مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سکریٹری وترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا بیان
14/فروری (بی این ایس): مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے پریس نوٹ میں کہا ہے کہ ایک بار مسترد ہو جانے کے باوجود دوبارہ تین طلاق سے متعلق بل لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا میں پیش کرنا حکومت کی ہٹ دھرمی اور اقلیت کی دل آزری کے جذبہ پر مبنی عمل کا تسلسل ہے، اور یہ صرف 2019کے الیکشن میں حقیقی مسائل کی طرف سے توجہ ہٹانے کی سازش ہے، اپوزیشن نے اس بل کی مخالفت کر کے دستور کی اور جمہوری قدروں کی حفاظت کی ہے؛ کیوں کہ موجودہ حکومت نہ صرف دستور؛ بلکہ تمام دستوری اداروں کو تباہ کرنے اور آر ایس ایس کے نظریہ کے مطابق منوواد لانے کی کوشش کر رہی ہے، اور چاہتی ہے کہ شخصی آزادی کا گلا گھونٹ دے، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ بِل کے پاس نہ ہونے کا خیر مقدم کرتا ہے، اور تمام محب وطن شہریوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ دستور کے تحفظ کے لئے متحد ہو جائیں، مولانا رحمانی نے مزید کہاکہ اس بل کو ناکام بنانے میں اس بات کا نمایاں حصہ ہے کہ بورڈ نے اس کے نقائص کو واضح اور مدلل طور پر پیش کیا اور لوگوں نے اس کی معقولیت کو محسوس کیا۔
Comments are closed.