ویڈیو: بارہویں جماعت کے سالانہ امتحانی نتائج منظر عام پر، گزشتہ دس سالوں میں پہلی بار کامیابی کی شرح فیصد کم ریکارڈ

سرینگر/08جنوری/: اسٹیٹ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی طرف سے منظر عام پر لائیں گے بارہویں جماعت کے کشمیر صوبے کے امتحانی نتائج کی شرح فیصد اگر چہ 51.77رہی جو گزشتہ دس سالوں سے سب سے کم فیصد ی ریکارڈ کی گئی ۔گزشتہ سال امتحانی نتائج کی شرح فیصد61.44تھی جبکہ سال 2017میں نتائج میں 75.47کی ریکارڈ شرح فیصد رہی ۔سی این آئی کے مطابق گزشتہ ہفتے اسٹیٹ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی طرف سے دسویں جماعت کے امتحانی نتائج کا اعلان کیا گیا تھا

Zakia Bint Zia D/o of Peer Zia Ud Din Baba of Green Valley Higher Secondary School Ellahi Bagh, Srinagar scored the first position in Commerce stream by scoring 489 marks (97.8%). She hails from District Ganderbal.

#WATCH | Zakia Binti Zia from Green Valley bag first position in Commerce stream in 12th class board examHailing from District Ganderbal, Zakia secured 489 marks (97.8%) making her parents, state proudShare & Like Our Facebook Page For Latest Updates

Posted by Tameel Irshad on Tuesday, 8 January 2019

جس کی شرح فیصد 74ریکارڈ کی گئی تھی جس کے بعد سوموار کی شام بارہویں جماعت کے امتحانی نتائج کی شرح فیصد 51.77رہی ۔ 51.77شرح فیصد کے امتحانی نتائج گزشتہ دس سالوں میں سب سے کم رہی ۔ بورڈ کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2003میں بارہویں جماعت کے امتحان میں 29546طلبہ نے شرکت کی جن میں سے14446امید وار کامیاب قرار دیں گئے اور نتائج کی شرح فیصد 48.89رہی ، سال 2004میں 34443امید وار وں نے امتحان میں شرکت کی جن میں سے 15739امید وار کامیاب ہوئے اور اس طرح سے نتائج 45.70شرح فیصدی رہی ، سال 2005کے امتحان میں 37470امیدواروں نے شرکت کی جن میں سے 16841کامیاب ہوگئے اور امتحان میں کامیابی کی شرح فیصد 44.95رہی ، اسی طرح سے سال 2006میں 36471امیدواروں نے حصہ لیا جس میں سے 18220امید وار کامیان قرار دئے گئے اور امتحان میں کامیابی کی شرح فیصد 49.96رہی ۔ سال 2007میں 40142امید وار امتحان میں شامل ہو گئے جن میں سے 17911امید وار وں نے کامیابی حاصل کی اور شرح فیصد 44.62رہی ، اسی طرح سے سال 2008کے امتحان میں 43183طلبہ شامل ہوئے جن میں سے 23102کامیاب ہوگئے اور شرح فیصد 53.50ریکارڈ کی گئی ، سال 2009کے امتحان میں 46367طلاب علم شامل ہوگئے جن میں سے 25546کامیاب قرار دیں گے اور امتحانی نتائج کی شرح فیصد 55.10رہی ۔ سال 2010کے امتحان میں 52152امیدواروں نے شرکت کی جن میں سے 288932کامیاب ہوگئے اور اس سال شرح فیصد 55.51رہی ۔ اسی طرح سے سال 2011میں 49956امیدوار بارہویں جماعت کے سالانہ امتحان میں شامل ہوگئے جن میں سے 29460امید وار کامیاب ہو گئے ۔ اور اس طرح سے اس امتحانی نتائج کی شرح فیصد 58.97رہی ، سال 2012میں 52268امید واروں میں سے 30814امید واروں کی کامیابی کے ساتھ شرح فیصد 58.95رہی جبکہ سال 2013میں 51391طلبہ میں سے 26763امید وار کامیاب ہوئے اور شرح فیصد 52.08 ریکارڈ کی گئی ۔سال 2014میں52751طلاب نے امتحان میں شرکت اور 29109امید وار کامیاب ہوگئے اور اس سال 55.18شرح فیصدرریکارڈ کی گئی ۔ سال 2015میں 51908امیدواروں میں سے 29648امید وار کامیاب ہو گئے اور نتائج کی شرح 57.19ریکار ڈ کی گئی ۔سال 2016کے امتحان میں کل مل کر 53159امید وار شامل ہوگئے جن میں سے 40119امید وار کامیاب قرار دیں گے اورا س طرح سے امتحانی نتائج میں کامیاب شرح فیصد 75.47رہی جو 16سالوں کی سب سے زیادہ شرح فیصد ریکار ڈ کی گئی ۔ا سی طرح سے سال 2017میں 55163امید وار امتحان میں شامل ہوگئے جن میں سے 33893کامیاب قرار دیں گے اور اس طرح سے اس سال کامیاب شرح فیصد 61.44رہی جبکہ سال 2018میں کل مل کر 69982امید واروں نے امتحان میں شرکت کی جن میں سے 36227کامیاب ہوئے اور اس طرح سے امتحانی شرح فیصد 51.77رہی جو کہ گزشتہ دس سال میں سب سے کم ریکارڈ کی گئی ۔

Comments are closed.