افغانستان کے دارالحکومت کابل میں منگل کو ایک خود کش حملہ آور نے بڑی تعداد میں جمع علما کو نشانہ بنایا جس میں 50 افراد ہلاک ہو گئے۔ گزشتہ چند مہینوں میں یہ کابل میں سب سے مہلک حملہ ہے۔
وزارت صحت کے ترجمان واحد مجروح نے بتایا کہ حملے میں تقریبا 83 افراد زخمی ہو گئے جن میں سے 20 کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔ کسی تنظیم نے اس حملے کی فوری طور پر ذمہ داری نہیں لی ہے۔
ٕکابل پولیس سربراہ کے ترجمان بشیر مجاہد نے کہا، "حملے کے متاثرین بدقسمتی سے مذہبی علماء تھے جو پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سالگرہ کا جشن منانے کے لئے اکھٹا ہوئے تھے۔”
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اس حملے کی مذمت کی اور اسے "اسلامی اقدار اور پیغمبر محمد کے پیروکاروں پر حملہ” قرار دیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی اس حملے کی مذمت کی اور متاثرین کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا۔
Comments are closed.