کشمیری عوام کی مذہبی رواداری پوری دنیا کیلئے مثال :مشترکہ مزاحمتی قیادت

امرناتھ یاتری ہمارے مہمان، اُنکی مہما ن نوازی شاندار روایات کے مطابق کی جائیگی

سری نگر:٢٩،جون: مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کشمیری عوام کی مذہبی رواداری ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مہمان نوازی کی عظیم روایات کو پوری دنیا کیلئے ایک مثال قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امرناتھ کیلئے آنے والے یاتری ہمارے مہمان ہیں اور ان کی مہما ن نوازی ان ہی شاندار روایات کے مطابق کی جائیگی۔کے این این کو موصولہ تحریری بیان کے مطابق مزاحمتی قائدین نے کہا کہ چاہے سیاح ہوں یا یاتری کشمیری عوام نے ہمیشہ اور مشکل اور بدترین حالات میں بھی اپنی اسلامی قدروںاور مہمان نوازی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ان لوگوںکا نہ صرف خیر مقدم کیا ہے بلکہ ان کو تحفظ بھی فراہم کیا ہے۔ بھارت کے سرکاری میڈیا کی جانب سے اس ضمن میں کئے جارہے پروپیگنڈے کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے مزاحمتی قائدین نے کہا کہ یاتریوں کے تحفظ کے حوالے سے جو غلط تاثر دیا جارہا ہے وہ حقیقت سے کوسوں دور اور محض پروپیگنڈا ہے جو میڈیا کے اس حصے کا ہمیشہ وطیرہ رہا ہے اور جس کے تحت وہ کشمیر کے حالات کی صحیح عکاسی کرنے کے بجائے یہاں کے حالات کو توڑ مروڑ کر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔مزاحمتی قائدین نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ بھارت کے لوگ یہاں آئیں اورکشمیری عوام پر سرکاری سطح پر جو مظالم ڈھائے جارہے ہیں ان کے جملہ حقوق طاقت کے بل پر سلب کئے جارہے ہیں اور بے پناہ فوجی جمائو اور طاقت کے بل پر یہاں کے عوام کو پشت بہ دیوار کرنے کیلئے جو مذموم حربے استعمال کئے جارہے ہیں وہ ان حالات کو سمجھیں اور مسئلہ کشمیر کی اصل اور تاریخی حقیقت سے واقف ہو جائیں تاکہ ان کو حکومتی سطح پر اور بھارتی میڈیا کے بعض حصے کی جانب سے کشمیر اور کشمیری عوام کے متعلق جو غلط تاثر دیا جارہا ہے اور مسئلہ کشمیر کی اصل حقیقت سے بے خبر رکھا جارہا ہے وہ اُس سے باخبر ہوکر دوسروں کو بھی یہاں کے اصل حقائق سے آگاہ کریں۔انہوںنے کہا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہندوستان کے عوا م کو ہمیشہ کشمیر کے صحیح حالات اور حقائق سے اور اس مسئلہ کے سیاسی اور تاریخی پس منظر سے بے خبر رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے اور حکومتی سطح پر اور بھارتی میڈیا کے ایک حصے نے ہمیشہ یہاں کے حالات کو دنیا کے سامنے غلط رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور یہی منفی سوچ یاتریوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی اختیار کی جارہی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ چاہے ٢٠٠٨ء ہو یا ٢٠١٠ء یا پھر ٢٠١٦ء کی عوامی تحریکوں کے دوران جب کشمیر کی صورتحال انتہائی بدترین حد تک بگڑ چکی تھی ، بلٹ اور پیلٹ کے قہر سے کشمیری نوجوانوںکو شہید ، اندھا اور اپاہج کیا جارہا تھا، ہزاروں نوجوا نوں کو پس زندان ڈال دیا گیا تھا ، مزاحمتی قیادت اور عوام پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا تھا ایسے حالات میں بھی یہاں کے عوام نے بھی چاہے یاتری ہوں یا سیاح ان کو سر آنکھوں پر بٹھایا اور ان کی خاطر مدارات بھی روایتی مہمان نوازی اور رواداری کی شاندار روایات کو مد نظر رکھ کر کی۔انہوںنے کہا کہ ہم ان یاتریوں اور سیاحوں کو اپنی اور کشمیری عوام کی جانب سے یقین دلانا چاہتے ہیں کہ کشمیری عوام کی جانب سے ان کو کسی بھی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے اور وہ کشمیری عوام اور یہاں کے حالات کے حوالے سے کئے جارہے منفی پروپیگنڈے سے متاثر ہونے کے بجائے بے خوف ہوکر اپنی مذہبی فریضہ کو انجام دیں۔

Comments are closed.