نیشنل کانفرنس 35اے کے معاملے میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریگی: ۔ساگر

سرینگر 3جنوری: نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ 35اے ہمارے لئے موت و حیات کا سوال ہے اور اس کے دفاع کیلئے نہ صرف نیشنل کانفرنس بلکہ ریاست جموں وکشمیر کا بچہ بچہ بھی سڑکوں پر آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس 35اے کے معاملے میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریگی ۔ یہ دفعہ ہماری وحدت،انفرادیت اور شناخت ہے اور ہماری جماعت اس کا دفاع کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے ۔سی این ایس کے مطابق نیشنل کانفرنس ضلع بڈگام کی مجلس عاملہ کا ایک اجلاس آج مجاہد منزل بڈگام میں جنرل سکریٹری علی محمد ساگر کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈر و سابق وزیر خزانہ عبدالرحیم راتھر، شمالی زون صدر علی محمد ڈار، نائب صدر شمالی زون منظور احمد وانی، ضلع صدر بڈگام حاجی عبدالاحد ڈار، سینئر لیڈر محمد ابراہیم کے علاوہ بلاک صدورصاحبان اور مجلس عاملہ کے ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس میں پارٹی سرگرمیوں،پارٹی پروگراموں اور زمینی صورتحال کے علاوہ لوگوں کو درپیش مسائل ومشکلات کو بھی اُجاگر کیا گیا۔ مجلس عاملہ کے شرکاء نے کہا کہ ضلع کے لوگ اس وقت زبردست مسائل ومشکلات سے دوچار ہیں، بجلی کی بدترین سپلائی پوزیشن سے صارفین پریشانِ حال ہیں ،پانی کی قلت کیخلاف عوام آئے روز سڑکوں پر آکر احتجاج کررہے ہیں جبکہ بے روزگاری کا گراف ہر گزرتے دن کیساتھ بڑھتا جارہا ہے۔ اجلاس کے شرکاء نے راشن گھاٹوں پر چینی کی سپلائی بند کئے جانے پر بھی زبردست برہمی کا اظہار کیا اور گورنر انتظامیہ کے اس فیصلے کو عوام کش قرار دیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علی محمد ساگر، ناصر اسلم وانی اور عبدالرحیم راتھر نے کہا کہ ریاست کے لوگ اس وقت گوناگوں مشکلات سے دوچار ہیں۔ جو سہولیات لوگوں کو ماضی میں آسانی سے میسر رہتی تھیں گذشتہ چند برسوں ان سہولیات کی فراہمی بد سے بدتر ہوتی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ3سال سے بجلی کا بحران سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے کیونکہ سابق پی ڈی پی بھاجپا حکومت نے بجلی کی سپلائی پوزیشن بڑھانے کیلئے کوئی کام نہیں کیا۔ ایسے ہی پانی کی قلت کا مقابلہ کرنے کیلئے کوئی بھی واٹر سپلائی سکیم متعارف نہیں کی گئی۔ لیڈران نے کہا کہ جی ایس ٹی کا اطلاق عمل میں لاکر سابق پی ڈی پی حکومت نے نہ صرف جموں وکشمیر کی مالی خودمختاری ختم کردی بلکہ ریاست کو اقتصادی بدحالی کی نذر کردیا۔ جی ایس ٹی کے اطلاق سے بڑی تعداد میں چھوٹی صنعتیں بند ہوگئی، دستکاری کو بھی زبردست دھچکا لگا جبکہ تاجر اور دکاندار بھی بری طرح متاثر ہوئے جو بے روزگاری کا سبب بھی بنا ۔ پی ڈی پی نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کرنے کے وعدے کو بھی پورا نہیں کرپائی اور اس دوران بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگیا۔ لیڈران نے پارٹی سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ پارٹی کی مضبوطی کیلئے کام کریں اور لوگوں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں ۔ اجلاس کے اختتام پر جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ 35اے ہمارے لئے موت و حیات کا سوال ہے اور اس کے دفاع کیلئے نہ صرف نیشنل کانفرنس بلکہ ریاست جموں وکشمیر کا بچہ بچہ بھی سڑکوں پر آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس 35اے کے معاملے میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریگی ۔ یہ دفعہ ہماری وحدت،انفرادیت اور شناخت ہے اور ہماری جماعت اس کا دفاع کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔اس دوران یشنل کانفرنس خواتین ونگ کی ریاستی صدر اور سابق ایم ایل اے حبہ کدل ایڈوکیٹ شمیمہ فردوس نے آج شہر خاص کے درجنوں علاقوں ، جن میں حبہ کدل، گنپت یار، فتح کدل، بابہ ڈیمب، باباپورہ، شیشہ یار، چند پورہ وغیرہ شامل ہیں، کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے لوگوں کے مسائل و مشکلات سنے اور تعمیراتی کاموں کا جائزہ بھی لیا۔ لوگوں نے جگہ جگہ پر سڑکوں کی خستہ حالی، راشن اور پانی کی قلت اور بجلی کی نایابی کے بارے میں شکایات کی۔ لوگوں نے بتایا کہ وقت پر فیس ادا کرنے کے باوجودبھی بجلی کی سپلائی پوزیشن میں بہتری نہیں آرہی ہے۔ تعمیراتی کاموں کی سست رفتاری پر زبردست برہمی کا اظہار کرتے ہوئے شمیمہ فردوس نے کہا کہ میں نے بحیثیت ایم ایل اے اپنے سی ڈی ایف میں سے متعدد ترقیاتی کاموں کیلئے رقومات فراہم کئے لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر کام بند ہے۔ بہت سارے پروجیکٹوں ، جن میں روڑ کی کشادگی بھی شامل ہے، پر کام شروع نہیں کیا جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ حکام کی نوٹس میں لانے کے باوجود بھی لیت و لعل سے کام لیا جارہاہے۔ شمیمہ فردوس نے صوبائی کمشنرا ور ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر پر زور دیا کہ وہ ذاتی دلچسپی لیکر حلقہ انتخاب حبہ کدل کے رکے پڑے کاموں کو فوری طور پر بحال کروائیں۔ دریں اثناء انہوں نے کرفلی محلہ ڈلسنیار میں آگ کی بھیانک واردات میں 6مکانات کے خاکستر ہونے پر گہرے صدمے کا اظہار کیا اور آتشزگان کیساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر کیساتھ رابطہ کرکے متاثرین کی فوری بازآبادکاری کی اپیل کی۔

Comments are closed.