ملک کے عوام کو یہ نہیں لگتا کہ کشمیر کے حوالے سے یہ ایک جائز سوال
سرینگر/03جنوری : ریاست جموں و کشمیرکے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے کارگزار صدر عمرعبداللہ نے وزیر اعظم نریندر مودی پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کے مخدوش حالات کے بارے میں بتاسکتے ہیں کہ اس کے خاتمہ کیلئے آج تک کوئی کوشش کیوں نہ کی گئی ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ریاست جموں و کشمیرکے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے کارگزار صدر عمر عبداللہ نے سماجی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی سے کوئی ایک پوچھنا والا نہیں ہے کہ 2014کے بعد ریاست جموں و کشمیر میں حالات مخدوش کیوں ہوئے اور آج تک کشمیر کے حالات میں سدھار لانے کیلئے اقدامات کیوں نہ اُٹھائے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کیا پورے ملک کویہ بات معلوم نہیں ہے کہ یہ ایک جائز سوال ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی والی مرکزی سرکار نے آج تک کشمیرمیں قیام امن کیلئے کون سا قدم اُٹھایا ہے ۔ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے حالات دن بدن بدتر ہوتے جارہے ہیں لیکن مرکزی سرکار اس کو عام حالات کے بطور لے رہی ہے جو کہ بلکل منفی اپروچ ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر باالخصوص وادی کو اس نازک اور دردناک دور سے نکالنے کیلئے ہمدردرادنہ غور کرنے کی ضرورت ہے اور یہاں کے عوام کے دکھ درد اور تکالیف کو دور کرنے کیلئے فوجی آپریشن حل نہیں ہے بلکہ لوگوں کے جذبات اور احساسات کو سمجھ کر غیر فوجی اقدام اُٹھانے کی اشد ضرورت ہے ۔ یکم جنوری کو اپنے ٹیوٹر پر تحریر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نرنیندر مودی کو کشمیر کے مسئلے پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا ۔
Comments are closed.