امریکی صدر کے دورے بھارت سے قبل چار امریکی عہدیداروں نے خط تحریر کیا، خط میں کشمیر کی موجودہ صورتحال اور شہریت ترمیمی بل کا تذکرہ کیا گیا
سرینگر15 فروری: امریکی صدر کے بھارت دورے سے قبل چار امریکی عہدیداروں نے امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ کو خط تحریر کیا جس میں جموںوکشمیر کی صورتحال کا تذکرہ کیا گیا۔ خط میں کہا گیا کہ جموںوکشمیر میں تاریخ کا سب سے بڑا انٹرنیٹ بریک ڈاون چل رہا ہے جبکہ نظر بند لیڈران کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطا بق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دورے بھارت سے قبل چار سینئر امریکی عہدیدار ”کرس وان ہولن ، ٹوڈ ینگ ، رچررڈ جے ڈربن اور لنڈسے گرام “نے امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ مائیک پمپو کو ایک خط بھیجا جس میں جموںوکشمیر کی سیکورٹی صورتحال اور شہریت ترمیمی بل کے متعلق آگاہی فراہم کی گئی ۔رپورٹ کے مطابق خط میں امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ کو بتایا گیا کہ جموںوکشمیر میں تاریخ کا سب سے بڑا انٹرنیٹ بریک ڈاون چل رہا ہے جبکہ مین اسٹریم پارٹیوں کے لیڈران کے ساتھ ساتھ دوسرے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان چار عہدیداروں نے بتایا کہ ہم بھارت کی جمہوریت کا احترام کرتے ہیں تاہم چھ ماہ کا عرصہ گزر چکا جب بھارت کی مرکزی حکومت نے جموںوکشمیر کو حاصل خصوصی اختیارات کو منسوخ کیا تاہم ابھی بھی وہاں پر انٹرنیٹ بندش کے ساتھ ساتھ لیڈران کی نظر بندی جاری ہے۔ اس کے علاوہ ان چار عہدیداروں نے شہرت ترمیمی بل کے بارے میں بھی سیکریٹری آف سٹیٹ کو آگاہی فراہم کی اور بتایا کہ اس قانون کو بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کیا گیا ہے۔ ان عہدیداروں کے مطابق بھارت میں اس وقت مختلف مسائل ہیں جس میں جموںوکشمیر میں آزادی اظہار رائے پر پابندی ، انٹرنیٹ بندش اور لیڈران کی نظر بندی قابلِ ذکر ہیں ۔
Comments are closed.