پیر پنچال کے آر پار شدید موسلادھار بارشیں، سیلابی صورتحال خطرہ ،الرٹ جاری

دریائوں اور ندی نالوں میں طغیانی ،کئی چھوٹے پل بہہ گئے ،درجنوں دیہات کا زمینی رابط منقطع
لوگوں سے محتاط رہنے کی تلقین ،کئی علاقوں میںبچائو کارروائیاںشروع ،سرینگر ،جموں شاہراہ اور مغل روڑ بند

سری نگر:٢٩،جون:کے این این/ مون سون کی دستک کے ساتھ ہی گزشتہ24گھنٹوں کے دوران پیر پنچال کے آر پار شدیدموسلادھار بارشوں کے نتیجے میں سیلابی صورتحال کا خطرہ پیدا ہوگیا جبکہ محکمہ اری گیشن اینڈ فلڈ کنٹرول نے سیلابی الرٹ جاری کردیا ۔ ٹنل کے آر پار کے ندی نالوں میں طغیانی آنے سے کئی چھوٹے پل ،ایک اسکولی عمارت اور پگڈیوںکو شدید نقصان پہنچا جسکے نتیجے میں درجنوں دیہات کے زمینی رابطے منقطع ہو کر رہ گئے ۔شام 5بجے دریائے جہلم میں سطح آب سنگم کے مقام پر 20.44فٹ ،رام منشی باغ کے مقام پر12.35فٹ اور عشم کے مقام پر4.5فٹ ریکارڈ کی گئی۔اس دوران دریائوں اورندی نالوں میں سطح آب میں اضافہ ہونے کے ساتھ پانی کے بہائو میںآئی تیزی کے نتیجے میں پیر پنچال کے آرپار30سے زیادہ بستیاں متاثر ہوئیں اور کئی علاقہ جات زیر آب آگئے ہیں ۔اِدھر مٹی کے تودے ،چٹانیں کھسکنے اور پسیاں گر آنے کے باعث سرینگر ۔جموں شاہراہ ،سرینگر ۔لہیہ شاہراہ اور مغل روڑ پر ٹریفک کی آوا جاہی متاثر ہوئی ۔اُدھر محکمہ اری گیشن اینڈ فلڈ کنٹرول نے ندی نالوں کے کناروں اور گرد ونواح میں رہنے والے لوگوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔دریں اثناء صوبائی انتظامیہ نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ’ایس ڈی آر ایف ،فائر اینڈ ایمر جنسی،میو نسپل کار پوریشن سرینگر ،پولیس اور دیگر ریسکیو ٹیموں کو سریح الحرکت رکھا گیا ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات کو مون سون نے جموں وکشمیر کے اُفق پر دستک دی ،جس کے ساتھ بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا ،جو جمعرات کو وقفے وقفے سے جاری رہا ،تاہم اس عرصے کے دوران ہلی بارشیں ہوئیں ،جنہوں نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کوتشویشناک رُخ اختیار کیا ۔جمعہ کو یہ سلسلہ وقفے وقفے سے دن بھر جاری رہا ۔شدیدموسلادھار بارشوں کے نتیجے پیر پنچال کے آر پار معاملات زندگی متاثر ہوئے جبکہ درجنوں علاقہ زیر آب آگئے ۔اس سلسلے میں ملنے والی تفصیلات کے مطابق جنوبی کشمیر کے کئی ندی نالوں میں طغیانی آنے سے کئی چوٹھے پل بہہ گئے ،جسکی وجہ سے کئی دیہات کا زمینی رابط منقطع ہو کر رہ گیا ہے ۔نالہ ویشنو ،نالہ رمبی یار ،نالہ لدر اور نالہ برنگی سمیت کئی نالوں میں سطح آب میں اضافہ ہوا جبکہ ان ندی نالوں میں پانی کا بہائو کافی تیز ہوگیا ۔اطلاعات کے مطابق گزشتہ24گھنٹوں سے بلاخلل جاری موسلاداربارشوں کے بعدضلع کولگام سے بہنے والے نالہ ویشنومیں طغیانی کی صورتحال پیداہوگئی ہے ،اورنالے کاپانی کئی دیہات وبستیوں میں داخل ہوچکاہے ۔عینی شاہدین نے بتایاکہ کئی مقامات پرنالہ ویشنوکاپانی کناروں کوعبورکرچکاہے جبکہ دمہال ہانجی پورہ اوراشتھل میں واقع وہ دونوں چھوٹے پُل پانی کے تیزبہائومیں بہہ گئے ہیں جوسال2014کی سیلابی صورتحال کے دوران بھی بہہ گئے تھے ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ دمہال ہانجی پورہ کے نزدیک قائم پُل ڈھ جانے کے نتیجے میں کم سے کم 14دیہات کارابطہ کٹ کررہ گیاہے جبکہ اشتھل کی پوری بستی سیلاب کی زدمیں آچکی ہ اوریہاں قائم پُل ڈھ جانے کی وجہ سے کم وبیش9دیہات کازمینی یاسڑک رابطہ کٹ کرہ گیاہے ۔