سری نگر میں 8 ویں محرم کے تاریخی ماتمی جلوس پر قدغن جاری
عزاداروں کے خلاف آنسو گیس کا استعمال، متعدد زخمی، درجنوں گرفتار
سری نگر:کشمیر انتظامیہ نے بدھ کے روز گرمائی دارالحکومت سری نگر کے سات پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سیکورٹی پابندیاں عائد کرکے گروبازار علاقہ سے برآمدہونے والے 8 ویں محرم الحرام کے تاریخی ماتمی جلوس کو مسلسل 28 ویں مرتبہ نکالنے سے روک دیا۔
اگرچہ سینکڑوں عزاداروں نے سیکورٹی پابندیاں توڑتے ہوئے اس تاریخی ماتمی جلوس کو نکالنے کی کوشش کیں، لیکن سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں نے انہیں منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ اس کے علاوہ درجنوں عزاداروں کو تحویل میں بھی لیا گیا۔ سخت مزاحمت کے بعد سیکورٹی فورسز نے سیاہ کپڑوں میں ملبوس عزاداروں کے ایک گروپ کو مولانا آزاد روڑ پر نوحہ خوانی کرنے کی اجازت دی۔ یو این آئی کے نامہ نگار کے مطابق سیکورٹی فورسز نے ڈل گیٹ علاقہ میں جمع ہوکر تاریخی لال چوک کی طرف پیش قدمی کرنے والے عزاداروں کے خلاف آنسو گیس کے متعدد گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا۔ بتہ مالو، جہانگیر چوک، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، ریگل چوک اور تاریخی لال چوک میں جمع ہونے والے عزاداروں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا گیا۔ مولانا آزاد روڑ پر بھی پولو گراو¿نڈ کے نذدیک آنسو گیس کے کچھ گولے داغے گئے۔ سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں متعدد عزاداروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم پولیس ذرائع نے بتایا کہ سیول لائنز میں تعینات سیکورٹی فورس اہلکاروں نے انتہائی صبر وتحمل سے کام لیا اور پابندیوں کی خلاف وزری کے مرتکبین کے خلاف طاقت کے استعمال سے اجتناب کیا گیا۔

اس دوران ضلع سری نگر میں بدھ کے روز سرکاری احکامات پر تمام تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ سیول لائنز میں پابندیوں کی وجہ سے دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر متاثر رہی۔ سیول لائنز میں پابندیوں اور سیکورٹی فورسز و عزاداروں کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے شہر میں افراتفری کا ماحول دیکھا گیا۔ کشمیر میں سری نگر کے گروبازار اور آبی گذر (تاریخی لال چوک) علاقوں سے برآمد ہونے والے 8 ویں اور 10 ویں محرم الحرام کے تاریخی ماتمی جلوسوں پر ریاست میں ملی ٹینسی کے آغاز یعنی 1989 سے پابندی عائد ہے۔ سنہ 1989 ءسے قبل 8 ویں محرم کا ماتمی جلوس سری نگر کے گرو بازار علاقے سے برآمد ہوکر شہید گنج، جہانگیر چوک، بڈشاہ چوک اور مولانا آزاد روڑ سے ہوتا ہوا حیدریہ ہال ڈل گیٹ میں اختتام پذیر ہوتا تھا۔
جموں وکشمیر اتحاد المسلمین ، جس کے زیر اہتمام یہ تاریخی جلوس برآمد ہوتا تھا، نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ آٹھویں محرم کے جلوس کو ہر صورت میں نکالا جائے گا اور کسی بھی سرکاری قدغن کی صورت میں مقررہ تاریخی روٹ پر کسی بھی جگہ سے برآمد کیا جائے گا۔ یو این آئی نامہ نگار کے مطابق اگرچہ بدھ کو سینکڑں کی تعداد میں عزادار مختلف جگہوں بشمول بتہ مالو، جہانگیر چوک، بڈشاہ چوک، ایکسچینج روڑ، تاریخی لال چوک اور ڈل گیٹ میں نمودار ہوئے اور’یا حسین یاحسین، یا عباس یا عباس ‘ کی صدائیں بلند کرتے ہوئے آگے کی طرف پیش قدمی کرنے لگے تاہم سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں نے انہیں منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا اور ان میں سے درجنوں کو آگے بڑھنے سے روکتے ہوئے حراست میں لے لیا۔

