ضلع ترقیاتی کمشنروں اور پولیس کے ضلعی سربراہوں کی کانفرنس

سری نگر: چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرامنیم نے ضلع ترقیاتی کمشنروں سے کہا کہ وہ جاری پروجیکٹوں اور سکیموں پر کڑی نظر گزر رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے اضلاع میں التواء میں پڑے پروجیکٹوں کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے مو¿ثر اقدامات اٹھائیں۔
چیف سیکرٹری نے آج ایس کے آئی سی سی سری نگر میں ضلع ترقیاتی کمشنروں اور ضلعی ایس ایس پیز کی ایک روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کا انعقاد ریاست میں گورنر رول کے تین ماہ مکمل ہونے کی تاریخ پر ہو رہا ہے ۔انہوںنے کہا کہ اس مدت کے دوران تیز ترترقی کو یقینی بنانے اور بہتر حکمرانی کی دستیابی کی طر ف توجہ مرکوز کی گئی ۔
کانفرنس کا افتتاح گورنر ستیہ پال ملک نے آج صبح کیا اور اسے گورنر کے مشیر بی بی وِیاس ، کے وِجے کمار اور خورشید احمد گنائی کے علاوہ ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے بھی خطاب کیا۔
انتظامی سیکرٹریوں ، کشمیر اور جموں کے صوبائی کمشنروں ، آئی جی پی جموں ، آئی جی پی کشمیر اور کئی دیگر اعلیٰ افسروں نے بھی کانفرنس میں شرکت کی اور عوامی نوعیت کے ترقیاتی اور حکومتی معاملات سے جُڑے امور پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔
کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ انتظامیہ کو مو¿ثر طریقے پر تیز تر بنیادوں پر کام کرنا ہوگا تاکہ ترقیاتی اور حکمرانی کے شعبوں میں زمینی سطح پر مو¿ثر نتائج دیکھنے کو ملے ۔انہوں نے کہا کہ شفافیت اور مشاورت کے ساتھ کام کرنے کی توجہ دی جانی چاہئیں تاکہ حکمرانی کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا جاسکے ۔انہوںنے کہا کہ وسائل کو منصفانہ اور سود مند طریقے پر بروئے کار لانے کے ساتھ ساتھ ترجیحی شعبوں میں رقومات کے تصرف کو یقینی بنایاجانا چاہئے تاکہ عام لوگ مستفید ہوسکیں۔
چیف سیکرٹری نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی رقومات کی عدم دستیابی کی وجہ سے التوا¿ میں پڑے پروجیکٹوں کو مکمل کرنے کےلئے مو¿ثر اقدامات کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ایک خصوصی سکیم شروع کی گئی ہے تاکہ ان

پروجیکٹوں کے لئے متواتر رقومات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنروں سے کہا کہ وہ اس طرح کے پروجیکٹوں کی ترجیحی بنیادوں پر نشاندہی کریں اور انہیں مزید کارروائی کے لئے حکومت کو بھیج دیں۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ عوامی نوعیت کے اہم کچھ پروجیکٹ نئی سکیم کے دائرے میں لائے جارہے ہیں اور ان میں پُل ، سڑکیں اور عمارتیں شامل ہیں۔
چیف سیکرٹری نے بڑے ترقیاتی پروجیکٹوں ، پروگراموں اور فلیگ شپ سکیموں میں جدت لانے کی ضرورت پر زوردیا تاکہ انہیں وقت پر مکمل کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی پی پروجیکٹوں کو ترجیحات میں رکھا جانا چاہیئے تاکہ ایمز ، آئی آئی ٹی ، آئی آئی ایم ،رِنگ روڈس اور دیگر پروجیکٹوں کو وقت پر مکمل کیا جاسکے ۔
ریاست میں ہونے والے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کا ذکر کرتے ہوئے ضلع ترقیاتی کمشنروں سے کہا کہ وہ الیکشن عمل سے غیر متوجہ نہ ہوں اور وہ ترقیاتی پروجیکٹوں پر نظر گزر رکھنے کے ساتھ ساتھ چناﺅ عمل پر بھی نگرانی کریں۔
چیف سیکرٹری نے زراعت اور باغبانی شعبوں کو ریاستی اقتصادیات کی ریڈھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان شعبوں کو دوام بخشنے کے لئے پہلے کچھ سکیمیں شروع کی ہیں جن کو عملانے سے ان شعبوں کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔
چیف سیکرٹری نے کہا کہ حکومت نے شکایات کو حل کرنے کا ایک مو¿ثر لائحہ عمل اختیار کیا ہے جن میں ملازمین کے مسائل بھی شامل ہے ۔انہوں نے کہا کہ شکایتوں کو حل کرنے کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ چیف سیکرٹری نے سرکار ی دفاتر میں حاضری کی باقاعدگی یقینی بنانے پر زو ر دیتے ہوئے ترقیاتی کمشنروں سے کہا کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں موجود ذیلی دفاتر میں ملازمین کی حاضری پر نظر گزر رکھیں۔
ایس ایس اے اساتذہ کے مشکلات کا ذکرکرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ حکومت ان اساتذہ کے تمام مسائل حل کرنے کی وعدہ بند ہے اور اس تعلق سے مطالبات کا جائزہ لینے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
اس سے قبل کانفرنس میں استفسار سے تین اجلاس منعقد کئے گئے جس دوران ضلع ترقیاتی کمشنروں نے مختلف محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا اور متعلقہ محکموں سے جڑے معاملات کو زیر بحث لایا ۔

Comments are closed.