستوں جبکہ 34فیصد چاول مقامی سطح پر پیدا کیا جاتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ چاول کی ضرورت میں سالانہ 14سے 20فیصد اضافہ ہوتا ہے اور اس طرح ریاست جموں و کشمیر کو سالانہ 21فیصد چاول کی کمی پیدا ہوجاتی ہے۔ 2011کی مردم شماری کے مطابق جموں و کشمیر کو سالانہ 9ہزار 589میٹرک ٹن چاول بر ا?مد کرانا پڑتا ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جموں و کشمیر میں 2001تک کل آبادی 57.12لاکھ تھی جو اب بڑھکر 71.99لاکھ ہوگئی ہے۔ کشمیر صوبے میںچاول کی ماہانہ کھپت 39ہزار 123میٹرک ٹن ہے جبکہ مرکزی سرکار کی جانب سے کشمیر صوبے کو ماہانہ صرف 32ہزار 527میٹر یک ٹن چاول فراہم کرتا ہے مگر اس کے باو?جود بھی کشمیر صوبے میں رہنے والی آبادی کو چاول فراہم کرنے میں 3ہزار529میٹرک ٹن چاول کم پڑتا ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق کشمیر میں سال 2012میں ہارٹی کلچر کے تحت آنے والے کل اراضی 3.25لاکھ ہیکٹر تھی جو 2019میں بڑھکر 3.42لاکھ ہوگئی ہے اور اس طرح باغات کے تحت آنے والی زمین میں اضافہ ہوا ہے جبکہ کشمیر میں میوے کی پیداوار میں بھی 26.15فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جموں و کشمیر میں2011کوسالانہ 17.13میٹرک ٹن میوے کی پیداوار ہوتی تھی جو 2019میں بڑھکر 21.61لاکھ میٹرک ٹن ہوگئی ہے۔ریاست جموں و کشمیر لینڈ ریونیو ایکٹ 1996میں جہاں اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص زرعی اراضی کو وزیر مال کی اجازت کے بغیر کسی بھی طریقے سے زراعت کے بغیر کسی بھی کام میں استعمال نہیں کرسکتا اور زمین زراعت کے بغیر کسی بھی کام میں استعمال کرنے کیلئے اجازت حاصل کرنا لازمی ہے تاہم پچھلی بی جے پی۔پی ڈی پی حکومت نے 2016میں لینڈ یوز پالیسی ترتیب دیکر تمام لوگوں کیلئے زرعی زمین پر کوئی بھی دیگر کام کرنے پر عائد پابندی ختم کردی۔ 2016کی لینڈ یوز پالیسی میں صاف طور پر واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص 2کنال اراضی تعمیراتی کاموں کیلئے استعمال کرسکتا ہے اور اس کیلئے کوئی بھی پیشگی اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی مگر پالیسی کے تحت 2کنال اراضی سے زیادہ کی زمین پر زراعت کے بجائے دیگر کام کرنے کیلئے سرکاری اجازت نامہ کی ضرورت ہوگی اور ریاستی سرکار نے لوگوں کو اجازت فراہم کرنے کیلئے ضلع ترقیاتی کمشنروں کی قیادت میں کمیٹیاں بھی تشکیل دیں مگر اس کے باوجود بھی ریاستی سرکار کو اطلاع کئے یا پیشگی اجازت حاصل کئے تعمیرات کا کام زور و شور سے جاری ہے۔یہ بات حیران کن مگر قابل ذکر ہے کہ جموںوکشمیر میں سرکاری اراضی، زرعی اراضی اور غیر قانونی طور پر تعمیر ہونے والی کالنیوں، تجارتی مراکز اور دیگر غیر قانونی عمارتوں کے ا عدادوشمار کسی بھی سرکار محکمہ کے پاس نہیں ہیں۔ ریاستی جائیداد کی دیکھ ریکھ کیلئے قائم محکمہ مال بھی زرعی اراضی، سرکاری زمین اور غیر قانونی عمارات کی اصل تعداد کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا ہے۔
Comments are closed.