جرمنی میں سیکورٹی کانفرنس کے دوران مسئلے کشمیر کی گونج

فکر نہ کرو بھارت کشمیر مسئلے کو اپنے طریقے سے طے کرئے گا /وزیر خارجہ ایس جے شنکر

سرینگر15 فروری//یو پی آئی // جرمنی میں کانفرنس کے دوران بھارتی وزیر خارجہ نے کشمیر کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ فکر نہ کرو بھارت اس (کشمیر مسئلے )کو اپنے طریقے سے طے کرئے گا اور آپ کو معلوم ہے کہ وہ کون سے ساطریقہ ہے۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطاب ق جرمنی میں سیکورٹی کانفرنس کے دوران بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر نے کہاکہ اقوام متحدہ آج کی تاریخ میں کم معتبر ہے جو حیرت کی بات نہیں۔انہوںنے کہاکہ بھارت ایک جمہوریت ملک ہے اور سبھی ممالک کے ساتھ بقائے باہم کے اصولوں کے تحت تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے۔ امریکی عہدیدار لنڈسی گراہم نے جب وزیر خارجہ سے کشمیرکے خاتمے کے بارے میں پوچھا تو وزیر نے کہاکہ جب بات کشمیر کی ہو تو میں نہیں جانتا کہ یہ کیسے ختم ہوگاتاہم دو جمہوریتیں اس کو ختم کریں گے ۔ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے ضمن میں جب امریکی عہدیدار نے پھر سوال پوچھنا چاہا تو مرکزی وزیر خارجہ نے کہاکہ فکر نہ کرو بھارت اس کو اپنے طریقے سے طے کرئے گا اور آپ کو معلوم ہے کہ وہ کون سے ساطریقہ ہے۔ بتادیں کہ پانچ اگست کے بعد سے بین الاقوامی سطح پر جتنی بھی کانفرنسیں ہوئیں اُس دوران کشمیر کے متعلق بھارتی عہدیداروں سے سوال کیا گیا۔ کشمیر میں انٹرنیٹ خدمات پر بندشیں عائد کرنے اور لیڈران کی نظر بندی کے حوالے سے امریکہ سمیت یورپی یونین نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کی مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ جموںوکشمیر میں عائد دیگر پابندیوں کو بھی ختم کرئے۔ یورپی یونین نے حالیہ دورے کشمیر کے بعد ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ بھارت کی مرکزی حکومت نے جموںوکشمیر میں حالات کو معمول پر لانے کی خاطر مثبت اقدامات کئے ہیں تاہم انٹرنیٹ خدمات کی معطلی اور لیڈران کی نظر بندی تشویش کا باعث ہے۔ یہاں یہ بھی غور طلب ہے کہ کانگریس کے سینئرلیڈر کپل سبل نے کل ہی نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کہا تھا کہ مرکزی حکومت بین الاقوامی دباو کے تحت ہی سفیروں کو کشمیر کے دورے پر بھیج رہی ہیں تاکہ وہاں کے حالات کا جائزہ لیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ مودی کی سربراہی والی مرکزی حکومت کے پاس کوئی خارجہ پالیسی ہی نہیں ہیں۔

Comments are closed.