نامہ نگار کے مطابق ڈل گیٹ جہاں یہ تاریخی ماتمی جلوس اختتام کو پہنچتا تھا، میں سینکڑوں کی تعداد میں عزاداروں نے جمع ہوکر مخالف سمت یعنی گرو بازار کی طرف پیش قدمی شروع کی۔ تاہم جوں ہی عزادار نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کرتے ہوئے ڈل گیٹ چوک تک پہنچ گئے تو وہاں پہلے سے موجود سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری نے انہیں منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے متعدد گولے چلائے۔ ان میں سے درجنوں عزادار تاریخی لال چوک کی طرف پیش قدمی کرنے میں کامیاب ہوئے۔
نامہ نگار نے بتایا کہ پولیس کی طرف سے مولانا آزاد روڑ پر بھی پولو گراونڈ کے نذدیک آنسو گیس کے گولے داغے گئے۔ تاہم جب ٹولیوں میں نمودار ہونے والے عزاداروں نے اپنی مزاحمت جاری رکھی تو سیکورٹی فورسز نے انہیں مولانا آزاد روڑ پر نوحہ خوانی کرنے کی اجازت دے دی۔ وہ بعد ازاں جلوس کی صورت میں ڈل گیٹ پہنچے۔ انتظامیہ نے 8 ویں محرم کے ماتمی جلوس نکالنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے سری نگر کے سات پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میںبدھ کی صبح ہی سخت ترین سیکورٹی پابندیاں نافذ کردی تھیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ شہر میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے شہید گنج، بتہ مالو، شیر گڈھی، کوٹھی باغ، رام منشی باغ، مائسمہ اور کرال کڈھ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں دفعہ 144 کے تحت پابندیاں نافذ رہیں ۔

لال چوک کی طرف جانے والے کچھ اہم راستوں کو خاردار تار سے سیل کردیا گیا تھا جبکہ ریاستی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری لال چوک اور اس کے ملحقہ علاقوں میں تعینات کردی گئی تھی۔ یو این آئی نامہ نگار جنہوں نے سری نگر کے بیشتر علاقوں کا دورہ کیا، نے بتایا کہ شہر کے مختلف حصوں بالخصوص سیول لائنز کے علاقوں میں سیکورٹی فورسز اور ریاسی پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کر رکھی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ شہید گنج کو جانے والے راستوں کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا تھا جبکہ گروبازار جہاں سے 8 ویں محرم کے تاریخی ماتمی جلوس کو برآمد ہونا تھا کی طرف کسی بھی شخص کو پیش قدمی کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔ ڈل گیٹ میں واقع حیدریہ ہال جہاں اس تاریخی ماتمی جلوس کو اختتام پذیر ہونا تھا، کی طرف جانے والی سڑکوں کو بھی خاردار تار سے سیل کردیا گیا تھا ۔ ڈل گیٹ کے ایک رہائشی نے بتایا ’علاقہ میں بدھ کی علی الصبح ہی بھاری تعداد میں سیکورٹی فورسز کی نفری تعینات کی گئی۔ علاقہ کی طرف جانے والی بنیادی سڑک کوخاردار تار سے بند کیا گیا ہے‘۔

