ویڈیو: ٹینگہ پورہ کے عبید الطاف کاقتل، لواحقین کا دو ملزمان کی رہا ئی کے خلاف پریس کا لونی میں احتجاج

سرینگر20نومبر / سی این ایس/ / تقریباًً دیڑ ھ ما ہ قبل پْراسرارطورپرلاپتہ ہونے کے بعد مبینہ طور قتل کیے گئے ٹینگہ پورہ کے نوجوان کے رشتہ داروں نے اس کیس کے سلسلے میں گرفتار دو نوجوانوں کی رہائی پر پارم پولیس کے خلاف زوردار احتجاجی مظا ہرئے کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پولیس اس ضمن میں پہلے سے ہی سست رفتار ی سے کام لے رہی ہے۔ سی این ایس کے مطابق عبید الطاف ڈار ولدمحمدالطاف ڈارساکن ٹینگہ پورہ بٹہ مالو کے لواحقین جن میں زیادہ تر خواتین شا مل تھیں سرینگر کی پریس کالونی میں نمودار ہوئیں اور انہوں نے پارم پورہ پولیس کے خلاف زوردار احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ27 ستمبر کو 19سالہ بیٹا عبیدالطاف27 ستمبر کوگھرسے کہیں چلاگیالیکن واپس گھرنہیں آیا۔ کا فی تلاش کرنے کے بعد پولیس تھا نہ بتۃ مالو میں ایک گمشد گی رپورٹ درج کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یکم اکتوبر کو اسکی لاش ایک نالہ سے برآ مد کی گئی۔ قتل کا مقدمہ درج کرنے کے بعد یہ کیس پارم پورہ پولیس تھانہ منتقل کیا گیا۔مظا ہرین کا کہنا تھا کہ پولیس نے ابتدائی دنوں میں اس کیس کے سلسلے میں عدنان اشرف گنا ئی ساکن ٹینگہ پورہ اور عامر احمد ساکن زانی گام بیروہ جو یہاں کرایہ پر رہتاتھاکو گرفتار کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ڈیڑ ھ ما ہ کے بعد پولیس نے دونوں گرفتار نوجوانوں عا مر اور عدنان کو رہا کردیاجبکہ تیسر ے نوجوان عارف احمد پرہ ولدثنا اللہ ساکن بیروہ ناجن جس کی نشاندہی پر عبید کی لاش برآ مد کی گئی تھی ا سی دن سے فرار ہوا اور اسے آ ج تک اسے گرفتار نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے پولیس کے اس بیاں کو مسترد کردیا کہ عبید سڑ ک حادثہ میں از جان ہواہے اگر یہ بات سچ ہے تو اسکی لاش کیسے پانی سے برآ مد کی گئی ۔ انہوں نے اس کیس کے سلسلے میں پولیس پر رشوت اور قاتلوں کو بچا نے کا الزام لگا تے ہوئے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہونے سے قبل ہی کیسے عامر اور عدنان کو رہا کیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی رہا ئی ہمارے ساتھ بڑی نا انصا فی ہے کیونکہ یہ دونوں نوجوان اس قتل میں مبینہ طور ملوث ہے۔ انہوں نے عدنان اور عا مر کی دوبارہ گرفتار ی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کی شفاف بنیادوں پر تحقیقات اور ااس قتل میں ملوث افراد کو پھانسی دینے کی مانگ کی ہے۔اس دوران ایس ڈی پی اؤ ایسٹ سرینگرنے سی این ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کی تحقیقات جاری ہے اور تحقیقاتی عمل کے دوران جو بھی ملوث پایا جائے گا اسکے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Comments are closed.