ہلاکتوں کیخلاف تین روزہ ماتمی ہڑتال کی اپیل، سوموار کو بادامی باغ فوجی کنٹونمنٹ کی طرف مارچ

سرینگر / 15دسمبر : مشترکہ مزاحمتی قائدین سید علی گیلانی میرواعظ ڈاکٹرمولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے جنوبی کشمیر کے پلوامہ میں ایک معرکہ آرائی کے دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں نہتے شہریوں شاہباز علی ساکنہ منگہ ہامہ، سہیل احمد ساکنہ بیلو، لیاقت احمد ساکنہ پاریگام، مرتضی ساکنہ پچرو، عامر احمد پالا ساکنہ اشمندر، عابد حسین لون ساکنہ کریم آباد اور تین عسکریت پسندوں کو انتہائی بے دردی سے اور درجنوں افراد کو شدید طور پر زخمی کر دینے کے واقعہ کو بدترین ریاستی دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہوئے اس کی پر زور مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسزکالے قوانینBlack Laws کے بل پر جواب دہی Accountability کے تصور سے بالا تر ہوکر کشمیر میں کھلے عام بربریت اور جارحیت کا ننگا مظاہرہ کررہی ہے اور آئے روز ایک نہ دوسرے بہانے کشمیری اپنے عزیزوں ، جگر کے ٹکڑوں اور پیاروں کے جنازے اٹھانے پر مجبور کئے جارہے ہیں ۔ کشمیر ماتم کدہ بنا ہوا ہے اور یہاں کی ہر صبح، صبح کربلا اور ہر شام شام غریباں کا منظر پیش کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام آخر کب تک بھارت کے ظلم و جبر ، استبداد اور توسیع پسندانہ عزائم کے پس منظر میں قتل و غارت گری ، مار دھاڑ اور پر تشدد کارروائیاں دیکھتے رہیں گے اپنے عزیزوں کو قبرستانوں کے سپرد کرتے رہیں گے اور خون کے آنسو پیتے رہیں گے۔قائدین نے آگ و آہن کے اس خونین کھیل میں کشمیریوں کی نسل کشی کیخلاف آج دوپہر سے ہی تین روزہ ماتمی ہڑتال کی عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا مورخہ17 دسمبر2018 بروز سوموار پوری قیادت عوام کے ساتھ بادامی باغ کنٹونمنٹ سرینگر کا رُخ کریں گے جہاں فوج کے کور کمانڈر کے سامنے اپنے کو پیش کرکے انہیں اجتماعی طور کشمیریوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے کہیں گے کیونکہ حکومت ہند کے ایما پرہی بھارتی افواج نے کشمیریوں کو چن چن کر قتل کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے اس لئے انفرادی طور پر ہمیں مارنے کے بجائے مذکورہ دن اور تاریخ میں وہ اجتماعی طور ہی کشمیریوں کو قتل کرکے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کریں۔نہتے شہریوں کو قائدین نے پر نم آنکھوں سے خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ قتل و غارت گری کے اس تازہ سانحہ نے پورے کشمیر میں غم و الم کی لہر دوڑادی ہے اور ہر فرد مغموم اور اداس ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایک بلند نصب العین کیلئے دی جارہی بے مثال جانی و مالی قربانیاں ہرگز رائیگاں ہونے نہیں دی جائیں گی اور حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد کو پایہ تکمیل تک لیجانے کیلئے قیادت اور عوام کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے اور مزید ہر طرح کی قربانیاں دینے کیلئے پیش پیش رہیں گے۔قائدین نے کہا کہ ایک مذموم منصوبے کے تحت حکومت ہند اپنی بے لگام فورسز کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسل کشی کی مہم کو آگے بڑھا رہی ہے اور سرکاری فورسزنے حق و انصاف پر مبنی جدوجہد میں مصروف قوم کیخلاف باقاعدہ جنگ چھیڑ رکھی ہے ۔قائدین نے کہا کہ جموں وکشمیر دنیا کا واحد سب سے زیادہ فوجی جماؤ والا علاقہ ہے جہاں لاکھوں کی تعداد میں تعینات فوج اور فورسز خود کو حاصل بے پناہ اختیارات کے بل پر کسی جواب دہی کے عمل سے مبرا ہوکر نہتے عوام کو اپنے مظالم اور تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور جب چاہیں اور جہاں چاہیں لوگوں کو نشانہ بنا کر ان کی زندگی کا چراغ گل کر دیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی نسل کشی قیادت اور نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کرنے اور قتل و غارت گری کے خونین کھیل کو اب ٹھنڈے پیٹوں ہرگز برداشت نہیں کیا جاسکتا اس لئے عوامی جان و مال کے تحفظ اور سلامتی کیلئے 17 دسمبر کے حوالے سے دیئے گئے پروگرام پر من و عن عمل آوری ناگزیر ہے ۔ انہوں نے جموں وکشمیر کی تازہ ترین صورتحال کو انتہائی مخدوش اور تشویشناک قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ ، او آئی سی اور دنیا بھر کے انصاف پسند ممالک سے پُر زور اپیل کی کہ وہ کشمیریوں کو نسل کشی سے بچانے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں اور جموں وکشمیر میں فوج اور فورسز کے ہاتھوں ہو رہی بنیادی انسانی حقوق کی بے دریغ پامالیوں کو روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

Comments are closed.