پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات سے قبل بات چیت کے عمل کو دوبارہ پٹری پر لانے کے منصوبے پر غور

زمینی صورتحال کا جائزہ لینے مرکزی وزارت داخلہ کے اعلیٰ سطحی وفدکا دورہ کشمیر عنقریب ممکن

سرینگر / 14دسمبر: مرکزی سرکار جموں کشمیر میں آنے والے پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی ماحول کو انتخابی عمل کے حق میں کرنے کیلئے اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت بات چیت کے عمل کو دوبارہ پٹری پر لانے کے منصوبے پر سنجیدگی کے ساتھ غور کررہی ہے اور اس سلسلے میں مرکزی وزارت داخلہ کا ایک اعلیٰ سطحی وفد اگلے دو ایک ہفتوں میں سرینگر وارد ہورہا ہے جس کو زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کا کام سونپا گیا ہے۔اس بیچ سابق مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے ریاست میں لاگو افسپا کو ختم کرنے کیلئے اپنی آواز پھر سے بلند کی ہے۔کرنٹ نیوز سروس کو اعلیٰ سیا سی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مرکز میں بر سر اقتدار نریندر مودی کی قیادت والی سرکار کشمیر میں مین اسٹریم جماعتوں کی سرگرمیوں پر طاری جمود اور حالیہ پنچایتی و بلدیاتی انتخابات کے دوران رائے دہندگان کی مکمل دوری کو لیکر کافی تشویش کی شکار ہے اور اس کو عالمی سطح پر کشمیر کے تئیں اپنائے جارہے بھارت کے روایتی موقف کے منافی محسوس کر رہی ہے جس کے سد باب کے لئے فوری طور مثبت اقدامات کو ناگزیر سمجھا جارہا ہے۔ذرائع کے مطابق اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے راجدھانی دلی میں مشاورت کا سلسلہ شروع ہوا ہے جس میں کشمیر کے لئے نامزد مذاکرات دنیش ورشرما کی اب تک حاصل کی گئی تجاویز کو بھی زیر غور لایا جارہا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ وزارت داخلہ کی نگرانی میں ہورہی ان کوششوں کو روبہ عمل لانے کے لئے کشمیر کی بڑی مین اسٹریم جماعتوں کو بڑا رول دیا جارہا ہے تاکہ انتخابی سیاست میں عوام کی بھرپورشرکت کو یقینی بنانے میں مدد مل سکے۔ذرائع کے مطابق اسمبلی انتخابات سے قبل مرکزی وزارت داخلہ کا ایک اعلیٰ سطحی وفد اگلے دو ایک ہفتو ں میں سرینگر کے دورے پر آرہا ہے جو یہاں کی مین اسٹریم جماعتوں کے ساتھ زمینی صورتحال پر تبالہ خیال کرنے کے علاوہ عوامی رجحان کو لبھانے کے لئے درکار اقدامات پر ان کی آراء حاصل کرے گا۔اس کے علاوہ وادی میں جاری پر تشدد لہر کو امن میں تبدیل کرنے کے لئے درکار وسائل پرمنصوبہ سازی کی جارہی ہے جس میں نوجوان نسل کے مسائل کو اولیت دی جارہی ہے۔ذرائع کے مطابق مودی سرکارکو علاحیدگی پسندوں کے ساتھ بھی بات چیت کرنے کا سجھاؤ دیا جارہا ہے جو کہ ریاست میں حالات کو سدھارنے کے لئے اہم ضرورت مانی جارہی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں مرکزی مذاکرات کار دنیشور شرما بھی فعال ہے جو علاحیدگی پسندوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ بھی دوطرفہ بات چیت شروع کرانے کی تگ و دو میں ہے تاکہ عمران خان کی حکومت،حریت اور بھارت کے درمیان تکونی بات چیت شروع ہوسکے جس سے کشمیر میں ماحول کو سازگار بنانے میں پہل ہوسکتی ہے۔ادھر سابق مرکزی وزیر داخلہ اور کانگریس کے سنئیر لیڈر پی چدمبرم نے جموں کشمیر میں لاگو آرمڈ فورسز سپیشل پارس ایکٹ کو ہٹانے کی مانگ کی ہے۔اپنے ایک تازہ بیان میں انہوں نے مرکزی سرکار کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ افسپا کو کلی طور ہٹانے میں دقتوں کا خدشہ طاہر کرہی ہے تو اس کو کم سے کم اس میں ترمیم کر لینی چاہئے تاکہ اس سے ماردھاڑ کے سلسلے کو روکنے میں مدد مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرکاری دعؤں کے مطابق ریاست کے ھالات مین بہتری آئی ہے تو اس کا فائدہ عام آدمی کو ملنا چاہئے جو صرف اسی سورت میں ممکن ہے جب افسپا جیسے قوانین کو ختم کیا جائے۔

Comments are closed.