رسل ورسائل کا اہم ترین ذریعہ’’پبلک ٹرانسپورٹ‘‘ تیزی کے ساتھ ختم ، بٹہ مالو بس اڈے کو پارمپورہ منتقل کرنے کا فیصل تابوت میں آخری کیل

سرینگر / 14دسمبر /سی این ایس / کشمیر وادی میں عوام کے لئے رسل ورسائل کا اہم ترین ذریعہ’’پبلک ٹرانسپورٹ‘‘ تیزی کے ساتھ ختم ہورہا ہے جس کے نتیجے میں عوام کا ایک بڑا طبقہ بے روزگاری کاشکار ہورہا ہے جبکہ دور دراز اور دشوار گذار علاقوں میں عام آدمی کا بیشتر وقت بس سٹاپوں پرگاڑی ملنے کے انتطار میں صرف ہورہا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی ابتر صورتحال کی وجہ سے اب وادی کے بڑے ٹرانسپورٹ اڈے اور ان میں عوامی دلچسپی کے بارونق بازار بھی قصہ پار ینہ بن چکے ہیں جس سے عوام میں کافی مایوسی پائی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ کشمیر وادی میں پچھلے20 برس کے دوران کشمیر موٹر ڈرائیورس ایسوسی ایشن،اقبال پارک بس اسٹینڈ اور ویسٹرن بس اسٹینڈ بٹہ مالو مکمل طور بند ہوئے ہیں جہاں چند برس قبل تک عوام کی انتہائی غیرمعمولی چہل پہل لگی رہتی تھی اور آبادی کے بڑے حصے کیلئے روزگار کے وسائل دستیاب تھے۔کے ایم ڈی لالچوک90کی دہائی کے ابتدائی سال میں بسوں کے لئے بند کردیا گیا تھا جس کے بعد گاڑیوں کو بٹہ مالو بس اڈے منتقل کیا گیا ۔نوے کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں اقبال پارک کے ایک حصے سے بھی مسافر بسیں مختلف علاقوں کیلئے روانہ ہوتی تھیں جو بعد ازاں فاروق عبداللہ کی حکومت نے جموں کشمیر بنک کی تحویل میں اسے تفریحی پارک کے طور ترقی دینے کے لئے دیا اور یوں بسوں کی نقل و حمل کے لئے بٹہ مالو اڈے کو مرکزی اہمیت حاصل ہوئی۔البتہ ریاستی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ،جسٹس ریٹائرڈ بشیر احمد خان کی قیادت والی ایک بنچ نے جب بسوں کی معیاد25سال مقرر کرنے کا فیصلہ سنایا اور زائد المدت بسوں کو ماحولخالف قرار دیکر ان پر پابندی عائد کرنے کا حکم صادر کیا تو بسوں کی ایک بڑی تعداد اس کے زد میں آگئی اور یوں اس اہم ترین عوامی سیکٹر کا زوال شروع ہوا۔بٹہ مالو اڈے میں بسوں کی تعداد گھٹنے لگی اور اس سے وابستہ ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کی روٹی روزی بھی متاثر ہونے لگی۔پبلک ٹرانسپورٹ کو زوال کا شکار بنانے کے لئے جن دوسرے اور بڑے اسباب کو ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے ان میں نامساعدحالات کی وجہ سے متواتر ہڑتالیں اور کرفیو نمایاں طور قابل ذکر ہے۔کے ایم ڈی سے لیکر بٹہ مالو میں چار دہائیوں کی قیمتی زندگی گذار کر عیال کی کفالت کرنے والے ڈرائیور عبدالرحمان کے پاس کبھی چار بسیں تھیں لیکن آج ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح خاموش بے روزگار بیٹھے ہیں ۔اپنی بے کاری کے لئے وہ مسلسل ہڑتال اور کرفیو کو بنیادی سبب ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہفتوں حالات خراب رہنے کی وجہ سے ان کے گھر میں جب چولھا بجھنے کی نوبت آئی اور بنک کا قرضہ بھی پریشان کن صورتحال اختیار کرتا گیا تواس نے سبھی بسیں کوڑے کے دام فروخت کیں حالانکہ گھر میں کوئی اور آمدنی کا ذریعہ نہیں تھا۔عبدالرحمان کے مطابق ایک وقت میں وہ دس لوگوں کو روزگار فراہم کرتا تھا لیکن پھر وہ بھی دن دیکھنے پڑے جب میں خود مزدوری کرنے پر مجبور ہوا۔شہر سرینگر کے قمرواری علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک ادھیڑ عمر کے ڈرائیور غلام محمد بٹہ مالو میں لوگوں کی چہل پہل اور ایک بارونق بازار کے روبہ زوال ہونے کے لئے محکمہ ٹرانسپورٹ اور ٹریفک پویس کے لوٹ کھسوٹ کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے مالکوں کو محکمہ ٹرانسپورٹ اور ٹریفک پولیس نے کبھی پھلنے اور پھولنے کا موقعہ نہیں دیا۔ دن بھرجو کچھ کمایا جاتا تھاکبھی ایک بہانے اور کبھی دوسرے بہانے وہ انہی دو محکموں کے اہلکار لوٹ لیتے تھے نتیجہ بڑے سے بڑے ٹاانسپورٹر بھی کنگال ہوگئے۔غلام محمد کے مطابق ان محکموں کا یہ وطیرہ آج بھی پورے شباب پر ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب کوئی نوجوان پبلک ٹرانسپورٹ کے ساتھ اپنے مستقبل جوڑنے کی حماقت بھی نہیں کرسکتا ہے۔بڈگام کے غلام حسن نامی ڈرائیور نے غلام محمد کی رائے کی تائید کی اور کہا کہ ان دونوں محکموں کے ٹرانسپورٹ کش رجحان کی وجہ سے بسیں ہی نہیں 407 کی مسافر بسیں اور سومو گاڑیاں صرف ایک عشرے کی مدت کے دوران اس حد تک روبہ زوال ہیں کہ کسی بھی علاقے میں عام آدمی کو وقت پر گاڑی ہی نہیں ملتی۔جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع سے تعلق رکھنے والے عبدالرشید کے مطابق آج کے دور میں پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی سے عام آدمی کو جتنی پریشانیاں درپیش ہیں اس کی مثال پچھلے 60سال میں نہیں مل سکتی۔اور پھر دعویٰ یہ کہ ہم نے ترقی کی ہے۔صفاپورہ سمبل کے ایک شہری نے پبلک ٹرانسپورٹ خاص کر بسو ں کو تباہ کرنے کے لئے محبوبہ مفتی کی سرکار کے سال2017 میں بٹہ مالو بس اڈے کو پارمپورہ منتقل کرنے کے فیصلے کو اس تابوت میں آخری کیل قرار دیا جس کی وجہ سے نہ صرف عوام کو گوناگوں پریشانیوں سے دوچار ہونا پڑا بلکہ سینکڑوں افراد بے روزگار بھی ہوئے جن میں بٹہ مالو بس اڈے کے دکانداروں کی زیادہ تعداد ہے۔ضلعی صدرمقامات کے اڈوں کی ویرانی بھی یہی منظر پیش کرتی ہے۔

Comments are closed.