مودی جی ، آپ کا اندازہ ٹھیک نہیں ہے !، آپ نے تشدد کے خلاف کوئی بہتر طریقہ اختیار نہیں کیا ہے: سوزؔ

سرینگر؍03 جنوری: کانگریس کے سینئر لیڈر کا کہنا ہے کہ’’ میں نے مودی جی کے اس دعویٰ پر کہ انہوں نے جموں وکشمیر میں تشدد کے خلاف کاروائی کرنے کا بہترین طریقہ استعمال کیا ہے ،پر کافی غور کیااور میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مودی جی کا دعویٰ بالکل غلط ہے۔مودی جی اور اُن کے جنرل اس بات پر ڈٹے رہے کہ کشمیر میں زیادہ سے زیادہ فورس استعمال کیا جائے اور اُسی دعویٰ کے مطابق انہوں نے دو بار سرجیکل سٹرائک کی دلیل بھی دی تھی جبکہ یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ سرجکل سٹرائک دونوں طرف سے بورڈر پر استعمال ہوتی رہی ہے۔ اب صرف یہ ہوا ہے کہ دعویٰ کے سلسلے میں تشہیر بازی اور بہت پرچار ہوا ہے !نئی بات صرف یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ فورس (Force) استعمال ہوا ہے اور اُس کا نتیجہ خود آرمی کمانڈروں کے بیانات اور پولیس کے اعتراف کے مطابق کشمیر میں ملی ٹینسی روزبروز بڑھ رہی ہے!وزارت داخلہ کے اپنے اعداد و شمار جو انہوں نے اپریل اوراگست 2018ء ؁ میں شائع کئے ، کے مطابق عام شہریوں اور فورسز کی اموات 2014ء ؁ سے لگاتار بڑھ رہی ہیں۔فوج کے کئی اعلیٰ کمانڈروں اور ریٹائرڈ کمانڈروں نے لگاتار یہ بات سمجھائی ہے کہ تشدد کو بندوق کے ذریعے نہیں بلکہ دماغوں میں چھپی ہوئی پریشانی کا علاج کرنے سے ہوتا ہے۔ اس لئے، مصالحت کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اُن پریشانیوں کو پہنچان لیا جائے اور اُس کا علاج کیا جائے۔ اس سلسلے میں بہترین راستہ تو یہی ہے کہ کشمیر میں مصالحت کا عمل شروع ہو جائے جس کیلئے بامعنی مذاکرات (Dialogue) نہایت قابل عمل طریقہ ہے ۔ میں نے بارہا کہا ہے کہ بامقصد مذاکرات کیلئے حکومت ہند کو فوراًحریت کی نمائندہ جماعت متحدہ مزاحمتی قیادت (Joint Resistance Leadership) کے ساتھ بات چیت کا دروازہ کھولنا چاہئے!یہ بات مودی جی اور اُن کے جنرل جتنا جلد سمجھ لیں گے ، اُتنا ہی اُن کیلئے بہتر ہے۔ ‘‘

Comments are closed.