پلوامہ حملہ: جنگ کوئی پِکنک نہیں، دوسرے متبادل پر غور کرنا ہوگا: اے ایس دُلّت

”ہم یہ بھول رہے ہیں کہ کشمیر میں ہر روز لوگ مر رہے ہیں چاہے وہ فوجی جوان ہوں یا دہشت گرد، لیکن لوگ مر رہے ہیں، کشمیر میں موت عام چیز ہو گئی ہے، تشدد چلن بن گیا ہے اور کسی کو اب اس چلن کو بدلنا ہوگا” یہ کہنا ہے ریسرچ اینڈ انالسٹ ونگ (را) کے سابق سربراہ اے ایس دُلت کا۔ نیشنل ہیرالڈ کی ایشلن میتھو سے گفتگو کے دوران دُلت نے کہا کہ جنگ کوئی ‘پِکنک’ نہیں ہے اس لئے وزیر اعظم نریندر مودی کے لئے جنگ کوئی مسئلہ کا حل نہیں ہے، ان کو دوسرے متبادل پر غور کرنا ہوگا۔ پیش ہیں اس گفتگو کے چند اقتباسات۔

سوال: اب یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ پلوامہ حملہ کے تعلق سے خفیہ ایجنسیوں کا ان پُٹ(اطلاع) تھا ، تو کیا اس کو نظر انداز کیا گیا؟ آپ کی نظر میں میں کیا حقیقت ہے اور کیا اس حملہ کو روکا جا سکتا تھا؟

دُلّت: میرے علم میں نہیں ہے کہ کس طرح کا اِن پُٹ تھا، جب بھی کچھ غلط ہوتا ہے تو خفیہ ایجنسیوں کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا۔ ظاہر ہے کہ اگر ایجنسیوں کی ناکامی نہیں ہوتی تو حادثہ ہی کیوں ہوتا، جیسا ہم جانتے ہیں کہ سیکورٹی کی طرح انٹلی جنس بھی مکمل طور سے فُل پروف نہیں ہے۔ کبھی کبھی آپ کے پاس پوری اطلاع نہیں ہوتی ہیں بس اتنی اطلاع ہوتی کہ کچھ بڑا ہونے والا ہے، میں یہاں بیٹھے بیٹھے ایسے امکانات کے بارے میں کہہ سکتا ہوں، کیونکہ گزشتہ دو سال سے جنوبی کشمیر جل رہا ہے اور تقریباً کنٹرول سے باہر ہے۔ جو ہوا بہت برا ہوا، ماضی میں اس شدت کا دہشت گردانہ حملہ کبھی نہیں ہوا۔

دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ ماضی میں ہمارے ملک میں ہونے والے خود کش حملے ان نوجوان لڑکوں کے ذریعہ انجام دیئے جاتے تھے جن کا تعلق سرحد پار پاکستان سے ہوتا تھا۔ گزشتہ ایک سال سے ہم اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ جنوبی کشمیر میں جو لڑکے اس میں شامل ہیں وہ ہمارے اپنے لڑکے ہیں، وہ پاکستان سے نہیں آ رہے، یہ پہلو ہے جس پر ہمیں تشویش ہونی چاہیے کہ ہمارے اپنے لڑکے تشدد کی جانب کیوں جا رہے ہیں۔ دیکھنا ہوگا کہ اس حملہ آوار لڑکے کے ساتھ اور کتنےلڑکے تھے اور وہ اب کہاں ہیں؟ یہ انتہا ہے کہ کوئی خود کو دھماکہ سے اڑانے کے لئے تیار ہے، اگر ایسے لڑکوں کی تعداد بڑھتی ہے تو سلامتی اور انٹلی جنس کے لئے بڑی دشواریاں کھڑی ہو جائیں گی۔

ہم یہ بھول رہے ہیں کہ کشمیر میں ہر روز لوگ مر رہے ہیں، چاہے وہ فوجی جوان ہوں یا دہشت گرد، لیکن لوگ کی اموات ہو رہی ہیں، کشمیر میں تشدد چلن بن گیا ہے اور موتیں عام ہو گئی ہیں، اب کسی کو اس چلن کو بدلنا ہوگا۔

سوال: مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کوئی سیاسی پہل کرنے کے لئے تیار نہیں، کسی سے کوئی بات نہیں کر رہی، ایسا لگتا ہے کہ وہ زمین پر طاقت کی پالیسی پر عمل کرنے میں یقین رکھتی ہے، اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟

