آوٹ سورسنگ اور بھرتیوں سے متعلق اپوزیشن کے الزامات بے بنیاد ، کوئی ثبوت ہے تو پیش کیا جائے /حکومت

جموں و کشمیر حکومت نے اپوزیشن کی جانب سے مستقل سرکاری ملازمتوں کو آو¿ٹ سورسنگ کے ذریعے پ±ر کرنے کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تمام مستقل آسامیوں پر بھرتیاں مکمل طور پر میرٹ، شفافیت اور قانونی طریقہ کار کے مطابق جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن اور جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ کے ذریعے ہی کی جا رہی ہیں۔

ایس کے آئی سی سی میں منعقدہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے اپوزیشن کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ آو¿ٹ سورسنگ صرف ا±ن شعبوں میں کی جاتی ہے جہاں منظور شدہ اسامیوں سے اضافی افرادی قوت کی فوری ضرورت پیش آتی ہے جن میں صحت، زراعت، صفائی اور دیگر عوامی خدمات کے شعبے قابل ذکر ہے ۔

انہوں نے کہا کہ آوٹ سورسنگ کو مستقل سرکاری ملازمتوں سے جوڑنا عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ یہ عمل مکمل طور پر شفاف ٹینڈرنگ، گورئمنٹ ای-مارکیٹ پلیس (GeM) پورٹل اور دیگر سرکاری خریداری کے قواعد کے تحت انجام دیا جاتا ہے۔ناصر اسلم وانی نے کہا کہ آوٹ سورسنگ کی پالیسی موجودہ حکومت نے متعارف نہیں کرائی بلکہ یہ 2015 سے 2018 کے دوران پی ڈی پی بی جے پی حکومت کے دور میں نافذ کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا”جس طرح ہم نے دفعہ 370 کی منسوخی اور ریاستی درجہ کی واپسی کا مسئلہ وراثت میں پایا، اسی طرح آو¿ٹ سورسنگ کی پالیسی بھی ہمیں سابق حکومت سے ورثے میں ملی ہے“۔انہوں نے مزید بتایا کہ 2015 سے پہلے بھی مختلف محکموں کو موسمی نوعیت کے کاموں، مثلاً شجرکاری مہمات کے لیے عارضی بنیادوں پر افراد کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار حاصل تھا، تاہم موجودہ آو¿ٹ سورسنگ کا نظام بعد میں متعارف کیا گیا۔

وزیراعلیٰ کے مشیر نے اپوزیشن کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ حکومت میں کسی ایک بھی بیک ڈور تقرری کا ثبوت موجود ہے تو وہ عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔

Comments are closed.