پاکستان وفد کا دورہ چناب ہندوپاک دوستی کے لئے نیک شگون /ڈاکٹر کمال

مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے سخت گیر پالیسی ترک کر نا وقت کی اہم ضرورت

سرینگر/03فروری/سی این آئی/ نیشنل کانفرنس نے روز اول سے ہی ہند پاک کی دوستی وکالات کرتے آئی ہیں اور ہمیشہ ہندوستان اور پاکستان کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کے پائیہ دار حل کی ضمانت بھی ہندوپاک کے خوشگوار تعلقات اور باہمی دوستی میں ہی مضمر قرار دیا ہے ۔سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطاق ان باتوں کا اظہار پارٹی کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے صوبہ جموں کے مختلف اضلاع میں پارٹی عہدیداروں اورکارکنوں کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ڈاکٹر کمال نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا ہے کہ چناب پر بنائے گئے پاور پروجکٹوں ، ڈیزائن کے تحت کام کر رہے اور پاکستانی وفود کا اظہار اطمنان اور بھارتی میزبانی کی سراہانہ کو نیک شگون قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی کہ ہندوستان اور پاکستان مستقبل میں مل بیٹھ کر اپنے تمام حل طلب مسائل خصوصاً دیرنیہ سیاسی مسئلہ ، کشمیرمسئلہ کو افہام وتفہیم کے ساتھ حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے ۔ کیونکہ مسئلہ کشمیر ہی ہندوپاک کی دوستی سب سے بڑا دیوار حائل بنا ہوا ہے ۔ مرحوم شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ اور اس کی عظیم قیادت نے زندگی بھر ہندوستان پاکستان کی مضبوطی کے لئے کلیدی رول ادا کیا اور ہمیشہ کہا کہ مضبوط پاکستان مضبوط ہندوستان کی ضمانت ہے اور مضبوط ہندوستان مضبوط پاکستان کی ضمانت ، جنگ وجدل ، بربادی اور قوموں کی تباہی ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ پاکستانی ماہرین کا تین رکنی وفد دریائے چناب پر تعمیر کئے جانے والے ہائیڈروپاور پروجکٹ منصوبوں کا جائزہ لینے کے لئے آئے تھے اور بسلامت وطن واپس پہنچ گئے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان ہندوستان کے ساتھ کھلے ذہن سے بات چیت کرنے کے مطمئن اور ہندوستانی حکومت نے بھی اس وفد کو تمام سہولیات اور سیکویرٹی فراہم کی تھی جن جن مقامات پر ماہرین سند ھ طاس مہادے کے تحت پاکستانی وفد خطہ چناب کے علاقوں میں آئے تھے ۔ سند ھ طاس آبی معادہ پاکستان کے جنرل محمد ایوب خان اور ہندوستان کے وزیر اعظم آنجہانی نہروں کے ساتھ طے ہوا تھا جب شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ جیل خانوں میں ایسری کے دن کاٹ رہے تھے ۔ڈاکٹر کمال نے مرکز کی موجودہ سرکار سے اپیل کی کہ وہ کشمیر پالیسی کے بارے میں سخت گیر پالیسی ترک کرنے کا سنہری موقع ہے اور وزیر اعظم ہند شری مودی جی کو بھی یہ موقع بھی غنیمت اور سنہری ہے کیونکہ بی جے پی حکومت کا معیاد بھی ختم ہونے والا ہے ۔ڈاکٹرکمال نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور اس کی پُر خلوص قیادت اس اصول پر قائم ودائم ہے کہ ریاست کے لوگوں کو آئین ہند کے تحت جو آئینی اور جمہوری مراعت دے گئے ۔خاص کر 35 اے اور 370 کے تحت انہیں فوری طور پر بحال کیا جائے جو بدقسمتی سے ریاست میں کانگریس میڈ سرکاروں نے بے کنی کر کے دفعہ 370 کو کھوکلا کر دیا ۔ جس میں مرحوم بخشی خاص کر مرحوم صادق قرہ کا سیاہ رول رہا اور اس کے ہم نواہ آخر مرحوم مفتی سعید جس نے اقتدار کے خاطر کشمیریت کو کھوٹے سکوں میں فروخت کیا اور افسپا لگا کر کشمیر کو قتل گاہ بنایا اور اس کی بیٹی محبوبہ مفتی نے بی جے پی جیسے ملک کی بدترین مسلم دشمن جماعت کو کشمیر میں بنیاد ڈالنے کی راہ ہموار بنا دی اور محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں کی ریکارڈ توڈ نسل کشی کروائی جس کی نشان دہی جنوبی کشمیر ہے اور کشمیر جو جنت بے نظیر کے طورپر عالم سطح پر مانا جاتا کو جہنم زار بنا یا ۔ اللہ نے قلم دوات کے فرعونی طاقتوں کی ریت سے کھڑی کی گئی عمارت جو ظلم وستم سیاسی عداوت ، بغض اور حسد کے بنا پر بنائی گئی تھی زمین بوس ہوگی ۔ انہوں نے آنے والے اسمبلی الیکشن میں نیشنل کانفرنس کے عوامی نمائندوں ہر سطح کامیاب اور کامران بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہی جماعت ریاست کے لوگوں کی واحد جماعت ہے جو کشمیر کو زندہ رکھنے کے لئے اور تینوں خطوں کے کلچر ، زبان ، ثقافت اور بھائی چارہ کی علم کو فیروزاں رکھنے کی صلاحت رکھتی ہے اور جس جماعت نے کشمیریوں کو خود اعتمادی اور خدا اعتمادی دی ۔

Comments are closed.