شوپیاں میں دورانِ شب پولیس اسٹیشن اور کانگریس لیڈر کے رہائشی مکان پر اندھا دھند فائرنگ

عسکریت پسند اسلحہ لوٹنے کی غرض سے آئے ہوئے تھے تاہم اہلکاروں نے جنگجوؤں کے ارادوں کو ناکام بنایا /پولیس ذرائع
سرینگر؍12؍جون؍ شوپیاں میں دورانِ شب عسکریت پسندوں نے پولیس اسٹیشن اور کانگریس لیڈر کے رہائشی مکان پر کئی منٹوں تک فائرنگ کی جس کے نتیجے میں آس پاس رہائش پذیر لوگ گھروں میں سہم کر رہ گئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ جنگجوں کانگریس لیڈر کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کا اسلحہ لوٹنے کی غرض سے آئے ہوئے تھے تاہم متحرک اہلکاروں نے عسکریت پسندوں کے منصوبوں کو ناکام بنایا ۔ پولیس ذرائع کے مطابق حملے کے بعد آس پاس علاقوں میں تلاشی آپریشن شروع کیا گیا تاہم اس دوران کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔ جے کے این ایس کے مطابق پہاڑی ضلع شوپیاں میں اتوار شام پونے گیارہ بجے کے قریب اُس وقت خوف و ہراس کا ماحول پھیل گیا جب جنگجوؤں کے ایک گروپ نے پولیس اسٹیشن پر اندھا دھند فائرنگ کی ۔ نمائندے کے مطابق عسکریت پسندوں نے مقامی کانگریس لیڈر غلام حسن خان کے رہائشی مکان کے اندر گھسنے کی کوشش کی اس دوران حفاظت پر مامور اہلکاروں نے جنگجوؤں کے ارادوں کو ناکام بناتے ہوئے جوابی کارروائی شروع کی اور کئی منٹوں تک دونوں اطراف سے شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا ۔ نمائندے کے مطابق عسکریت پسندوں کی جانب سے پولیس اسٹیشن پر حملہ کرنے کی خبر ملتے ہی ایس او جی اور مقامی فوجی یونٹ سے وابستہ اہلکار جائے موقع پر پہنچ گئے اور آس پاس علاقوں کو محاصرے میں لے کر تلاشی کارروائی شروع کی تاہم اس دوران کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔ ذرائع کے مطابق عسکریت پسند کانگریس لیڈر کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کا اسلحہ لوٹنے کی غرض سے آئے ہوئے تھے تاہم حفاظت پر مامور اہلکاروں کی جانب سے جوابی کارروائی کے بعد جنگجوؤں نے فرار ہونے میں ہی عافیت سمجھی ۔ پولیس ذرائع کے مطابق جنگجوؤں نے دورانِ شب کانگریس لیڈر کے رہائشی مکان پر فائرنگ کی تاہم متحرک فورسز اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی جس کے بعد عسکریت پسند بھاگ گئے ۔ شوپیاں میں پچھلے کئی دنوں سے عسکری کارروائیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے اور اسکو مد نظر رکھتے ہوئے پہاڑی ضلع میں حفاظت کے غیر معمولی اقدامات اٹھائے گئے ہیں جبکہ فورسز کیمپوں، سیاستدانوں کی رہائش گاہوں کے ارد گرد بھی اضافی اہلکار تعینات کئے گئے ہیں تاکہ عسکریت پسندوں کے حملوں کو رونما ہونے سے پہلے ہی ٹالا جاسکے۔ ذرائع نے بتایا کہ شوپیاں میں سرگرم عسکریت پسندوں کو تلاش کرنے کیلئے پولیس ، فوج اور پیرا ملٹری فورسز کو متحرک کیا گیا جبکہ جنگجو مخالف آپریشنز میں تیزی لانے کے ضمن میں بھی احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ دفاعی ذرائع کے مطابق پہاڑی ضلع شوپیاں میں جنگجوں اپنی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے پولیس اسٹیشنوں اور فورسز کیمپوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاہم پورے ضلع میں سیکورٹی کے غیر معمولی اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔ دفاعی ذرائع نے مزید بتایا کہ جنگجوؤں کے عزائم کو ناکام بنانے کیلئے فوج کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔

Comments are closed.