تنازعہ کشمیر میں ناروے کی وزیر اعظم کی زوردار وکالت خوش آئند
سرینگر/09جنوری: ناروے کی وزیر اعظم اِرنا سولبرگ کے بیان کی خیر مقدم کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوزؔ نے کہا ہے کہ ’’میں ناروے کی وزیر اعظم اِرنا سولبرگ کی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دائمی دوستی اور کشمیر کے تنازعہ کو طاقت (Force)کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کرتا ہوں اور اس کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ سی این آئی کو موصولہ تحریری بیان میں پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا کہ اِرنا سولبرگ نے واشگاف الفاظ میں ہندوستان کو سمجھایا ہے کہ کشمیر میں زیادہ طاقت کے استعمال سے تشدد مزید بڑھک سکتا ہے او ر اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ کشمیر میں بات چیت کا دروازہ کھولا جانا چاہئے اور کشمیر کی لیڈر شپ کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جانے چاہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں ارنا سولبرگ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مذاکرات میں عورتوں اور نوجوانوں کے ساتھ بھی بات چیت ہونی چاہئے۔اس سے قبل ناروے کے سابق وزیر اعظم کیجل میگنے بونڈوک (Kjell Magne Bondovik جس نے حالیہ دنوں میں کشمیر کا دورہ کیا تھا، نے بھی مذاکرات کے ذریعے ہی کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی زور دار وکالت کی تھی۔ سوز کا کہنا تھا کہ چونکہ ناروے کشمیر میں مذاکرات شروع کرنے کے سلسلے میں بہت سنجیدہ ہے ، اس لئے ا س رائے کا بین الاقوامی سطح پر خیر مقدم ہوگا کیونکہ ناروے کے ایسے خیالات کا پوری دنیا میں احترام کیا جاتا ہے۔ سیف الدین سوز نے اپنے بیان میں کہا کہ امید کرنی چاہئے کہ ناروے کی اس سوچ کا ہندوستان اور پاکستان کی سول سوسائٹی بھی خیر مقدم کرے گی اور ماحول پر خوشگوار اثر پڑے گا۔ مجھے اس بات کا بھی احساس ہے کہ ہندوستان میں جو لوگ طاقت کے ذریعے امن بحال کرنا چاہتے ہیں ، وہ اپنی سوچ بدلنے پر مجبور ہوںگے اور مذاکرات کا دروازہ کھل جائے گا۔‘‘
Comments are closed.