ویڈیو: سال نو کی پہلی خونین معرکہ آرائی : گلشن پورہ ترال جنگلات میں تین مقامی حزب جنگجو جاں بحق ، فوجی اہلکار ہلاک ، تین زخمی
جھڑپ کے دوران اور ما بعد پُر تشدد احتجاجی مظاہرے ، ٹیر گیس شلنگ اور پیلٹ فائرنگ ، ایک درجن مضروب
سرینگر/03جنوری /سی این آئی/ سال نو کی پہلی خونین معرکہ آرائی میں جنوبی قصبہ ترال کے گلشن پورہ جنگلات میں فورسز اور جنگجوئوں کے مابین مسلح تصادم آرائی میں عسکری تنظیم حزب المجاہدین سے وابستہ تین مقامی جنگجو جاں بحق ہو گئے۔جبکہ طرفین کے مابین گولیوں کے تبادلے میں ایک فوجی اہلکار ہلاک جبکہ دو دیگر شدید زخمی ہو گئے ۔ جھڑپ کے ساتھ ہی قصبہ ترال کے کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی اور مشتعل مظاہرین اور فورسز کے مابین شدید پتھرائو اور ٹیر گیس شیلنگ ہوئی جس دوران درجنوں افراد مضروب ہوگئے ۔ اسی دوران جھڑپ شروع ہوتے ہی ترال اور اونتی پورہ علاقوں میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل کی گئی ۔ سی این آئی کو دفاعی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گلشن پورہ ترال جنگلات میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج و فورسز ، سی آر پی ایف اور ایس او جی نے علاقے کوجمعرات کی اعلیٰ صبح محاصرے میں لیا اور وہاں جنگجو مخالف آپرین شروع کیا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں اُس گولیوں کی گن گرج سنائی دی جب جنگلات میں محصور جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان جھڑپ شروع ہوئی ۔معلوم ہوا ہے کہ فورسز اور جنگجوئوں کے مابین گولیوں کا کا تبادلہ کچھ دیر تک جاری رہا جس دوران فورسز نے چھپے بیٹھے جنگجوئوں کو سرنڈر کرنے کی پیشکش کی تاہم وہ بضد رہے جس دوران طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ابتدائی جھڑپ میں عسکری تنظیم حزب المجاہدین سے وابستہ دو جنگجو جاں بحق ہو گئے جبکہ تین فورسز اہلکار بھی زخمی ہو گئے جن میں سے ایک کو ہوائی خدمات کے ذرایعے ادھم پورہ کے فوجی اسپتال علا ج و معالجہ کیلئے منتقل کیا گیا ۔جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔ ادھر کچھ دیر گولیوں کا تبادلہ رک جانے کے بعد فورسز اور جنگجوئوں کے مابین ایک مرتبہ پھر جھڑپ شروع ہوئی ۔ ذرائع نے بتایا کہ جھڑپ شروع ہونے کے ساتھ ہی فورسز نے جنگلات کا محاصرہ وسیع کردیا جبکہ فورسز کی مزید کمک طلب کرکے جنگجوئوں کے فرار ہونے کے تمام راستے سیل کر دئے ۔ جبکہ جنگجوئوں کے خلاف آپریشن حتمی مرحلے میں داخل ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق جونہی علاقے میں گولیوں کا تبادلہ تھم گیا تو جھڑپ کے مقام سے مزید ایک جنگجو کی نعش بر آمد کی گئی اس طرح سے جھڑپ میں کل مل کر تین جنگجو جاں بحق ہوئے جن کی شناخت شکور احمد عرف جعفر ساکنہ لری بل ترال ، توصیف احمد ٹھوکر عرف طلحہ اور ززبیر احمد عرف حمزہ ساکنہ چرسو اونتی پورہ کے بطورہوئی ۔۔ ذرائع کے مطابق جھڑپ میں مارے گئے جنگجوئوں کا تعلق عسکری تنظیم حزب المجاہدین سے تھا۔ اور ان کے قبضے سے بھاری مقداد میں اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کیا گیا ہے ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ابھی علاقے میں خونین معرکہ آرائی جاری تھی کہ ترال کے درجنوں علاقوں میں دوجنگجوئوں کے جاں بحق ہونی کی خبر جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی اور بڑی تعداد میں نوجوان سڑکوںپر نکل آئے او رپولیس و فورسز پر سنگ باری شروع کی ۔تشدد پر اُتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے پولیس و فورسز نے آنسو گیس کے گولے داغے ، پیلٹ گولیوں اور پیپر گیس کا بھی استعمال کیا تاہم صورتحال قابو سے باہر ہوگئی اور پولیس وفورسز نے سڑکوں پرنکل آنے والے نوجوانوں اور سنگ باری کرنے والوں کو منتشر کرنے کیلئے ہوا میں گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں پولیس و فورسز کی جانب سے گولیاں چلانے کے دوران مبینہ طور پر 12افراد شدید طور پر زخمی ہوئے جن میں سے کئی ایک اور سرینگر علاج و معالجہ کیلئے منتقل کیا گیا ۔ْ۔جھڑپ میںجاں بحق جنگجوئوں کی خبر پھیلتے ہی درجنوں علاقوں میں پرتشدد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا اور پلوامہ کے بیشتر علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز ہوگئے اور پبلک و نجی ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہوگئی۔ مختلف کاموںکے سلسلے میں اپنے گھروں سے باہرنکلنے والے لوگ عجلت میں واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئے اسی دوران سبب جنوبی کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال کے سبب اہلیان وادی انتہائی بے قراراور بے چین نظر آئے۔ پولیس کے ایک سنیئر افسر نے جھڑپ میں جنگجوئوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جھڑپ میں جاں بحق جنگجوئوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولی بارود ضبط کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جھڑپ کے دوران کئی فوج اہلکاربھی زخمی ہو گئے جن کو اگرچہ علاج و معالجہ کیلئے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زندگی کی جنگ ہار گیا ۔
Comments are closed.