ویڈیو: پلوامہ لالہ زار، تین جنگجو ایک فوجی اہلکار اور7 شہر ی ازجان۔60 زخمی

جنازوں میں ہزاروں شریک،مواصلاتی بندشیں،ریل معطل،کئی مقامات پر احتجاج اورہڑتال

سرینگر / 15دسمبر : جنوبی کشمیر پلوامہ کا کھارہ پورہ، سرنو علاقہ سنیچروار کی صبح لہو لہاں ہو گیا۔گاؤں میں فوج اور جنگجوؤں کے مابین خونین تصادم آرائی کے دوران ٹیریٹوریل آرمی اہلکار سے جنگجو بننے والے ظہور ٹھو کر سمیت تین حز ب عسا کر اور ایک فوجی اہلکار ہلاک جبکہ دو فوجی اہلکار زخمی ہو گئے جبکہ جھڑ پ کے مقام پرفورسز اور نوجوانوں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں میں انڈونیشیا میں ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرچکے عابد نبی سمیت 7شہر ی جابحق جبکہ60 سے زائد عام شہری زخمی ہوگئے جن میں ایک درجن کی حالت نازک قرار دی جارہی ہے۔ تاز ہ ہلاکتوں کے پیش نظر جنوبی کشمیر سمیت پوری وادی میں انٹر نیٹ سروس معطل اور ریل خدمات روک دی گئیں۔ ان تازہ ہلاکتوں کیخلاف پورے جنوبی کشمیر میں ماتم کی لہر دوڑ گئی اور پورا کشمیر سوگ میں ڈوب گیا۔سرینگر کے تجارتی مرکز لالچوک اور شہر خاص سمیت شمال وجنو ب کے بیشتر علاقوں میں مکمل ہڑتال ہوئی جبکہ متعدد مقامات پر پر تشدد احتجاج بھی ہوا۔سی این ایس کے مطابق قصبہ پلوامہ کے کھارہ پورہ، سرنو نامی گاؤں میں فورسز نے سنیچرکی صبح جنگجوؤں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد علاقے کو سخت محاصرہ میں لے لیا۔ اس دوران فورسز نے جنگجوؤں کے ممکنہ ٹھکانے کا گھیراؤ کیا اور بستی کے گردونواح کو سیل کردیا۔ جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر گھر گھر تلاشی کارروائی کا آغازکیا۔ بستی میں چھپے جنگجوؤں نے فورسز پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کی۔ فورسز نے اس دوران جنگجوؤں کا بھر پور جواب دیتے ہوئے فورسز کی اضافی کمک کو طلب کرلیا اور علاقہ کے تمام راستوں اور ناکوں پر سخت پہرے بٹھاتے ہوئے جنگجوؤں کے فرار ہونے کے تمام ذرائع پر قدغنیں عائد کیں۔اس دوران طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا جس کے بعد چاکھارہ پورہ، سرنو نامی اور ملحقہ بستیوں سے نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مشکلات پید اکرنے کی خاطر فورسز پر سنگ باری کی۔ فورسز نے اس موقعہ پر امن میں رخنہ ڈالنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین پر پیلٹ اور ٹیر گیس کے گولے داغے اور راست فائر نگ کی جس کے باعث نصف درجن سے زائد شہری زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں عامر احمد پال ساکنہ اشمندر پلوامہ اور عابد نبی لون ولد غلام نبی لون ساکنہ کریم آباد نامی نوجوان کوضلع اسپتال پلوامہ منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔ مہلوک عام شہریوں میں انڈونیشیا میں ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرچکے عابدنبی لون بھی شامل ہیں۔ اس کے بعد زخمیوں میں شہباز علی سا کن منگا مہ، سہیل احمد ساکنہ بیلو، لیاقت احمد ساکنہ پاریگام ، جہا نگیر احمد کار ساکن کھاری پورہ پلوامہ،بھی زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھے ہیں۔ پر تشدد جھڑ پوں کے چلتے فورسز کاروائی میں تین جنگجوجاں بحق ہوگئے جبکہ ا س فو جی اہلکا ر نے زخموں کی تا ب نہ لاتے دم توڑ دیا جو جھڑ پ میں زخمی ہوا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ مہلوک جنگجوؤں میں ٹیریٹوریل آرمی اہلکار سے جنگجو بننے والا ظہور احمد کے علاوہ بیک ٹیک سٹو ڈنٹ، ابوید حمید لون ساکن کریم آ باد عرف طاہر حزبی اور ہا شم نبی ساکن راجپور پلوامہ نامی حز ب جنگجو بھی شامل ہیں۔ ظہور ٹھوکر پہلے فوج میں تھا اور 2016میں عسکریت کی راہ پر چل پڑا تھا۔ظہور احمد ٹھوکر فوج کی173 ٹی اے بٹالین میں تعینات تھا۔ اس نے فوج کی ٹریننگ لینے کے بعد کئی آپریشن میں حصہ لیا تھا، لیکن ایک دن اچانک ٹھوکر اپنی رائفل کے ساتھ کیمپ سے لاپتہ ہو گیا۔ پھر جولائی میں حزب المجاہدین نے حزب میں شامل ہونے کی تصدیق کر دی تھی۔۔اس بیچ فورسز اور مظا ہرین کے درمیان وقفے وقفے سے جاری رہنے والی جھڑ پوں میں50 سے زائد عام شہری زخمی ہوگئے جن میں سے کئی ایک کو سرینگر منتقل کیا گیا۔ پلوامہ سے لیکر سرینگر کے اسپتا لوں تک ایک درجن زخمی افراد کی حالت نازک قرار دی جارہی ہے۔اس دوران جنگجو ؤں اور عام شہریوں کی ہلاکت کی وجہ سے جنوبی کشمیر کی صورتحال انتہائی تشویشناک رخ اختیار کرگئی ہے اور بیشتر جگہوں پر احتجاج کی اطلاعات ملی ہیں۔جنوبی کشمیر سمیت لگ بھگ پوری وادی میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع کی گئی ہیں، جبکہ ریلوے انتظامیہ نے پولیس کے مشورے پر ریل خدمات روک دی ہیں۔ اس دوران مارے گئے جنگجو ؤں اور شہریوں کو اپنے اپنے آ بائی علاقوں میں سپر د لحد کیا گیا اور ان کی تجہیز وتکفین میں ہزاروں لو گ شریک ہوئے ہیں۔ ان تازہ ہلاکتوں نے بعد شہر خاص کے نوہٹہ میں احتجاج کیا گیا جبکہ تجارتی مرکز لاچوک اور شہر کے دیگر علاقوں میں ہڑ تا ل ہوئی۔ پادشا ہی باغ سرینگر میں سنگ با ری کا واقعہ پیش آ یا ہے۔

 

Comments are closed.