پلوامہ اور شوپیان میں تعزیتی ہڑتال سے معمول کی زندگی مفلوج 

بامنو خونین معرکہ آرائی میں 3حزب جنگجوؤں کی ہلاکت

 

سرینگر/05جولائی / بامنو پلوامہ میں طویل معرکہ آرائی کے دوران تین حزب جنگجوؤں کی ہلاکت کے خلاف جنوبی قصبہ پلوامہ اور شوپیان کے بیشتر علاقوں میں بدھ کو تعزیتی ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں معمول کی زندگی بری طرح متاثر رہی ۔ اسی دوران ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر سیکورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات عمل میں لائے گئے تھے اور کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کیلئے فورسز کو تیاری کی حالت میں رکھا گیا تھا ۔ تاہم اس کے باوجود بھی کئی مقامات پر فورسز کے درمیان پر تشدد جھڑپیں ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق بامنو پلوامہ میں خونین معرکہ آرائی کے تین حزب جنگجوؤں جن کی شناخت جہانگیر احمد ساکنہ کیلر ، اختر عالم ساکنہ ریاسی اور کفایت احمد ساکنہ بامنو کے بطور ہوئی کی ہلاکت کے خلاف بدھ کو قصبہ پلوامہ اور شوپیان میں تعزیتی ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں معمول کی زندگی متاثر رہی ۔ ہڑتال کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، دکانیں، تجارتی مراکزا ور دفاتر وغیرہ بند رہے جبکہ گاڑیوں کی آمدروفت بھی بری طرح سے متاثر رہی۔البتہ کچھ ایک جگہوں پر چھوٹی مسافر اور پرائیویٹ گاڑیاں سڑکوں پر نظر آئیں۔ادھر انتظامیہ نے کسی بھی ممکنہ گڑ بڑ سے نمٹنے کیلئے سیکورٹی کے سخت انتظامات عمل میں لائے تھے اور فورسز کو تیاری کی حالت میں رکھا گیا ۔ پلوامہ سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ ہڑتال کے نتیجے میں معمول کی زندگی بری طرح متاثر رہی ۔ جبکہ جاں بحق جنگجوؤں کے آبائی علاقوں میں تعزیتی مجالس کا اہتمام ہوا جس میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور انکو خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ادھرشوپیان سے بھی نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ بامنو جھڑپ میں جاں بحق جنگجوؤں کی یاد میں قصبہ شوپیان میں بھی مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال سے معمول کی زندگی متاثر رہی ۔ نمائندے کے مطابق ہڑتال کے نتیجے میں قصبہ میں تمام تجارتی و کاروباری سرگرمیاں متاثر رہی جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی غائب رہی ۔ نمائندے کے مطابق قصبہ میں امن و امان کی صورتحال کو بر قرار رکھنے کیلئے فورسز کی اضافہ نفری تعینات کی گئی تھی تاہم کسی بھی جگہ سے کوئی نا خوشگوار واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔

Comments are closed.