مژھل ،بڈھنمبل علاقوں کا زمینی رابطہ ایک ماہ سے مکمل طور پرمنقطع
سرینگر: ٹنگدار کپوارہ شاہراہ بند ہونے اور انتظا میہ کی جانب سے شاہراہ سے برف ہٹا نے کیلئے اقدامات نہ اٹھا نے پرسینکڑوں مسافروں ڈرائیوروں کندیکٹروں اور بیماروں نے باوڈر رود آرگنائزیشن اور ضلع انتظامیہ کے خلاف پی سی پی چوکہ بل میں احتجاجی مظاہرے کئے اور الزام لگایا کہ انتظامیہ کوانسا نی جانوں کاکوئی خیال نہیں ۔اے پی آ ئی نمائندے کے مطابق شدید برفباری کے باعث پچھلے 215دنوں سے کپوارہ ٹنگدار شاہراہ بندپڑی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں کپوارہ میں ٹنگڈار کرناہ اور آ س پاس علاقوں کے سینکڑوں افراد جن میں طلبہ مزدور اور بیمار تاجر بھی شامل ہیں درماندہ ہوکررہ گئے ہیں درماندہ افراد نے پی سی پی چوکی بل میں احتجاجی مظاہرے کئے اور الزام لگایا کہ ایک ماہ کاعرصہ ہونے کو قریب ہے وہ کپوارہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میٰں در ماندہ ہوکررہ گئے ہیں جبکہ کئی بیماروں کی حالت انتہا ئی نازک بنی ہوئی ہے اور ضلع انتظا میہ کی جانب سے در ماندہ سینکڑوں افراد کو کرنا ہ روا نہ کر نے کیلئے کسی بھی طرح کی کارا ئی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے جبکہ باوڈر روڈ آرگنائزیشن کپوارہ کرنا شاہراہ سے برف ہٹا نے کے خاطر کو ئی کاروا ئی عمل میٰں نہیں لا رہا ہے ۔احتجاج کرنے والوں کے مطابق وہ اپنے گھروں سے دور پڑے ہو ئے ہیں جس کی وجہ سے ہردن ان کی فکرو تشویش میں اٖضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ادھرمژھل ،بدھنمبل علاقوں کے لوگوں نے الزام لگا یا کہ ضلع انتظا میہ کی جانب سے ان علاقوں کی سڑکوں سے برف ہٹا نے کی خاطر ابھی تک کو ئی کاروا ئی عمل میں نہیں لائی اور پچھلے 20دنوں کے دوران انہیں کئی حاملہ خواتین سمیت ایک درجن بیماروں کو چارپائیوں پرا ٹھا کر اسپتال لے جایا جبکہ ایک حاملہ خاتون جودرد زہ میں مبتلا تھی بر وقت علاج نہ ملنے کے باعث دم تور گئی ۔متعلقہ علاقوں کے لوگوں نے کہا کہ ان کی نقل و حرکت محدودرہنے کے باعث انہیں طرح طرح کے مشکلات سے گزرنا پڑ تا ہے اور انتظا میہ خواب خر گوش میں پڑی ہوئی ہے۔
Comments are closed.