موجودہ سائنسی اور ڈیجٹل دور میں اردو صحافت کو مشکلات و چلینج کا سامنا
سرینگر/26دسمبر /سی این آئی: صحافت کی اہمیت کو ہردور میںتسلیم کیا گیا ہے، ہماری سماجی، سیاسی ،معاشرتی، تہذیبی اوراقتصادی زندگی پر جس شدّت کے ساتھ اس کے اثرات مثبت اورمنفی دونوں طریقے سے مرتسم ہوتے رہے ہیں،اس کا بہر حال اعتراف کرنا ہوگا۔صحافتی میدان میں زبانوں کا بھی ایک اہم رول ہے جس میں اردو زبان بھی شامل ہیں تاہم موجودہ دور میں اردو صحافت کو کئی چلیجنوں اور مشکلات کا سامنا ہے ۔ آج کل کے دور میں انسان تیز تر زندگی گزار رہا ہے اور وقت کی قلت کی وجہ سے لمبے چوڑے مضامین پڑھنے کیلئے اس کیلئے وقت نہیں ہے اس لئے جدید صحافت کا تقاضہ ہے کہ اپنے پڑھنے والوں کو مختصر الفاظ میں جامع واقع سے روشناس کرائیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق صحافت کی اہمیت کو ہردور میںتسلیم کیا گیا ہے، ہماری سماجی، سیاسی ،معاشرتی، تہذیبی اوراقتصادی زندگی پر جس شدّت کے ساتھ اس کے اثرات مثبت اورمنفی دونوں طریقے سے مرتسم ہوتے رہے ہیں،اس کا بہر حال اعتراف کرنا ہوگا۔صحافتی میدان میں زبانوں کا بھی ایک اہم رول ہے جس میں اردو زبان بھی شامل ہیں تاہم موجودہ دور میں اردو صحافت کو کئی چلیجنوں اور مشکلات کا سامنا ہے ۔ آج کل کے دور میں انسان تیز تر زندگی گزار رہا ہے اور وقت کی قلت کی وجہ سے لمبے چوڑے مضامین پڑھنے کیلئے اس کیلئے وقت نہیں ہے اس لئے جدید صحافت کا تقاضہ ہے کہ اپنے پڑھنے والوں کو مختصر الفاظ میں جامع واقع سے روشناس کرائیں ۔ صحافت ترسیل وابلاغ کا اتنا مؤثراور طاقتور ذریعہ ہے، اورواقعات حاضرہ کی معلومات بہم پہنچانے کااتنا بہتر وسیلہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے سماجی پیشوا، سیاسی رہنما اور مشاہیرادب نے نہ صرف اس کی بھرپور طاقت کے سامنے سرتسلیم خم کیا بلکہ اپنے افکار واظہار کی تشہیر کے لیے صحافت سے منسلک بھی رہے ، تواریخ شاہد ہے کہ صحافت نے کتنے ہی ملکوں کے تختے پلٹ دیے، بڑے بڑے انقلابات کوجنم دیا، اورظالم حکمرانوں کے دانت کھٹّے کردیے۔ عالمی پیمانہ پر ایسے کئی مقام آئے، جب صحافت کی بے پناہ طاقت، اس کی عوامی مقبولیت اوراس کی تنقید سے خوف زدہ ہوکر اس پرپابندیاں عاید کی گئیں۔ صحافت نے جیسے جیسے ترقی کی ، ویسے ویسے اس کی مقبولیت، اہمیت اورافادیت بڑھتی گئی اورلوگوںکومتوجہ کرانے میں کامیاب ہوتی گئی اورایک وقت ایسا آیا، جب لوگ صبح آنکھ کھلتے ہی اخبارتلاش کرنے لگے۔ اس طرح صحافت انسانی زندگی کا ایک حصہ بن گئی۔ صحافت اتنی مؤثر اور طاقتورہے کہ اس کے سامنے تیر، کمان، بندوق اورتوپ بھی بے کارہیں۔ تاریخ کے جانے مانے جرنیل اور اپنے عہد کے عظیم ڈکٹیٹر نیپولین بونا پاٹ کا وہ مشہورمقولہ ہوگا، جس میںاس نے صحافت کی طاقت کے سامنے سرنگوں ہوتے ہوئے کہا تھا کہ’’لاکھوں سنگینوںسے زیادہ میں تین اخبار سے خوف زدہ رہتا ہوں‘‘۔نیپولین بوناپاٹ کا مندرجہ بالا خوف یقینی طورپر صحافت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اس نے ضرور اس بات کومحسوس کیا ہوگا کہ دشمن کی صفوں میںانتشاربرپا کرنے میں توپ اورتفنگ، لائو لشکر، تیر، تلوار کے ساتھ ساتھ ہاتھیوں، گھوڑوں اورفوجیوں کی بے پناہ طاقت، صحافت (اخبار) کے سامنے کند ہے۔ جو کام صحافت سے لیا جاسکتا ہے،وہ توپ اوربندوقوںسے بھی نہیں لیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے عظیم مفکر، دانشور، سربراہ، مصلح، سیاستداں اوررہنما اس کی اہمیت کے معترف اورقائل رہے ہیں۔ اس کی سیکڑوںمثالیں عالمی طورپر ہمیں دیکھنے کوملتی ہیں۔ہم پہلے اپنے ہی ملک کی صحافت کی تاریخ کو دیکھیںتواندازہ ہوگا، کہ کیسی کیسی جیّد اورسرکردہ شخصیتوں نے صحافت سے اپنے افکار و اظہار کی ترسیل وابلاغ کے لیے کام لیے۔سی این آئی کے مطابق بابائے صحافت ڈینیل۔ڈی فو(Daniel Defoe)وغیرہ ان لوگوںنے صحافت سے جڑکر نہ صرف اپنے گہرے مطالعہ ومشاہدہ اورفکروفلسفہ سے صحافت کا مقام بلند کیا، بلکہ صحافت کواپنے خیالات وافکار کاذریعہ ٔ اظہاربناکر اپنی شخصیت اوراپنی فکرسے دنیا کے سامنے اپنی ایک منفرد پہچان بنانے میںکامیاب رہے اورجب انہیں یہ کامیابی مل گئی توپھروہ عملی میدان میں اترے اوربڑے بڑے معرکے سر کیے۔ ہمارے سامنے ایسی بھی مثالیںموجودہیں کہ دنیا کے بڑے بڑے سربراہوں نے حکومت کے بجائے صحافت کوترجیح دی۔یونائٹیڈ اسٹیٹس آف امریکہ(U.S.A.)کے تیسرے صدر ٹامس جیفرسن (Thomas Jafferson) کا ذکراس سلسلے میںکئی جگہ کیا گیاہے۔ اس نے کہا تھا:’’اگر اس بات کا فیصلہ صرف مجھ پر ہی چھوڑا جائے کہ کیا ہمیں بغیر اخباروںکے حکومت منظور ہے یا کوئی ایسی صورت کہ جس میںاخبارموجود ہوں اورحکومت نہ ہو،تو میںدوسری صورت کے حق میںفیصلہ سنانے میںایک لمحے کی بھی دیر نہیں کروں گا‘‘ٹامس جیفرسن کے اس خیال کے پیچھے یہ احساس ضرور پوشیدہ رہا ہوگاکہ صحافت نہ صرف ملک وقوم کی آئینہ دارہوتی ہے بلکہ سیاسی، سماجی، معاشرتی،ثقافتی، اقتصادی، تہذیبی اورتمدنی قدروں کی ترجمان بھی ہوتی ہے اور چونکہ ترقی یافتہ ملکوںمیںرائے عامہ ّ منظم ہے، اس لیے ان تمام قدروں کی افادیت، رائے عامہ ّکے خوف سے بھی ہوتی ہے اورحقیقت بھی یہی ہے کہ رائے عامہّ ہی کسی بھی ملک کی حکومت کی سچی اورکھری پہچان ہے—حکومتیں کتنی ہی مضبوط اور مستحکم کیوںنہ ہوں،ان کا وجود اوران کی بقا عوامی رائے عامہ ّ پرمنحصر ہوتی ہے اورعوامی رائے عامہ ّ کوتربیت دینے میںصحافت کا رول اہم ہوتا ہے۔صحافتی میدان میں دنیا بھر میں مختلف زبانوں کا رول رہا ہے جس میں عالمی سطح پر اردو زبان نے صحافتی میدان میں تواریخی مقام حاصل کیا ہے تاہم موجودہ جدید سائنسی اور ڈیجٹل دور میں اردو صحافت اور صحافیوں کو صحافت کے نئے تقاضوں کے مطابق کام کرنا چاہئے اور جس طرح دیگر بین الاقوامی زبانیں صحافتی میدان میں نئے نئے تجربات کرتے ہیں اردو صحافت سے وابستہ افراد کو بھی پُرانے جھولے نکال کر نئے زمانے کے ساتھ چلنا چاہئے ۔ آج کل کے دور میں انسان تیز تر زندگی گزار رہا ہے اور وقت کی قلت کی وجہ سے لمبے چوڑے مضامین پڑھنے کیلئے اس کیلئے وقت نہیں ہے اس لئے جدید صحافت کا تقاضہ ہے کہ اپنے پڑھنے والوں کو مختصر الفاظ میں جامع واقع سے روشناس کرائیں ۔
Comments are closed.