اشتھل کولگام میں کم سے کم 20کنبے سیلاب میں پھنس گئے ہیں اورایس ڈی آرایف نے یہاں پولیس ومقامی نوجوانوں کی مددسے پھنسے لوگوں کونکالنے کی کارروائی شروع کردی ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ مسلسل بارشوں کے باعث نالہ ویشنومیں پانی کی سطح میں متواتراضافہ ہورہاہے اوراسی کے پیش نظرایس ڈی آرایف نے ضلع کولگام میں سیلابی الرٹ جاری کرتے ہوئے نالہ ویشنوکے گردونواح میں واقع دیہات وبستیوں کے لوگوں کوکسی بھی صورتحال کیلئے چوکنارہنے کوکہاگیاہے۔ اس دوران اننت ناگ میں بھی کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں ۔معلوم ہوا ہے کہ جنوبی کشمیر میں ندی نالوں میں سطح آب میں اضافہ آنے کے علاوہ ڈرنیج سسٹم ناکارہ ہونے کے سبب ڈانگر پورہ اور اسکے گرد ونواح کے علاقے زیر آب آگئے ہیںجبکہ جنوبی کشمیر میں پکڑیوں کو نقصان پہنچنے سے زمینی رابطے منقطع ہوئے ہیں۔ادھرزیر آب علاقہ جات سے پانی کی نکاسی کے لئے پمپوں کا ستعمال کیا جارہا ہے ۔ادھر دریائے جہلم میں پانی کی سطح میں کافی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جبکہ وسطی کشمیر میں کئی نشیبی علاقہ جات زیر آب آگئے ۔شہر سرینگر کے تجارتی مرکز لالچوک کے ریگل چوک پولو ویو ،مگر باغ ،ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ سمیت کئی علاقوں میں سڑکیں زیر آب آگئیں اور یہاں پانی نکاسی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر سرینگر میو نسپل کارپوریشن نے ڈیواٹر نگ پمپ نصب کئے جبکہ فائر اینڈ ایمر جنسی کی بھی خد مات حاصل کی گئیں ۔میو نسپل حکام کا کہنا ہے کہ پانی کی نکاسی کیلئے40سے زیادہ پمپ نصب کئے گئے سری نگر:٢٩،جون:کے این این/ مون سون کی دستک کے ساتھ ہی گزشتہ24گھنٹوں کے دوران پیر پنچال کے آر پار شدیدموسلادھار بارشوں کے نتیجے میں سیلابی صورتحال کا خطرہ پیدا ہوگیا جبکہ محکمہ اری گیشن اینڈ فلڈ کنٹرول نے سیلابی الرٹ جاری کردیا ۔ ٹنل کے آر پار کے ندی نالوں میں طغیانی آنے سے کئی چھوٹے پل ،ایک اسکولی عمارت اور پگڈیوںکو شدید نقصان پہنچا جسکے نتیجے میں درجنوں دیہات کے زمینی رابطے منقطع ہو کر رہ گئے ۔شام 5بجے دریائے جہلم میں سطح آب سنگم کے مقام پر 20.44فٹ ،رام منشی باغ کے مقام پر12.35فٹ اور عشم کے مقام پر4.5فٹ ریکارڈ کی گئی۔اس دوران دریائوں اورندی نالوں میں سطح آب میں اضافہ ہونے کے ساتھ پانی کے بہائو میںآئی تیزی کے نتیجے میں پیر پنچال کے آرپار30سے زیادہ بستیاں متاثر ہوئیں اور کئی علاقہ جات زیر آب آگئے ہیں ۔اِدھر مٹی کے تودے ،چٹانیں کھسکنے اور پسیاں گر آنے کے باعث سرینگر ۔جموں شاہراہ ،سرینگر ۔لہیہ شاہراہ اور مغل روڑ پر ٹریفک کی آوا جاہی متاثر ہوئی ۔اُدھر محکمہ اری گیشن اینڈ فلڈ کنٹرول نے ندی نالوں کے کناروں اور گرد ونواح میں رہنے والے لوگوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔دریں اثناء صوبائی انتظامیہ نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ’ایس ڈی آر ایف ،فائر اینڈ ایمر جنسی،میو نسپل کار پوریشن سرینگر ،پولیس اور دیگر ریسکیو ٹیموں کو سریح الحرکت رکھا گیا ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات کو مون سون نے جموں وکشمیر کے اُفق پر دستک دی ،جس کے ساتھ بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا ،جو جمعرات کو وقفے وقفے سے جاری رہا ،تاہم اس عرصے کے دوران ہلی بارشیں ہوئیں ،جنہوں نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کوتشویشناک رُخ اختیار کیا ۔