ویڈیو: افسپا کی موجود گی تک کشمیر میں امن لوٹ نہیں آئے گا: علی محمد ساگر

جنوبی کشمیر میں نہتے شہریوں کی ہلاکتں ایک منصوبہ بند سازش

سرینگر / 15دسمبر : نیشنل کانفرنس نے آج جنوبی کشمیر کے گاؤں سرنو پلوامہ میں بے گناہ ، معصوم اور شہری ہلاکتوں پر گہرے تشویش اور رنج والم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل کانفرنس روز اول سے ہی تشدد کے خلاف اور عدم تشدد کے حامی رہی ہے یہ سب کچھ افسپا کے تحت کیا جارہا ہے جس کے تحت فوج کو عام شہریوں کی ہلاکتوں کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے ۔ سی این ایس کے مطابق پارٹی ہیڈ کواٹر پر ایک ہنگامی اور پُر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر (ایڈوکیٹ ) نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ گورنر انتظامیہ نے فوج کو عام شہریوں کی ہلاکت کے لئے کھلی چھوٹ دی ہے جو ناقابل قبول ہے ۔ ہمارے شہری (Sitting Ducks ) سمجھ کر ہلاک کئے جارہے ہیں اور اس طرح انسانی حقوق کی پامالیوں کی دھجیاں اُڑھائی جارہی ہے ۔ لوگوں کے مال وجان کا تحفظ کا کوئی خیال نہیں ۔ساگر نے کہا کہ ہماری جماعت انسانی حقوق کی پاسدار جماعت رہی ہے اور ہر شہری کو امن وسکون کی زندگی بسر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کی آزادی ہونی چاہئے ۔ ریاست جموں وکشمیر ایک حساس ریاست ہے اور اس کا اپنا آئین اور جمہوری نظام ملا ہے اور اسی کے تحت ہی موجودہ گورنر کو اپنی انتظامیہ چلانی چاہئے ۔ ہماری جماعت کے کور گروپ بار بار گورنر صاحب کے ساتھ ساتھ دلی والوںآگاہ کرتی رہی کہ ریاست میں عام شہریوں کی ہلاکتیں بندکی جائے لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ بدقسمتی سے گورنر ہماری مشوروں یکسر نظر اندا ز کرتا رہا جس کی ہم پُر زور مذمت کرتے ہیں۔ موجودہ مرکزی بی جے پی حکومت کشمیریوں کے نہتے خون کوملک بھر میں اپنا ووٹ بنک بڑھانے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا جموں وکشمیر کوئی فوجی چھاونی نہیں ہے ہمیں بھی عزت والی زندگی بسر کرنے کا حق ہے ۔ پلوامہ میں جس قدر عام شہریوں کی حشیانہ اور سفاکانہ ہلاکتیں کی گئی پوری ریاست کا عوام اس پر ماتم کدا ہے اور فوج کی بے تحاشا طاقت کے ساتھ ساتھ فوج کی طرف سے شہریوں پر اندھا دن فائرنگ کر کے ہلاک کرنا انسانیت اور جمہوریت کا قتل ہے ۔ انہوں نے کہا نیشنل کانفرنس روز اول سے ہی تشدد کے خلاف اور عدم تشدد کے حامی رہی ہے یہ سب کچھ افسپا کے تحت کیا جارہا ہے جس کے تحت فوج کو عام شہریوں کی ہلاکتوں کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے جسکاثبوت حالیہ سابق وزیر داخلہ شری پی چدمبر نے کل ہی اپنے بیان میں کہا ہے جب تک کشمیر میں افسپا ہے تب تک بے گناہ کشمیروں کا خون بہتایا جائے گا جس میں انہوں نے کہا کہ کاش میں نے مذاکرات والوں کے رپوٹوں پرافسپا کو ہٹایا ہوتا تو آج کشمیرمیں یہ دن دیکھنے کو نہ ملتے اور عام شہریوں کی ہلاکتیں نہ ہوتی ۔ انہوں نے کہا نیشنل کانفرنس کی پُر خلوص قیادت اور اس کے کور گروپ بھی عام شہریوں کی ہلاکتوں کی مذمت کرتی رہی ہے اور اس سلسلے میں برابر آج تک احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی اور مستقبل میں نکالی جائے گی جب تک نہ عام شہریوں کی ہلاکتیں بند نہ کی جائے ۔ ساگر نے کہا کہ بدقسمتی سے موجودہ گورنر کے متضاد بیانات نے ریاست کے حالات کو اور بگاڑنے کی سبب بنی ہے ایک روز گورنر صاحب کہتے ہیں کہ دلی کی غلطیوں سے کشمیر کے حالات بنے ہیں دوسری روز کہتے ہیں کہ میں ایڈمنسٹریشن کو پٹری پرلانے کے لئے آیا اور مسئلہ کشمیر سے مجھے کوئی لین دین نہیں اور دوسری جانب مزاحمتی قیادت سے بات چیت کرنے سے قاصر رہتا ہے ۔ساگر نے کہا کہ موجودہ گورنراصل میں حالات ٹھیک کرنے اور لوگوں کے احساسات اور مفادات کو یکسر نظر انداز کر رہا ہے اور بے جا ریاست کی آئینی پوزیشن کے ساتھ چھیڈ چھاڈ کرتا رہا ہے جو ناقابل قبول ہے ۔ ساگر نے گورنر سے انتباہ کیا کہ جب تک افپسا کو ہٹایا نہیں جائے گا تب تک کشمیرمیں امن لوٹ نہیں آسکتا ۔ پریس کانفرنس میں صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے بھی خطاب کیا اور پلوامہ میں شہریوں ہلاکتوں پارٹی کی طرف سے تشویش ، مذمت کرتے ہوئے ان بے گناہ شہریوں ہلاکتوں کی تحقیقات کرنے کی مطالبہ کیا۔ پریس کانفرنس پارٹی کے سینئر لیڈران شریف الدین شارق، محمد اکبر لون ، شمیمہ فردوس ، جاوید احمد ڈار بھی موجود تھے۔ دریں اثنا پارٹی معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفی کمال ، صوبائی صدر جموں دیویندر سنگھ رانا اور جنوبی کے زونل صدر ڈاکٹر بشیر احمد ویری، سٹیٹ سیکریٹری اور سابق وزیر سکینہ ایتو ، ضلع صدر پلوامہ و سابق ایم ایل اے غلام محی الدین میر ،ضلع صدر پلوامہ و سابق ایم ایل اے عبدالمجید لارمی ،سٹیٹ ترجمان عمران نبی ڈار اورسابق ایم ایل اے شیخ محمد رفیع ، ضلع صدر اسلام آباد و سابق ایم ایل اے الطاف احمد کلو، سینئر لیڈر مبارک گل اور ضلع صدریوتھ جاوید رحیم بٹ نے بھی پلوامہ کی شہریوں ہلاکتوں پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔

Comments are closed.