’الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا ،عوام نے کجریوال کو تیسری بار وزیراعلیٰ کرسی پر بٹھایا‘‘

70سیٹوں میں سے 62سیٹوں پر جیت رقم کر لی ، بی جے پی کو ملی محض 8سیٹیں ، کیجروال نے کہا ’’لا یو دلی ‘‘

سرینگر/11فروری: دہلی کی عوام اپنی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرکے نفرت کی سیاست کو نکار کر اروند کجریوال کو تیسری بار وزیراعلیٰ کی کرسی پر بٹھایا ہے۔ اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی نے زبردست کامیابی حاصل کی اور 70سیٹوں میں سے 62سیٹوں پر جیت رقم کرلی۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق دہلی اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی آندھی نے بی جے پی اور کانگریس کوروند ڈالا۔ 70نشستوں میں سے عام آدمی پارٹی نے 62، بی جے پی نے 8جبکہ کانگریس نے کوئی کھاتہ ہی نہیں کھولا ۔ بی جے پی نے اس الیکشن میں عام آدمی پارٹی کو ہرانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن ان کی ساری تدبیریں ناکام ہوگئیں اور وہ صرف8سیٹوں پر ہی کامیابی حاصل کرسکے۔ کانگریس کا حال 2015جیسا ہی رہا۔ اور ایک بھی سیٹ پر جیت حاصل نہیں کرسکی۔ اس جماعت نے الیکشن سے پہلے ہی اپنے ہتھیار ڈال دیئے تھے اور انتخابی مہم میں کوئی دلچسپی ہی نہیں دکھائی۔اروند کجریوال نے پچھلے دو مہینوں سے لگاتار پارٹی کے لئے مہم چلائی اور اپنے تقاریر میں حکومت کی کارکردگی پر عوام سے ووٹ مانگے اور لوگوں نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ لیکن ان کے دسترس نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا الیکشن ہار گئے۔اس کے علاوہ آتشی بھی اپنے حلقہ سے پیچھے چل رہی ہیں ۔ جو کجریوال کے لئے بڑا دھچکا ہوگا۔ جب ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی تو ایسا لگ رہا تھا کہ بی جے پی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کو زبردست ٹکر دے گی لیکن جوں جوں ووٹوں کی گنتی کے مرحلے آگے بڑھتے رہے عام آدمی پارٹی نے اپنی گرفت مضبو ط کرلی۔بی جے پی نے اپنی الیکشن مہم میں شاہین باغ کے دھرنے کو مدا بنایا اور ہر ایک ریلی میں لوگوں کو اس مدے پر بھڑ کانے کی کوشش کی۔ کچھ مرکزی وزراء نے نفرت انگیز تقاریریں بھی کیں اور الیکشن کمیشن نے نہ صرف سرزنش کی بلکہ انہیں مہم میں حصہ لینے پر پابندی بھی لگائی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ انوراگ ٹھاکر اور پرویش سنگھ نے جہاں جہاں نفرت انگیز بیانات دیئے وہاں بی جے پی بری طرح ہار گئی۔عآپ کے شعیب اقبال ،عمران حسین اورامانت اللہ خان نے اپنے اپنے حلقوں سے کامیابی حاصل کی۔ کانگریس کے بڑے بڑے رہنماء اس انتخابی دنگل میں چاروں شانے چت ہوگئے۔ان میں ڈاکٹر اشوک والیہ، ہارون یوسف، الکا لامبا ،پرویز ہاشمی ،اروندر سنگھ لولی اور کرشن تیرتھ بھی شامل ہیں۔ انتخابی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے عآ پ رہنما سنجے سنگھ نے کہا کہ یہ ہندوستان کی جیت ہے۔ جبکہ امانت اللہ خا ن نے کہا کہ الیکشن نے امیت شاہ کو کرنٹ د ی ہے نہ کہ ہمیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکمراں جماعت نے مذہب کے نام پر ووٹروں کو بانٹنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔ اس دوران عآ پ کے سینئر رہنماء عآپ کے صدر دفتر پر جمع ہوئے،مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ عآپ کی کامیابی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ لوگوں نے شہریت ترمیمی قانون اور این آرسی کو رد کیا۔ لوگ صرف ترقی اور امن چاہتے ہیں۔ ڈی ایم کے رہنماء نے بھی اروند کجریوال کو مبارکباد دی۔

Comments are closed.