حریت کانفرنس (ع) چیئرمین اور متحدہ مجلس علماءجموں وکشمیر کے امیر میرواعظ مولوی عمر فاروق نے شہر میں پابندیوں کے اطلاق پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’حکمرانوں نے محرم کے ماتمی جلوس کو نکالے جانے سے روکنے کے لئے سری نگر کو یرغمال بنادیا ہے۔ لوگوں کی نقل وحرکت پر ہر طرف پابندیاں اور رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔ اسپتالوں بالخصوص ایس ایم ایچ ایس اسپتال کی طرف جانے والی سڑکوں اور گلی کوچوں کو سیل کردیا گیا ہے۔ اسپتالوں کا رخ کرنے والے بیماروں کی مشکلات میں اضافہ کیا گیا ہے۔ لوگوں کی ہراسانی میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے‘۔ دریں اثنا ضلع سری نگر میں بدھ کے روز سبھی تعلیمی ادارے بشمول اسکول اور کالج بند رہے۔ تعلیمی ادارے ضلع انتظامیہ سری نگر کے احکامات پر بند رہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ آٹھویں محرم کے ماتمی جلوس اور پابندیوں کے اطلاق کے پیش نظر لیا گیا تھا۔ بتادیں کہ وادی کشمیر میں سری نگر کے گروبازار اور آبی گذر (تاریخی لال چوک) علاقوں سے برآمد ہونے والے 8 ویں اور 10 ویں محرم الحرام کے تاریخی ماتمی جلوسوں پر ریاست میں ملی ٹینسی کے آغاز یعنی 1989 سے پابندی عائد ہے۔ اِن دو تاریخی ماتمی جلوسوں پر سنہ 1989 میں اُس وقت کے ریاستی گورنر جگ موہن نے پابندی عائد کردی تھی۔ اُس وقت مرکز میں مرحوم مفتی محمد سعید وزیر داخلہ کے عہدے پر فائز تھے ۔ اگرچہ پابندی کے خلاف جموں وکشمیر اتحادالمسلمین نے سنہ 2008 میں جموں وکشمیر ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تاہم کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ کشمیری شیعہ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ محرم جلوسوں پر عائد پابندی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’عالمی منشور اور ہندوستانی آئین کے تحت مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگوں کو مذہبی معاملات بجا لانے ، مذہبی تقریبات کا انعقاد کرنے اور مذہبی جلوس نکالنے کا حق حاصل ہے مگر کشمیر میں انتظامیہ حالات کو بنیاد بناکر دو تاریخی محرم جلوسوں پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔ ایک عزادار نے بتایا ’عزاداروں کو پیٹ پیٹ کر تھانوں میں بند کیا جارہا ہے۔ ان کے ساتھ زیادتی اور ظلم ہوتا ہے۔ کچھ دن پہلے ہماری پنڈت برادری نے لال چوک میں جنم اسٹمی کا جلوس نکالا۔ لیکن مسلمانوں کو جلوس نکالنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ یہ ماتمی جلوس پرامن طور پر نکالے جاتے تھے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ 29 برس ہوگئے کہ ان جلوسوں پر پابندی جاری رکھی گئی ہے‘۔

سنہ 2012 میں 8 ویں اور 10 ویں محرم کے تاریخی جلوسوں پر عائد پندی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایک عزادار نے خود کو آگ لگاکر خودسوزی کی کوشش کی تھی۔ 1989 ءسے قبل جہاں 8 ویں محرم کا ماتمی جلوس سری نگر کے گرو بازار علاقے سے برآمد ہوکر حیدریہ ہال ڈل گیٹ میں اختتام پذیر ہوتا تھا وہیں 10 ویں محرم کا جلوس لال چوک کے آبی گذر علاقے سے برآمد ہوکرامام بارگاہ جڈی بل پر اختتام پذیر ہوتا تھا۔ انتظامیہ گذشتہ 28 برسوں سے 8 اور 10 محرم کو سری نگر کے سیول لائنز علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کرکے ماتمی جلوس نکالنے کی کوششوں کو ناکام بناتی آئی ہے۔

