محکمہ سیاحت کا بیرون ریاست میڈیا کیلئے ٹور کا اہتمام کرگل میلے کا بھی انعقاد کیا جائے گا،مہم جوئی کیلئے خطے کو فروغ دیا جائے گا

سرینگر؍ جے کے این ایس؍؍ سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے محکمہ سیاحت بیرون ریاستی میڈیا کیلئے21جون سے دورہ کرگل کا اہتمام کر رہی ہے جبکہ اسی دوران کرگل سیاحتی میلے کا انعقاد بھی کیا جائے گا تاکہ کرگل کو سیاحتی اعتبار سے تشہر حاصل ہو۔ جے کے این ایس کے مطابق کرگل میں سیاحتی سرگرمیوں کو فروگ دینے کیلئے حکومت نے بٹے پیمانے پر تگ دو شروع کی ہے،جبکہ پہلے مرحلے میں غیر ریاستی میڈیا کو مدعو کیا جا رہا ہے۔ کرگل دورہ کے دوران ناظم سیاحت محمود شاہ نے کرگل سیاحتی استقبالیہ مرکز میں ہوٹل مالکان اور ٹراول ایجنٹوں سے ملاقات کی،جس کے دوران انہوں نے بتایا کہ محکمہ سیاحت 21جون سے27جون تک غیر ریاستی میڈیا نمائندوں کو مدعو کر رہی ہے تاکہ وہ کشمیر اور کرگل کے بارے میں مثبت انداز میں تشہیر کرے،تاکہ بیرون ریاستوں میں لوگوں کو کشمیر کی خوبصورتی اور دلفریب مناظر کے بارے میں صیح معلومات حاصل ہو۔ انہو ں نے کہا کہ فی الوقت کرگل سیاحوں کیلئے صرف ایک نقطہ آرمگاہ ہے،جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو زیادہ فائدہ نہیں ہو پا رہا ہے۔انہوں نے کہا’’ہم چاہتے ہیں کہ سیاح کرگل میں بھی ٹھرے اور کچھ دن یہاں بھی گزارے،اور اس کیلئے ہم کرگل کے غیر متعارف جگہوں کو فرغ دینگے‘‘۔ ڈائریکٹر ٹوارزم نے کہا کہ محکمہ کرگل کو مہم جوئی سیاحتی سرگرمیوں کیلئے فروغ دئے گا،اور اس کیلئے جامع کھیل سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا،اور ملک بھر سے لوگ اس میں شمولیت کرینگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ6ہزار میٹر سے اپر چوٹیوں کو بھی کوہ پیمائی سیاحتی سرگرمیوں کیلئے فروغ دئے گا۔محمود شاہ نے کہا’’6ہزار یا اس سے اپر والی چوٹیوں کا بازار میں قیمت ہیں‘‘،اور کرگل میں ہم ان چوٹیوں کو نشاندہی کر کے کوہ پیمائی کیلئے پیش کرینگے،جس کی وجہ سے خطے میں سیاحتی سرگرمیوں کو فرغ حاصل ہوگا۔ انہوں نے ہوٹل مالکان کو بھی صلاح دی کہ ہوٹلوں کی جدید اور ان میں بہتر سہولیات مہیا رکھنے کیلئے مرکزی حکومت کی اسکیموں سے وہ استفادہ حاصل کریں۔ اس سے قبل اتوار کو ڈائریکٹر سیاحت نے دراس اور دیگر کم معروف علاقوں کا دورہ کیا،جبکہ اس دوران ان علاقوں میں سیاحاتی سہولیات کا بھی جائزہ لیا۔محمود شاہ نے مشکوہ وادی اور بھیم باٹ علاقے کا بھی دورہ کیا،جو ایک خوبصور علاقہ ہیں اور دریائے دراس بھی وہاں سے گزرتا ہے۔وادی مشکوہ سے آئندہ دنوں میں گریز تک مہم جویہ کرسکتا ہے۔ بھیم باٹ کو تاریخی حیثیت بھی حاصل ہیں جبکہ اس علاقے میں ایک بری چٹان ہیں اور مقامی لوگوں کا اعتقاد ہے کہ یہ پانڈو برداراروں میں سے بھیم کا جسم ہیں،اور یہ کہا جاتا ہے کہ جب پانڈؤں کو گھر اور وطن بدر کیا گیا تو یہ اسی دور کی ہے،اور یہ دراس سے5کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ اسسٹنٹ دائریکٹر کرگل آغا طلحیٰ،ایگزیکٹو انجینئر کرگل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے علاوہ ہوٹل مالکان اورٹرول ایجنٹوں نے بھی میٹنگ میں شرکت کی۔

Comments are closed.