زینہ پورہ شوپیاں حملے میں جاں بحق چاروں پولیس اہلکار گھروں کے واحد کفیل تھے

تین شادی شدہ جبکہ ایک بھائی او ر بھتیجوں کی کفالت کر رہا تھا
شوپیاں میں تعزیتی گلباری تقریب میں اے ڈی جی پی منیر خان اور آئی جی کشمیر ایس پی پانی نے شرکت کی

سرینگر؍11دسمبر //یو پی آئی // شوپیاں میں عسکریت پسندوں کے حملے میں جاں بحق چاروں پولیس اہلکار گھروں کے واحد کفیل تھے اور اُن کے کاندھوں پر گھر کی ساری ذمہ داریاں تھیں اور اُن کے چلے جانے سے گھر والوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ ادھر شوپیاں میں تعزیتی گلباری تقریب میں آئی جی کشمیر ، اے ڈی جی پی لااینڈ آرڈر اور دوسرے سینئر آفیسران نے شرکت کی۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق زینہ پورہ شوپیاں میں عسکریت پسندوں کے حملے میں جاں بحق ہوئے چار پولیس اہلکار گھروں کے واحد کفیل تھے۔ پولیس اہلکار سینئر گریڈ کانسٹیبل عبدالمجید گنائی ولد محمد سلطان گنائی ساکنہ گاندربل گھر کا واحد کفیل تھا اور اُس نے اپنے پیچھے پانچ سالہ بیٹا ، تین سالہ کمسن بیٹی ، بھائی اور بیوہ کو چھوڑا۔ کانسٹیبل حمید اﷲ گنائی ولد غلام محمد گنائی ساکنہ اننت ناگ نے ایک ماہ قبل ہی شادی رچائی اُس کے چلے جانے سے گھر والوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔پولیس کانسٹیبل معراج الدین ڈار ولد غلام نبی ساکنہ بانڈی پورہ نے اپنے پیچھے بھائی اور دو بھتیجے چھوڑے ۔حملے میں جاں بحق ہوئے پولیس اہلکار بھی گھر کا واحد کماؤ تھا۔ کانسٹیبل انیس احمد میر ولد عبدالرشید میر ساکنہ کولگام نے اپنے پیچھے دو کمسن بچے اور حاملہ بیوی کو چھوڑاہے ۔ مذکورہ پولیس اہلکار کے کاندھوں پر گھر کی ساری ذمہ داری تھی اور وہ گھر کا واحد کمانے والا تھا۔خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق ضلع پولیس لائنز شوپیاں میں ایک تعزیتی گلباری تقریب منعقد ہوئی جس میں پولیس کے سینئر آفیسران نے زینہ پورہ شوپیاں حملے میں جاں بحق ہونے والے چار پولیس اہلکاروں جن کی شناخت عبدالمجید گنائی ، معراج الدین ڈار ، انیس احمد میر اور حمید ا ﷲ گنائی کے بطور ہوئی ہے کے تابوت پر گلباری کی اور خراج پیش کیا۔ تعزیتی گلباری تقریب میں پولیس اور سیول انتظامیہ سے وابستہ سینئر آفیسران نے شرکت کی ۔ ’’اے ڈی جی پی سیکورٹی لاء اینڈ آرڈر ‘‘منیر احمد خان ، آئی جی کشمیر ایس پی پانی ، ڈی آئی جی جنوبی کشمیر امیت کمار نے ترنگے سے لپٹے پولیس اہلکاروں کی جسد خاکی پر گلباری کی اور خراج عقید ت ادا کیا۔ ایس پی شوپیاں، ڈپٹی کمشنر شوپیاں اور پولیس وسیول انتظامیہ سے وابستہ دوسرے اعلیٰ آفیسران بھی اس موقعے پر موجود رہے ۔

Comments are closed.