اگرچہ سینکڑوں عزادار ہر سال کرفیو اور پابندیوں کے باوجود ماتمی جلوس نکالنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم پولیس لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کرکے انہیں منتشر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ عزاداروں کو حفاظتی تحویل میں لیا جاتا ہے اور بعض شیعہ علماءکو محرم جلوس کی قیادت کرنے سے روکنے کے لئے انہیں اپنے گھروں میں نظر بندکیا جاتا ہے۔
پابندیوں باوجود 8 ویں محرم کا تاریخی ماتمی جلوس نکالا: جموں و کشمیر اتحاد المسلمین
جموں و کشمیر اتحاد المسلمین کے ایک ترجمان نے کہا کہ سری نگر میں 8 ویں محرم الحرام کا تاریخی ماتمی جلوس شہید گنج اور بتہ مالوسے پابندیوں اور بندشوں کے باوجود نکالا گیا۔ انہوں نے کہا ’ جموں و کشمیر اتحاد المسلمین کے اہتمام سے8 محرم الحرام کی صبح سے ہی سری نگر کا تاریخی جلوس عزاداری سخت بندشوں اور پابندیوں کے باوجود بتہ مالو اور شہید گنج سے برآمد کرنے کی کوششوں کا آغاز ہوا۔
ہزاروں کی تعداد میں حسینی عزاداروں نے وقفہ وقفہ سے ان جلوسوں میں شرکت کی اور نوحہ کرتے ہوئے جہانگیر چوک کی جانب بڑھے۔ اس موقعہ پر ریاستی انتظامیہ کی مسلم دشمن پالیسیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پولیس اور سی آر پی ایف نے پر امن عزاداروں پر زبردست ٹیرگیس شیلنگ کی اور ان پر لاٹھی چارچ کیا جس سے درجنوں لوگ شدید زخمی ہوئے اور سینکڑوں جوانوں کو گرفتار کرکے کاکہ سرائے، بتہ مالو، کوٹھی باغ اور شہید گنج تھانوں میں پابند سلاسل کیا گیا‘۔ ترجمان کے مطابق اس کے بعد دو سرے جلوس فائر سروس کراسنگ بتہ مالو سے نکالے گئے جن میں بھی ہزاروں عزادار ماتم اور نوحہ کرتے ہوئے شامل ہوئے اور جہانگیر چوک کی طرف بڑھے لیکن پولیس نے یہاں پر بھی ظلم و جبر اور فسطائیت کا کھلا مظاہرہ کرتے ہوئے عزاداروں پر شدید تشدد کیا جس سے درجنوں افرادد زخمی ہوئے جن میں کچھ نابالغ بچے بھی شامل ہیں۔

نماز ظہر کے بعد جنرل سیکریٹری سید مظفر رضوی کی قیادت میں جلوس عزادری مائسمہ سے برآمد ہوکر براستہ مولانا آزاد روڑ ڈل گیٹ کی جانب بڑھا لیکن یہ بھی پولیس کی بے تحاشا شیلنگ کا شکار ہوا اور سید مظفر کو گرفتار کیا گیا۔ اتحاد المسلمین کے ترجمان کے مطابق پولیس بربریت اس حد تک تھی کہ تھانوں میں مقید افراد کی گرفتاری کی ہی حالت میں شدید مار پیٹ کی گئی۔ زخمی افراد میں سے ایک درجن سے زاید کو صدر ہسپتال اور صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں داخل کیا گیا جن میں سے بعض کی حالت گھمبیر ہے۔
اس سے پہلے منگلوار کی رات سے ہی اتحاد المسلمین کے سرپرست اعلیٰ مولانا محمد عباس انصاری اور صدر مسرور عباس انصاری کو گھر میں نظر بند کیا گیا تھا۔ اتحاد المسلمین کے ترجمان نے 8 محرم کے جلوس پر بقول ان کے بلا جواز پابندی اور پرامن عزاداروں پر پولیس کے ذریعے تشدد ڈھانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مداخلت فی الدین سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی انتظامیہ نے محرم کے متبرک ایام کے دوران عزاداروں کو سہولیات بہم پہنچانے کے بجائے عزاداری کے جلوس پر پابندی نافذ کرکے اور عزاداروں کو زد و کوب کرکے جس بدترین فعل کا ارتکاب کیا ہے وہ اس کی فرقہ پرست ذہنیت کی عکاسی کے لئے کافی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ انتظامیہ نے اتحاد المسلمین کی قیادت کو نظربند کرکے شاید یہ گمان کیا تھا کہ اس سے جلوس رک جائے گا مگر امام عالی مقام کے شیدائیوں نے تمام تر پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود جلوس نکال کر یہ ثابت کیا کہ شیعیان کشمیر حسینیت میں کسی بے جا مداخلت کو برداشت نہیں کرسکتے اور امام حسین(ع) کی عزاداری کو محدود کرنے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ یہاں کی تمام حکومتوں منجملہ گورنر انتظامیہ نے شیعہ مسلک کے ساتھ بدترین امتیازی سلوک انجام دیا ہے کیونکہ ہر سرکار امرناتھ یاترا کے لئے جموں سے گھپا تک سیکورٹی فراہم کرتی ہے اور اس کے لئے کروڑوں کا بجٹ مختص رکھا گیا ہے لیکن جب شیعہ مسلک کے مذہبی امور کی بات آتی ہے تو سرکار کو ٹریفک اور سیکورٹی کی فکر پڑتی ہے۔
Comments are closed.