مزدور کے چہارم پر اشٹینگو بانڈی پورہ میں تشدد بھڑک اٹھا

عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر لہو لہاں کرنے کا لوگوں نے الزام لگایا

سرینگر /19 جون/اے پی آئی/ اشٹینگو بانڈی پورہ کے علاقے میں اس وقت سنسنی اور خوف و دہشت کا ماحول پھیل گیا جب 22سالہ مزدور کے چہارم پر نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرے کئے اور بانڈی پورہ سوپور شاہراہ کو گاڑیوں کی آمد و رفت کیلئے بند کر دیا ۔ پولیس و فورسز نے احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے طاقت کا بے تحاشا استعمال کیا ۔ مقامی لوگوں نے پولیس و فورسز پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ فورسز اور پولیس کے اہلکاروں نے رہائشی مکانوں کے شیشے چکنا چور کئے اور راہگیروں کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔ اے پی آئی نمائندے کے مطابق اشٹینگوں بانڈی پورہ کے علاقے میں اس وقت سنسنی اور خوف و دہشت کا ماحول پھیل گیا جب حیدر پورہ سرینگر کے علاقے میں فورسز کے ہاتھوں جاں بحق ہوئے 22سالہ مزدور نصیر احمد شیخ کے چہار م کے موقعے پر علاقے کے نوجوانوں نے احتجاجی ریلی نکالی اور بانڈی پورہ سوپور شاہراہ کو گاڑیوں کی آمد و رفت کیلئے بند کر دیا ۔ اس دوران پولیس و فورسز کی جمعیت علاقے میں داخل ہوئی اور شاہراہ سے رکاوٹیں ہٹا نے کی کوشش کی جس پر نوجوان مشتعل ہوئے اور انہوںنے سنگباری شروع کر دی ۔ تشدد پر اتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے پولیس و فورسز نے اشک آور گیس کے گولے داغے ،ساؤنڈ شل اور پیپر گیس کا بے تحاشا استعمال کیا جس کی وجہ سے علاقے میں لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرناپڑ ا۔ نمائندے کے مطابق نوجوانوں اور پولیس وفورسز کے مابین تصادم آرائی کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا جس کے دوران کئی عام شہریوں کو چوٹیں آئیں ۔ ادھر مقامی لوگوں نے پولیس وفورسز پر گھروں میں گھسنے ،رہائشی مکانوں کی کھڑکیاں ، شیشے چکنا چور کرنے ،گھریلوں اشیا تہس نہس کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پولیس وفورسز کے اہلکاروں نے درجنوں افراد کو تشدد کا نشانہ بنا کر انہیں لہو لہاں کر دیا ۔

Comments are closed.