شوشل میڈیا انتہا پسندوں کیلئے مالی معاونت کاذریعہ،شدت پسندی نے جنگ کی صورت اختیار کرلی
سرینگر/09جنوری: فوجی سربراہ بپن راوت نے شدت پسندی کو بھارت کیلئے ایک نیا جنگ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری نوجوان غلط معلومات کی کی بناء پر شدت پسند بنتے جارہے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ ملک کو درپیش چلینجوں میں سے شدت پسندی ایک بڑا چلینج ہے جس نے جنگی شکل اختیار کی ہوئی ہے ۔ فوجی سربراہ نے کہا کہ شوشل میڈیا انتہا پسندوں کیلئے مالی معاونت کاذریعہ بن چکاہے اور عسکری تنظیمیں سوشل میڈیا پر سرگرم ہے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق بھارتی فوجی سربراہ بپن راوت نے شدت پسندی کو ایک نئی جنگی صورت قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ شدت پسندی بھارت کیلئے ایک نیا جنگ ہے جس کا مقابلہ کرنے کیلئے موثر حکمت عملی اور جامع لائحہ اپنانے کی ضرورت کے ساتھ ساتھ منفی پروپگنڈا کا توڑ بھی ضروری ہے ۔ فوجی سربراہ نے کہا کہ ہمارا ملک ایک جمہوری ملک ہے جس میں ہر ایک مذہب سے وابستہ لوگ رہتے ہیں اور انہیں مذہبی آزادی حاصل ہے جہاں شدت پسندی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔راسائن معاملے پر پنل ڈسکشن کے دوران فوجی سربراہ نے کہا کہ ہمارے دیش کی جمہوری طاقت کے خلاف بیرانی طاقتیں سازشیں کررہی ہے اور یہاں مذہب کے نام پر لوگوں کو لڑانے کے موقوں کی تلاش میں ہر وقت رہتے ہیں تاہم بھارتی عوام ان سازشوں کے خلاف یک جُٹ ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ شدت پسندی نے ایک نئی شکل اختیار کی ہے ۔ فوجی سرراہ بپن راوت نے کشمیری نوجوانوں کے عسکری جماعتوں میں شامل ہونے حوالے سے بتایا کہ کشمیر ی نوجوان غلط معلومات کی بناء پر شدت پسندی اختیار کررہے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ کشمیری نوجوان ذہین اور محنتی ہیں جس فیلڈ میںبھی جاتے ہیں وہا ں اپنی محنت اور لگن سے کامیاب ہوتے ہیں تاہم بعض نوجوانوں کو غلط اطلاعات فراہم کی جارہی جس کی وجہ سے وہ شدت پسند بن جاتے ہیں اور پاکستان کشمیری نوجوانوں کو اپنا جنگی مہرا بنارہا ہے تاہم بھارتی فوج ان کے ان ناپاک ارادوں کو کبھی بھی کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ انہوںنے کہا کہ کشمیر نوجوان کی جانب سے جنگجوئوں کے صفوں میں شامل ہونے کا رجحان اب کافی کم ہوگیا ہے نوجوانوں کو سمجھ آگیا ہے کہ کوئی بیرونی طاقت ان کو کٹھ پتلی کی طرف نچارہی ہے اور سوشل میڈیا کا استعمال کرکے کشمیری نوجوانوں کے جذبات کو بھڑکایا جاتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ سوشل میڈیا پر غلط افواہیں پھیلانے کے رجحان کو روکنا ہوگاکیوں کہ ’’دہشت گرد‘‘تنظیمیں سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں اور ان کی فنڈی کیلئے بھی سوشل میڈیا کا استعمال کیا جاتا ہے ۔
Comments are closed.