ہر روز بڑی بے دری سے انسانی لہو بہایا جاتا ہے ؛ صحرائی

خون کی پیاسی سرزمین پلوامہ کو خونِ ناحق سے سیراب

سرینگر / 15دسمبر: چیرمین تحریک حریت محمد اشرف صحرائی نے سرنو پلوامہ میں فورسز کی طرف سے نہتے شہریوں پر اندھا دھند گولیاں چلاکر قیامت صغریٰ بپا کرکے 9عام شہریوں اور 3مجاہدین کو جا بحق کئے جانے پر سخت دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کے خون کی پیاسی فوج نے سرزمین پلوامہ کو خونِ ناحق سے سیراب کیا۔ انہوں نے کہا کہ مظلوم ومحکوم کشمیری قوم کو روز بھارتی فورسز کی ننگی جارحیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہر روز بڑی بے دری سے انسانی لہو بہایا جاتا ہے اور آئے روز خونِ مظلوماں بہانے میں تیزی لائی جارہی ہے۔ صحرائی نے کہا کہ دنیا کے انصاف پسند اور انسانی حقوق کی پامالی پر احتجاج کرنے والے باضمیر اقوام اور افراد کو جموں کشمیر میں ہونے والی ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لینا چاہیے کہ کس طرح کشمیریوں کا لہو ارزاں بنادیا گیا ہے۔ روز جموں کشمیر کے عوام کے جائز اور مبنی برحق وصداقت کے مطالبہ حقِ خودارادیت کو دبانے کے لیے بھارتی حکمرانوں نے جموں کشمیر کے عوام کو من حیث القوم صفحۂ ہستی سے مٹانے کا جو منصوبہ طے کیا ہے اس منصوبے کو عملانے کے لیے وقت وقت پر نہتے عوام کے سینوں پر بندوقوں کے دہانے کھول کر انجام دیا جارہا ہے اور سرنو پلوامہ میں فوج نے جس طرح کی بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تقریباً 12جوانوں کو تادم تحریر شہید اور درجنوں افراد کو شدید زخمی کردیا۔ اس خونین منظر نے ساری وادی میں سکتہ طاری کردیا ہے۔ ہر طرف آہ وبکا اور چیخ وپکار ہے۔ ہر طرف ماتم کا سماں ہے۔ مظلوموں کی چیخ وپکار عرشِ اِلٰہی کو ہلادیتی ہیں، مگر سنگدل بھارتی حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے۔ اس دوران چیرمین تحریک حریت جناب محمد اشرف صحرائی صاحب نے شہید ادریس براٹھ کلان سوپور کی یاد میں بُلائے گئے تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہید موصوف کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ ان لوگوں کو مردہ مت کہو جو اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کریں، وہ زندہ ہوتے ہیں اور اللہ کے ہاں رزق پاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہ ہیرو اللہ کی بارگاہ میں پیارے ہوتے ہیں وہ اپنا دنیاوی کیرئیر قربان کرکے ہماری کامیابی اور رستگاری کا سامان پیدا کرتے ہیں۔ اگر ان قربانیوں کا لحاظ نہ رکھا جائے تو ہم عنداللہ جواب دہ ہوں گے۔ صحرائی صاحب نے کہا کہ ہم بدترین سیاسی غلامی میں مبتلا ہیں۔ ہم پر غیر ملکی تسلط ہے، جو کی وجہ سے ہماری عبادات بھی اصل روح سے خالی ہیں۔ ہم مساجد کے اندر نماز پڑجتے ہوتے ہیں باہر فوج محاصرہ کرکے ہمارا چین وسکون چھینتی ہے۔ صحرائی صاحب نے کہا کہ ہماری قوم قربانیاں دے رہی ہے، مگر سب سے زیادہ قربانیاں ہماری نوخیز نسل کی ہیں جن کا روز خون بہایا جارہا ہے۔ صحرائی صاحب نے کہا کہ یہ قربانیاں ضائع نہیں ہوں گی۔
کشمیری نوجوانوں کی نسل کشی پر عمل کیا جارہا ہے

Comments are closed.