سوالنامے وٹس اپ کے ذریعے امیدواروں میں تقسیم ، سکنڈ ائیر چو تھویں سمسٹر کے امتحانی ا میدواروں کا پریس کالونی میں احتجاج
سرینگر / 14دسمبر: کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ امتحا نا ت کا غفلت اشعاری کا اندازہ اس بات سے خوب لگایا جاسکتا ہے کہ جمعرات کو سکنڈ ائیر چو تھویں سمسٹر کے ’’ سکل انہانسمنٹ کورسز کے ریجنل پلاننگ اینڈ ڈیو لیپمنٹ‘‘ کے سو النامے بیشتر امتحا نی مراکز تک مقررہ وقت پرنہیں پہنچ سکے تھے جس کے بعد انہیں وٹس اپ کے ذریعے بھیج کر امتحان دینے والے امیدواروں میں تقسیم کیا گیا ۔ ان سو الناموں کا پرنٹ اس قدر نا صاف اور نا قابل تحر یر تھے کہ بیشتر امیدوار اپنے قلم کی جنبش نہ کر سکے۔ متا ثر طلبا وطالبا ت نے اس ضمن میں پریس کالونی میں آ کر اس پر چے کا نئے سر ے سے امتحان لینے کا مطالبہ کیا ہے۔سی این ایس کے مطابق13 دسمبر کو بی اے ، بی ایس سی سکنڈ ائیر چو تھویں سمسٹر2016 بیچ کے طلبہ کو ’’سکل انہانسمنٹ کورسز کے ریجنل پلاننگ اینڈ ڈیو لیپمنٹ‘‘ نصا ب کا امتحان لیا گیاجس کے دوران گو رنمنٹ زنانہ کالیج، امر سنگھ کالیج اور دیگر جگہوں پر قائم امتحا نی مراکز پر اس وقت ڈرامائی صورتحا ل پیدا ہوئی جب یہاں اس مضمون کے سوالنامہ مقر رہ وقت پر نہیں پہنچ پائے ۔ان امتحا نی مراکز پر ہنگامہ کھڑا ہونے کے بعد واٹس کے ذریعے سوالنامے ارسا ل کیے گئے اور جب ان کو پرنٹ نکالا گیا وہ اتنے ناصاف اور نا قابل تحر یر تھے کہ امتحا نات دینے والے امیدوار ان سوالناموں کو نہیں پڑ ھ پا ئے ۔ جمعہ کو پریس انکلیو سرینگر میں طالبات کے ایک گروپ نے اس ضمن میں یونیورسٹی حکام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بتایا ’’کہ امتحانی عملہ ان پر چوں کو امتحانی مراکز تک پہنچانے میں ناکام رہا اور بعد میں یونیورسٹی حکام نے ان پرچوں کو امتحا نی مراکز تک پہنچا نے میں وٹس اپ کا سہارالیا گیا۔ ان کاپرنٹ نکالنے میں آدھے گھنٹے کا وقت لگا ،یوں ہمیں آ دھے گھنٹے کی تاخیر سے سوالنامے ملیں اور بعد میں اس نصف گھنٹہ کی رعایت بھی نہیں دی گئی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جمعرات کومطلع آ بر آ لود تھا ایک طرف امتحا نی مراکز میں روشنی کام تھی اور دوسری جانب جو سوالنامے طلبا میں تقسیم کیے گئے وہ نا صا ف تھے اور ان پر کیا تحر یر تھا کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی اس مجرمانہ غفلت اشعار ی سے اکثر امیدوار کچھ بھی نہیں لکھ سکے اور اگر اس پرچہ کا دوبار ہ امتحا ن نہیں لیا گیا تو سارے امیدوار فیل ہوجائیں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یونیورسٹی حکام نے طلباء کے مستقبل کے ساتھ کھیل کھیلا ہے لہذا اس غفلت اشعاری کے ملوثین کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس پر چے کا نئے سر ے امتحا ن لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں جب سی این ایس نے کنٹرولر امتحانات پروفیسر فاروق احمد میر سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کودیکھیں گے۔
Comments are closed.