ایل او سی پر بھارتی فائرنگ سے 2 نوجوان جاں بحق، 3 زخمی
بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی ، احتجاج ریکارڈ کیا گیا /پاکستانی دفتر خارجہ
سرینگر؍12؍جون؍ جے کے این ایس؍؍ پاکستان نے الزام عائد کیا ہے کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب آزاد جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 2 نوجوان جاں بحق جبکہ 3 افراد زخمی ہوگئے۔جے کے این ایس مانٹرنگ کے مطابق پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فورسز نے لائن آف کنٹرول کے ساتھ جندروٹ اور تتہ پانی سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں بھابڑا گاؤں کے رہائشی 18 سالہ وقار یونس اور 19 سالہ اسد علی جاں بحق ہوگئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فائرنگ کے نتیجے میں 3 افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں بھابڑا گاؤں کے رہائشی 30 سالہ محمد شہباز اور چکرالی گاؤں کی رہائشی 35 سالہ شمائلہ خورشید اور 14 سالہ حفصہ شبیر شامل ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے بھارت کی بلااشتعال فائرنگ کا بھرپور جواب دیا۔اس سے قبل سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) چوہدری ذوالقرنین سرفراز نے بتایا تھا کہ بھارتی شیلنگ کا آغاز صبح پونے 5 کے قریب ہوا۔ایس ایس پی کے مطابق، ‘ہندوستانی فورسز نے بلااشتعال فائرنگ کی اور معمول کے مطابق شہری آبادی کو نشانہ بنایا’۔ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ ‘اگرچہ فائرنگ کا سلسلہ رک گیا، لیکن کچھ معلوم نہیں کہ کب بھارتی فورسز دوبارہ سے فائرنگ کا آغاز کردیں’۔تتہ پانی سیکٹر سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی سردار محمد جاوید نے بذریعہ ٹیلیفون بتایا کہ بھارتی فورسز کی فائرنگ شدید تھی، لیکن پاکستانی فوجیوں نے بھرپور جواب دیا۔فائرنگ کے واقعے کے بعد بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کرکے شہریوں کی ہلاکت پر احتجاج ریکارڈ کروایا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ بھارت سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی بند کرے۔حکام کے مطابق رواں برس جنوری سے اب تک بھارت لائن آف کنٹرول پر 400 سے زائد مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرچکا ہے، جبکہ گذشتہ برس یہ تعداد 382 تھی۔حالیہ ہلاکت کے بعد جنوری سے اب تک بھارتی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10 تک جا پہنچی ہے جبکہ ان واقعات میں 65 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔
Comments are closed.