ریاست میں نافذ العمل ’’افسپا ‘‘میں ترمیم کا وقت ابھی نہیں آیا : فوجی سربراہ بپن راوت

بھارت کی فوج دنیا میں ڈسپلنڈ فوج میں شمار ہوتی ہے ، انسانی حقوق سے بخوفی واقف

سرینگر/03جنوری : فوجی سربراہ بپن راوت نے کہا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر اور مشرقی ریاستوں میں نافذ العمل ’افسپا‘ میں ابھی ترمیم کا وقت نہیں آیا ہے اور فوج ریاست جموں و کشمیر میں بڑی کامیابی کے ساتھ جنگجو مخالف آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ ریاستی عوام فوج کو اپنا بھر پور تعاون فراہم کررہی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ فوجی آپریشنوں کے دوران فوج عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے صبر و تحمل سے کام لے رہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہماری فوج دنیا کی ڈسپلنڈ فوج میں شمار ہورہی ہے تاہم اس کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیامانیٹرنگ کے مطابق افسپا میں کسی قسم کی ترمیم یا اس ایکٹ کو کاالعدم قراردینے سے صاف انکار کرتے ہوئے فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر میں افسپا میں کسی قسم کی ترمیم کا ابھی وقت موزون نہیں ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر میں فوج نامساعد حالات سے نمٹتے وقت فوج انسانی حقوق کا خاص خیال رکھتی ہے ۔ فوجی سربراہ بپن راوت کا کہنا تھا کہ ریاست جموں و کشمیر و دیگر مشرقی ریاستوں سے افسپا کی منسوخی کیلئے بہت سی آوازیں اُٹھ رہی ہیں تاہم جب اس طرح کے حالات سازگار ہونگے تب اس ایکٹ کی فوج کو ضرورت نہیں رہے گی تو فوج خود ہی اس ایکٹ کے کاالعدم کیلئے سفارش کرے گی۔ انہوںنے کہا کہ فوج کو حاصل خصوصی اختیاریات سے بے شک فوج کو کئی طرح کے ملٹنسی آپریشن عملانے میں آسانی ہوتی ہے تاہم اس کا یہ مطلب نہیںکہ فوج انسانی حقوق سے ناواقف ہے ۔ فوجی جنرل کا کہنا تھا کہ فوج لوگوں کے حقوق اور اپنے فرائض سے بخوبی واقف ہے ۔ بپن راوت نے کہا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں فوج جنگجوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں انجام دے رہی ہے اور ریاستی عوام فوج کو اپنا بھر پور تعاون فراہم کررہی ہے جس کے نتیجے میں فوج کامیابی سے ہمکنار ہورہی ہے ۔ فوجی سربراہ کا کہنا ہے کہ فوج آپریشنوں کے دوران عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے صبر وتحمل سے کام لے رہی ہے ۔ اور فوج پر جو انسانی حقوق کی پامالیوں کا الزام لگایا جارہا ہے وہ بے بنیاد ہے کیوں کہ ہماری فوج دنیا کی ڈسپلنڈ فوج میں شمار ہوتی ہے ۔ فوجی سربراہ بپن راوت نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر اور بھارت کی دیگر مشرقی ریاستوں میں فوج کو حاصل خصوصی اختیارات کو ختم کرنے اور اس میں ترمیم کرنے کیلئے مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں آواز اُٹھاتی ہے لیکن ہم ان کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ جب وقت آئے گا فوج اس ایکٹ کو خود ہی تیاگ دے گی ۔ انہوںنے کہا کہ فوج اس کوشش میں ہے کہ ان ریاستوں میں حالات بہتر ہوں اور اس کیلئے فوج کو کوئی قانونی تحفظ لازمی ہونا چاہئے تاکہ فوج بغیر کسی رُکاوٹ کے کام کرے ۔انہوں نے کہا کہ فوجی آپریشن کے علاوہ فوج کئی طرح کے سماجی پروگرامات پر بھی کام کررہی ہے جس کی اپرسیشن ہونی چاہئے تاہم فوج کی سماجی خدمات کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔

Comments are closed.