حزب کمانڈر ریاض نائیکو کے گاؤں اونتی پورہ اور پلوامہ کے ایک درجن گاؤں میں جنگجو مخالف آپریشن

تلاشی کے دوران گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں، ملی ٹینٹ فرار ہونے میں کامیاب۔ ڈرون کے ذریعے مسلسل چھ گھنٹے تک علاقے کی نگرانی کی گئی

سرینگر؍26 دسمبر ؍ جے کے این ایس؍ فورسز نے پلوامہ اور اونتی پورہ کے ایک درجن گاؤں میں اعلیٰ الصبح جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا جس دوران حزب المجاہدین کی ایک کمین گاہ کو تباہ کیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ جنگجو مخالف آپریشن کے دوران زور دار دھماکہ اور گولیاں چلنے کی بھی آوازیں سنائی دیں۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ ملی ٹینٹ فورسز کا محاصرہ توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔جے کے این ایس کے مطابق عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے بدھ اعلیٰ الصبح اونتی پورہ اور ترال کے ایک درجن علاقوں میں بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کیا۔ ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز نے جونہی اونتی پورہ کے بھدر یون نامی علاقے میں تلاشی کارروائی شروع کی اس دوران گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں اور زور دار دھماکہ بھی ہوئے۔ ذرائع کے مطابق فورسز نے اضافی کمک طلب کرکے آس پاس گاؤں کو بھی سیل کرکے ڈرون کے ذریعے علاقے پر نگرانی کی تاہم اس دوران عسکریت پسندوں کا کوئی پر اتہ پتہ نہیں چل سکا۔ ذرائع نے بتایا کہ حزب کمانڈر ریاض نائیکو اور اُس کے ساتھیوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا تاہم اس دوران ملی ٹینٹوں کا کئی پر اتہ پتہ نہیں چل سکا۔ نمائندے کے مطابق مسلسل چھ گھنٹے تک سیکورٹی فورسز نے گاؤں کی تلاشی لی تاہم کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ ادھر پولیس ذرائع نے بتایا کہ فورسز نے بدھ کو جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں جنگجوؤں کی ایک کمین گاہ تباہ کردی۔یہ کارروائی فورسز کے تلاشی آپریشن کے دوران عمل میں لائی گئی جو آج صبح اونتی پورہ کے بھدریون نامی علاقے میں شروع کیا گیا تھا۔ذرائع نے کہا کہ بھدریون، حزب المجاہدین کے آپریشنل چیف ریاض نائیکو کے گھر ،واقع بیگ پورہ کے نزدیک ہی واقع ہے۔اس سے قبل فورسز نے اونتی پورہ میں بھدریون علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی کارروائی شروع کی۔پولیس ذرائع کے مطابق یہ آپریشن علاقے میں جنگجوؤں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد شروع کیا گیاتھا۔مقامی ذرائع نے کہا کہ جنوبی کشمیر کے بیشتر علاقوں میں فورسز آپریشن کے بعد انٹر نیٹ سروس معطل کی گئی۔

Comments are closed.