دُلّت: میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ مسئلہ کا حل اور راستہ بات چیت ہے، آج لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ کون ہے بات چیت کے لئے۔ لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ کشمیر میں حقیقت میں کیا ہوتا ہے؟ میرا سوال ہے کہ کیا حکومت کو فاروق عبداللہ سے بات کرنے میں کوئی پریشانی ہے؟ مجھے خوشی ہے کہ وزیر داخلہ نے عمر عبداللہ سے ملاقات کی، کیونکہ فاروق عبداللہ کے بعد اگر کوئی کشمیر کو سب سے زیادہ سمجھتا ہے تو وہ عمر عبد اللہ ہیں۔ فاروق سے مشورہ کیوں نہیں کرتے؟ محبوبہ سے مشورہ کیوں نہیں کرتے؟ حکومت کو فاروق اور محبوبہ کے ساتھ بیٹھنا چاہیے اور مشورہ کرنا چاہیے۔ سجاد لون جو اب مین اسٹریم میں ہیں ان سے کیوں نہیں بات کرنی چاہیے۔ اگر اوپر کی قیادت کو کوئی پریشانی ہے تو وزیر داخلہ کو بات کرنی چاہیے۔ یہ کہنے کے لئے صحیح وقت نہیں ہے کہ طاقت کی پالیسی ناکام ہوگئی ہے یا نہیں، لیکن ہمیں بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم چاہے کچھ بھی کریں لیکن ہمیں ساتھ میں باتیں کرتے رہنا چاہیے اور اپنے لوگوں سے بات کرنے میں پریشانی کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ فاروق عبد اللہ اور محبوبہ پاکستانی شہری نہیں ہیں اور نہ ہی سجاد لون پاکستانی ہیں۔ جب سجاد لون جن کی اہلیہ پاکستانی ہیں ان سے بی جے پی کے تعلقات ہیں اور ان کے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہیں اور حکومت کو ان سے بات کرنا صحیح لگتا ہے لیکن فاروق اور محبوبہ سے نہیں۔ فاروق جو کشمیریوں میں سب سے زیادہ ملک پرست ہیں ان سے حکومت بات نہیں کرتی، پتہ نہیں ان کا کیا مقصد ہے؟

سوال: مودی حکومت کے دور میں دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور یہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔

دُلّت:جی، اس میں اضافہ ہوا ہے، آپ جب بات چیت کرنا بند کر دیتے ہیں تو آپ اپنے متبادل ہی کم کر دیتے ہیں، اس کی وجہ سے تشدد مرکزی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔

سوال: واجپئی حکومت نے جیش کے سرغنہ مسعود اظہر کو 1999 میں جیل سے چھوڑدیا تھا، تو کیا وہ غلط فیصلہ تھا یا وہ صرف واحد حل تھا؟۔

دُلّت: اس وقت صرف ایک شخص تھا جس نے مسعود اظہر کی رہائی کی سختی سے مخالفت کی تھی اور وہ شخص فاروق عبد اللہ تھے۔ مجھے اس کی اطلاع دینے کے لئے فاروق کے پاس بھیجا گیا تھا، اس وقت فارق عبداللہ نے مجھ سے کہا تھا کہ ایسا کرنا بہت بڑی غلطی ہوگی، ملک کو پچھتانا پڑے گا۔ انہوں نے یہ مرکز کو بتا دیا تھا اور یہ ریکارڈ پر ہے۔ جبکہ فاروق صحیح ثابت ہوئے، لیکن اس وقت کی صورتحال میں کوئی دوسرا متبادل نہیں تھا، مجھے نہیں لگتا کہ ہم وہاں کوئی کارروائی کر سکتے تھے۔

سوال: حکومت نے علیحدگی پسند کشمیری رہنماؤں کی سیکورٹی واپس لے لی ہے۔ اس فیصلہ کا کشمیر کی صورتحال پر کیا اثر پڑے گا؟

دُلّت: مجھے نہیں لگتا اس کا کوئی اثر پڑے گا، ان میں سے کوئی مر جائے گا کیونکہ وہ سب اپنے آپ میں بہت کمزور ہیں، ان میں سے ہی کوئی اپنا بدلا لینے کے لئے کسی کو بھی مروا دے گا۔ سجاد لون کے والد کو گولی مار کر قتل کیا گیا تھا، ایسا ہی کچھ خدشہ مجھے میر واعظ کو لے کر ہے کیونکہ ان کا کشمیر میں مستقبل ہے، وہ وہاں کلیدی کردارمیں ہیں، اس لئے ان کی سیکورٹی ضروری ہے۔

