کیا مودی حکومت کشمیر میں کسی بڑی کارروائی کی تیار کر رہی ہے؟ کیا کسی خاص بلیو پرنٹ پر کام ہو رہا ہے تاکہ کشمیر میں موجود ملی ٹینٹوں کے تمام تاروں کو ہمیشہ کے لئے منقطع کر دیا جائے؟ اس طرح کے اشارے مل رہے رہے ہیں کہ سکورٹی فورسز کی 100 اضافی کمپنیوں کی روانگی کا تعلق نرملا سیتا رمن کی تینوں فوجی سربراہوں (بری، بہریہ اور فضائیہ) کے ساتھ پیر کے روز ہونے والی تیاریوں سے ہے۔
دہلی نے کشمیر کے لئے کسی خاص بلیو پرینٹ پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس کی حکمت عملی تقریباً تیار ہے اور اسے پیر کے روز دہلی میں ہونے والی اہم میٹنگ میں حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔ اس میٹنگ میں وزیر دفاع نرملا سیتا رمن اور تینوں فوجی سربراہان شرکت کرنے والے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میں کئی ملک میں تعینات ‘ڈفینس اٹیچی’ بھی حصہ لیں گے۔ ان کی تعداد 44 ہے۔ ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میں جو کشھ بھی طے پائے گا اس کی معلومات بعد میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں دی جائے گی۔
حکومت کے اعلیٰ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ کے پاکستان کے خلاف ایک صاص ڈوزیئر تیار کیا ہے، جسے ڈفینس اٹیچی کو دیا جائے گا۔ یہ اٹیچی اس ڈوزیئر کو دنیا کے اہم ممالک کے ساتھ پاکستان کے خلاف لام بندی کے لئے استعمال کرے گا۔
غور طلب ہے کہ ہندوستان دنیا کے 44 مماللک میں اپنے ڈفینس اٹیچی رکھتا ہے۔ یہ اٹیچی اس ملک کے ساتھ دفاعی تعلقات بنائے رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں اور حساس اطلاعات کی بنیاد پر کام کو انجام دیتے ہیں۔ ان میں بریگیڈیر اور کرنل رینک کے افسر ہوتے ہیں جنہیں فوج کے تینوں شعبوں سے چنا جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹنگ کے دوران حکمت عملی پر اہم فیصلہ لیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ کشمیر میں نیم فوجی دستوں کی 100 اضافی کمپنیوں کو بھیجا جا رہا ہے۔ انہیں فضائی راستہ سے کشمیر لایا جا رہا ہے۔ اس کے لئے ایئر کورئر خدمات اور فضائی خدمات کے ٹرانسپورٹ طیاروں کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ عسکری دستوں کی ایک کمپنی میں 80 سے لے کر 150 تک افسران اور جوان ہوتے ہیں۔ لہذا کشمیر جانے والے دستوں کی تعداد 10 ہزار ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں جوانوں کو سڑک کے راستہ سے لے جانے کا خطرہ حکومت نہیں اٹھانا چاہتی ہے۔ ان کمپنیوں میں 45 سی آر پی ایف، 35 بی ایس ایف، 10 ایس ایس بی اور 10 آئی ٹی بی پی کی ہیں۔ اس مکمل عمل کو پلوامہ حملے بعد بعد پاکستان پر دباؤ بنانے کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
Comments are closed.