انتخابات سے بھاگنے والی جماعتیں اپنی سیاسی بنیاد کھوچکی ہیں: بی جے پی

جموں ،: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جموں وکشمیر یونٹ کے سینئر لیڈر اور سابق نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا نے کہا ہے کہ انتخابات سے بھاگنے والی جماعتیں اپنی سیاسی بنیاد کھوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں آنے والا وقت بی جے پی کا ہے۔

کویندر گپتا نے بدھ کے روز یہاں ایک تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ’بھارتیہ جنتا پارٹی انتخابات کے لئے تیار ہے۔ آنے والے وقت میں ہم جموں وکشمیر کے اندر غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔

جو پارٹیاں الیکشن سے بھاگ چکی ہیں، وہ سیاسی بنیاد کھوچکی ہیں۔ اس لئے یہ صاف نظر آرہا ہے کہ آنے والا وقت بی جے پی کا ہے‘۔ بتادیں کہ ریاست کی دو بڑی علاقائی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے ریاست میں اعلان شدہ پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

ان دونوں جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ مرکزی سرکار دفعہ 35 اے کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑچھیڑ نہ کرنے کی ضمانت دے تو پھر انتخاب میں حصہ لیں گی۔ سی پی آئی ایم نے بھی حصہ نہ لینا کا فیصلہ کیا ہے۔ یو این آئی

کشمیر: شوپیان میں پنچایت گھر کو نذر آتش کرنے کی ناکام کوشش

جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں منگل اور بدھ کی درمیانی رات کے دوران نامعلوم افراد کی جانب سے ایک پنچایت گھر کو نذر آتش کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق نامعلوم افراد نے گذشتہ رات دیر گئے شوپیان کے جمناگری علاقہ میں قائم پنچایت گھر میں آگ لگائی۔ تاہم مقامی لوگوں نے فوری طور پر حرکت میں آکر پنچایت گھر میں لگائی گئی آگ پر قابو پالیا۔ آگ کی اس وارداد میں پنچایت گھر کو معمولی نوعیت کا نقصان پہنچا ہے۔ خیال رہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں پنچایتی انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے ساتھ جنوبی کشمیر میں نامعلوم افراد نے پنچایت گھروں کو آگ لگانا شروع کردیا ہے۔ 16 ستمبر کو پنچایتی انتخابات کی تاریخوں کے باضابطہ اعلان سے لیکر اب تک 5 پنچایت گھروں میں آگ لگائی جاچکی ہے۔ آگ کی ان وارداتوں میں پنچایت گھروں کے ان پختہ ڈھانچوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ آتشزنی کے یہ واقعات پلوامہ اور شوپیان اضلاع میں رونما ہوئے ہیں۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ آتشزنی کے ان واقعات کے سلسلے میں متعلقہ پولیس تھانوں میں کیس درج کرکے ملوثین کا پتہ لگانے کا کام شروع کیا گیا ہے۔ بتادیں کہ ریاست میں 16 ستمبر کو پنچایتی اداروں کے انتخابات کے شیڈول کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔ یہ انتخابات17 نومبرسے11 دسمبر تک9 مرحلوں میں منعقد کئے جائیں گے۔ ریاست میں اس سے پہلے پنچایت انتخابات 10 سال کے بعد 2011 میں منعقد ہوئے تھے اور ان پنچایتوں نے اپنی مدت جولائی2016 میں مکمل کی تھی۔ ریاست میں پنچایتی انتخابات کے ساتھ ساتھ بلدیاتی انتخابات کی تاریخوںکا بھی اعلان کیا جاچکا ہے۔ بلدیاتی انتخابات اکتوبر کے مہینے میں منعقد کئے جارہے ہیں۔ تاہم ریاست کی دو بڑی علاقائی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

ان دونوں جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ مرکزی سرکار دفعہ 35 اے کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑچھیڑ نہ کرنے کی ضمانت دے تو پھر انتخاب میں حصہ لیں گی۔ سی پی آئی ایم نے بھی نیشنل اور پی ڈی پی کی لائن اختیار کی ہے۔ جبکہ مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک بلدیاتی و پنچایتی انتخابات کے مکمل بائیکاٹ کی کال دے چکی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے 17 ستمبر کو نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی سے اپیل کی ہے کہ وہ بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات میں حصہ لیں۔ جموں میں بی ایس ایف ہیڈکوارٹر پر منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران نامہ نگاروں کی طرف سے بائیکاٹ سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں راجناتھ سنگھ نے کہا’جن سیاسی جماعتوں نے بائیکاٹ کیا ہے، میں ان سے اپیل کرتاہوں کہ سیاسی عمل میں وہ بھی حصہ لیں کیونکہ اس طرح کے انتخابی عمل سے عوام کے ساتھ راست رابطہ کا موقع ملتا ہے‘۔وزیر داخلہ نے یہ پوچھے جانے پر کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے کیوں بائیکاٹ کال دی ہے، اس بارے کوئی جواب نہ دیا۔ گذشتہ دنوں گورنر ستیہ پال ملک نے بھی نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی سے انتخابات میں حصہ لینے کی اپیل کی تھی۔ یو این آئی

Comments are closed.