سوال: ملک کے مختلف حصوں میں کشمیری طلباء پر حملہ کیے گئے ہیں اور کشمیری رہنماؤں نے اس کو روکنے کے لئے لوگوں سے اپیل کی ہے؟

دُلّت: مجھے اس بات سے اتفاق ہے کہ ان کشمیری طلباء پر حملہ کرنے سے کیا فائدہ، اس سے پلوامہ معاملہ کس طرح حل ہوگا، بلکہ اس سے کشمیر میں ہمارے لئے مسائل اور بڑھ جائیں گے۔

سوال: نوجوت سنگھ سدھو کو پاکستانی جنرل کو گلے لگانے کے لئے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس پر آپ کیا کہیں گے؟

دُلّت: سدھو جس طرح جنرل باجوا سے ملے وہ پنجابیوں کا طریقہ ہے، وہاں صرف پنجابی کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ یہ ملاقات ایک طرف کے جاٹ کی دوسرے طرف کےجاٹ سے تھی۔ میری نظر میں یہ ملاقات بہت عام سی تھی، اگر یہ ملاقات کسی کے لئے پریشانی کا سبب بن سکتی تھی تو وہ جنرل باجوا کے لئے بن سکتی تھی کیونکہ وہ یونیفارم میں تھے۔ سدھو نے صرف پنجابیوں کی طرح گرمجوشی سے ملاقات کی تھی۔ میری نظر میں سدھو کا مستقبل بہت تابناک ہے۔

سوال: کیا مرکزی حکومت جنگ کر سکتی ہے؟ اس کے کیا امکانات ہیں؟

دُلّت: مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہوگا، حکومت نے یہ ضرور کہہ دیا ہے کہ اس نے فوج کو کھلی چھوٹ دے دی ہے لیکن آج کل جنگ بہت خطرناک چیز ہوگئی ہے۔ جبکہ جنگ کے علاوہ کئی متبادل ہیں۔ ممبئی حملوں کے بعد بھی جنگ کے بادل چھائے تھے بلکہ شائد اس وقت سے زیادہ تھے، لیکن ڈاکٹر سنگھ نے جنگ نہیں کی تھی۔ اس لئے مودی کو اپنے متبادل پر غور کرنا ہوگا۔ جنگ کوئی ‘پِکنِک’ نہیں ہے۔

1971 کے بعد کوئی جنگ نہیں ہوئی، کارگل ایک بہت محدود فوجی کارروائی تھی، اونچائی پر ہونے کی وجہ سے زیادہ شہری متاثر نہیں ہوئے تھے۔ اگر آج لاہور، امرتسر یا مظفرآباد میں بمباری ہوتی ہے تو کیا ہم اس کے نتائج کے لئے تیار ہیں۔ آج کل لڑائی کے ہتھیار 1971 والے نہیں ہیں۔ منموہن سنگھ اور واجپئی نے کہا تھا کہ جنگ مسئلہ کا حل نہیں ہے، اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے پرویز مشرف نے کہا تھا کہ ہمیں بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔

سوال: اب کیا ہو سکتا ہے؟

دُلّت: سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کا کشمیر میں بہت احترام کیا جاتا ہے، وہ کوئی پاکستانی نہیں ہیں اس لئے مستقبل میں واجپئی کے راستہ پر ہی عمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے نہ تو کبھی پاکستان کے تعلق سے اور نہ کبھی کشمیر کے تعلق سے اپنی امیدیں ختم کی تھیں، میری نظر میں ان کا مودی سے زیادہ امتحان ہوا تھا۔ ان کے وقت میں کارگل، پارلیمنٹ پر حملہ، آئی سی۔814 طیارے کا اغوا جیسے واقعات رونما ہوئے تھے، لیکن انہوں نے خود کو ٹھنڈا رکھا اور ان واقعات کو اپنے اوپر حاوی ہونے نہیں دیا۔ مودی اس معاملہ میں بہت خوش قسمت ہیں کہ 5 سالہ حکومت کے دوران ان کو کوئی بڑی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا، میری نظر میں جارحانہ ڈپلومیسی کی ضرورت ہے۔ امریکہ نے پہلے ہی ہماری حمایت کر دی ہے، روس اور چین آج کل پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ایران دہشت گردانہ حملہ کی مذمت کرچکا ہے، باقی دیگر ممالک بھی اپنے نقصان اور فائدہ کے حساب سے اپنا رد عمل ظاہر کر دیں گے۔

Comments are closed.