کشمیر ہندوستان اور پاکستان کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ/کیمرون منٹر

دونوںممالک کو چاہئے کہ وہ تنازعہ کشمیر سمیت دیگر معاملات کے حل کیلئے مذاکراتی عمل بحال کریں

سرینگر/13جنوری : سابق امریکی سفیر برائے پاکستان کیمرون منٹرنے ہندوستان اورپاکستان کے درمیان تنازعہ کشمیر کو ترقی کیلئے بہت بڑی رکاوٹ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کوچاہئے کہ تنازعہ کشمیر سمیت دیگر حل طلب مسائل کوباہمی طورحل کرنے کیلئے مذاکراتی عمل کو بحال کریں ۔ انہوںنے کہا کہ بھارت اور پاکستان امریکہ کیلئے معاشی حب ہے اور ہمیں دونوںممالک کے ساتھ معاملات بہتر رکھنے پڑرہے ہیں۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق سابق امریکی سفارت کار برائے پاکستان کیمرون منٹر نے کراچی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران ہندوستان اور پاکستان کے مابین تعلقات کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کی ترقی کے درمیان تنازعہ کشمیر ہی بڑی رُکاوٹ ہے انہوںنے کہاکہ جنوبی ایشائی خطے میںبھارت اور پاکستان ایسے دو ممالک ہیں جو اگر باہمی اعتمادسازی بحال کرنے میںکامیاب ہوجاتے ہیں تو دونوںممالک کامیابی سے ہمکنار ہوسکتے ہیںاور خطے میں تعمیر و ترقی کانیادور شروع ہوسکتا ہے ۔انہوں نے دونوںممالک کے سربراہان پر زور دیا ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر سمیت تمام حل طلب مسائل کو باہمی طور حل کرنے کیلئے مذاکراتی عمل کو پھر بحال کریں ۔کیمرون منٹر نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے ساتھ امریکہ کو اپنے تعلقات بہتر رکھنے پڑرہے ہیں کیوں کہ دونوں ممالک ہمارے لئے معاشی حب ہے ۔اور اگر دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں گے تو امریکہ کو بھی اس میںفائدہ ہوگا۔ اس دورن انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ پاکستان کے بارے میں نہیں سوچ رہی۔انکا کہنا تھا کہ بات عمران خان کی نہیں بلکہ پریشان کن بات یہ ہے کہ بہت کم لوگ پاکستان میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ اس وقت پاکستان میں دلچسپی نہیں لے رہی۔انکا کہنا تھا کہ بدقسمتی ہے امریکی انتظامیہ میں بہت کم لوگ پاکستان کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔بات عمران خان کی نہیں بلکہ پریشان کن بات یہ ہے کہ بہت کم لوگ پاکستان میں دلچسپی لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا بھارت،روس اور چائنہ کے ساتھ بھی بات چیت میں مصروف ہے۔امریکابات چیت کے ذریعے باہمی معاملات حل کرنے کا خواہش مند ہے۔انہوں نے بتایا کہ :جب میں پاکستان میں سفیرتھا تودہشت گردی سب سے بڑا مسئلہ تھا،2000 ء میں دہشت گردی پر قابو پانے کیلیے کام کیا۔تعلیم کے فروغ کیلئے اور 2012میں صحت کی بہتری کیلیے کام کیا۔سیاسی معاملات بہتر نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کے معاملات بہتر نہیں۔انکا کہنا تھا کہ پم پاکستان کی بہتری کے لیے بہت زیادہ رقم دی مگر رقم کا استعمال ٹھیک طریقے سے نہیں کیا گیا۔پاکستان کو امریکی فنڈز اچھے طریقے سے استعمال کرنے چاہیے ہیں۔سی این آئی کے مطابق انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے ساتھ ہمیں معاملات اچھے رکھنے پڑتے ہیں۔پاکستانی شہر کراچی اور انڈین شہر ممبئی ہمارے لیے معاشی حب ہیں۔انہوںنے کہاکہ بھارت اور پاکستان کو اب اپنے اپنے ممالک کے غریب عوام کا سوچناچاہئے کیوں کہ آپسی خلفشار اور کشیدگی کی وجہ سے دونوں ممالک عوام کی طرف کم ہی توجہ دے پارہے ہیں۔

Comments are closed.