نوٹ بندی کے دوران ہوئیں اموات کو چھپا رہی مودی حکومت، آر ٹی آئی سے ہوا انکشاف
نریندر مودی حکومت کے ذریعہ لیے گئے نوٹ بندی کے فیصلے کو دو سال سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ اس دوران لوگوں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مودی حکومت نے پورے ملک کو قطار میں کھڑا کر دیا۔ حالات یہ تھے کہ لوگ چند ہزار روپیوں کے لیے گھنٹوں بینک کے آگے کھڑے رہے۔ کسی کی شادی ٹوٹی تو کسی کا کاروبار چوپٹ ہو گیا۔ کئی گھر نوٹ بندی کی آندھی میں اجڑ گئے۔ اتنا ہی نہیں کئی لوگوں کو تو اپنی جان تک گنوانی پڑی۔ لیکن وزیر اعظم دفتر کو ابھی تک یہ نہیں معلوم کہ اس دوران ملک میں کتنی اموات ہوئیں۔ وزیر اعظم دفتر کا کہنا ہے کہ نوٹ بندی کے بعد ہوئیں اموات کے بارے میں اس کے پاس کوئی جانکاری نہیں ہے۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ ایسی کئی خبریں آ چکی ہیں جب نوٹ بندی کے دوران پیسوں کے لیے لائن میں لگے عام لوگ یا پھر ڈیوٹی پر تعینات بینک ملازم کی موت ہو گئی۔
پی ایم او میں سی پی آئی او (چیف پبلک انفارمیشن افسر) نے قومی اطلاعاتی کمیشن کے سامنے اپنی یہ بات رکھی ہے۔ دراصل ایک آر ٹی آئی دہندہ نے وزیر اعظم دفتر سے نوٹ بندی کے دوران ہوئیں اموات کی جانکاری طلب کی تھی جسے درخواست دینے کے بعد ضروری 30 دنوں کے اندر اطلاع مہیا نہیں کرائی گئی تھی۔ اس کے بعد مرکزی اطلاعاتی کمیشن اس معاملے کی سماعت کر رہی تھی جس کے تحت سی پی آئی او نے اس بات کی جانکاری دی۔
آر ٹی آئی دہندہ نیرج شرما نے وزیر اعظم دفتر میں آر ٹی آئی درخواست دے کر جاننا چاہا تھا کہ نوٹ بندی کے بعد کتنے لوگوں کی موت ہوئی۔ نیرج نے مہلوکین کی فہرست طلب کی تھی۔ لیکن پی ایم او کے ذریعہ معینہ 30 دنوں کے اندر جواب نہیں ملا۔ بعد ازاں نیرج نے سی آئی سی کا دروازہ کھٹکھٹا کر افسر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
وزیر مالیات ارون جیٹلی نے اموات کی خبروں کی تصدیق کی تھی
غور طلب ہے کہ نوٹ بندی کے وقت وزیر مالیات رہے ارون جیٹلی نے اس دوران 4 لوگوں کی موت کا اعتراف کیا تھا۔ راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں 18 دسمبر 2018 کو جیٹلی نے کہا تھا کہ دستیاب جانکاری کے مطابق نوٹ بندی کے دوران اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے تین افسران اور اس کے ایک صارف کی موت ہو گئی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ کالے دھن پر روک لگانے کے نام پر وزیر اعظم نریندر مودی نے 8 نومبر 2016 کو رات 8 بجے اعلان کرتے ہوئے 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ مودی حکومت کا یہ فیصلہ کالے دھن پر قدغن لگانے کے لیے تھا لیکن حال ہی میں آئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ وقت میں نوٹ بندی کے قبل سے بھی زیادہ کیش مارکیٹ میں ہیں۔
Comments are closed.