جمعہ کو یہ سلسلہ وقفے وقفے سے دن بھر جاری رہا ۔شدیدموسلادھار بارشوں کے نتیجے پیر پنچال کے آر پار معاملات زندگی متاثر ہوئے جبکہ درجنوں علاقہ زیر آب آگئے ۔اس سلسلے میں ملنے والی تفصیلات کے مطابق جنوبی کشمیر کے کئی ندی نالوں میں طغیانی آنے سے کئی چوٹھے پل بہہ گئے ،جسکی وجہ سے کئی دیہات کا زمینی رابط منقطع ہو کر رہ گیا ہے ۔نالہ ویشنو ،نالہ رمبی یار ،نالہ لدر اور نالہ برنگی سمیت کئی نالوں میں سطح آب میں اضافہ ہوا جبکہ ان ندی نالوں میں پانی کا بہائو کافی تیز ہوگیا ۔اطلاعات کے مطابق گزشتہ24گھنٹوں سے بلاخلل جاری موسلاداربارشوں کے بعدضلع کولگام سے بہنے والے نالہ ویشنومیں طغیانی کی صورتحال پیداہوگئی ہے ،اورنالے کاپانی کئی دیہات وبستیوں میں داخل ہوچکاہے ۔عینی شاہدین نے بتایاکہ کئی مقامات پرنالہ ویشنوکاپانی کناروں کوعبورکرچکاہے جبکہ دمہال ہانجی پورہ اوراشتھل میں واقع وہ دونوں چھوٹے پُل پانی کے تیزبہائومیں بہہ گئے ہیں جوسال2014کی سیلابی صورتحال کے دوران بھی بہہ گئے تھے ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ دمہال ہانجی پورہ کے نزدیک قائم پُل ڈھ جانے کے نتیجے میں کم سے کم 14دیہات کارابطہ کٹ کررہ گیاہے جبکہ اشتھل کی پوری بستی سیلاب کی زدمیں آچکی ہ اوریہاں قائم پُل ڈھ جانے کی وجہ سے کم وبیش9دیہات کازمینی یاسڑک رابطہ کٹ کرہ گیاہے ۔اشتھل کولگام میں کم سے کم 20کنبے سیلاب میں پھنس گئے ہیں اورایس ڈی آرایف نے یہاں پولیس ومقامی نوجوانوں کی مددسے پھنسے لوگوں کونکالنے کی کارروائی شروع کردی ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ مسلسل بارشوں کے باعث نالہ ویشنومیں پانی کی سطح میں متواتراضافہ ہورہاہے اوراسی کے پیش نظرایس ڈی آرایف نے ضلع کولگام میں سیلابی الرٹ جاری کرتے ہوئے نالہ ویشنوکے گردونواح میں واقع دیہات وبستیوں کے لوگوں کوکسی بھی صورتحال کیلئے چوکنارہنے کوکہاگیاہے۔ اس دوران اننت ناگ میں بھی کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں ۔معلوم ہوا ہے کہ جنوبی کشمیر میں ندی نالوں میں سطح آب میں اضافہ آنے کے علاوہ ڈرنیج سسٹم ناکارہ ہونے کے سبب ڈانگر پورہ اور اسکے گرد ونواح کے علاقے زیر آب آگئے ہیںجبکہ جنوبی کشمیر میں پکڑیوں کو نقصان پہنچنے سے زمینی رابطے منقطع ہوئے ہیں۔ادھرزیر آب علاقہ جات سے پانی کی نکاسی کے لئے پمپوں کا ستعمال کیا جارہا ہے ۔ادھر دریائے جہلم میں پانی کی سطح میں کافی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جبکہ وسطی کشمیر میں کئی نشیبی علاقہ جات زیر آب آگئے ۔شہر سرینگر کے تجارتی مرکز لالچوک کے ریگل چوک پولو ویو ،مگر باغ ،ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ سمیت کئی علاقوں میں سڑکیں زیر آب آگئیں اور یہاں پانی نکاسی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر سرینگر میو نسپل کارپوریشن نے ڈیواٹر نگ پمپ نصب کئے جبکہ فائر اینڈ ایمر جنسی کی بھی خد مات حاصل کی گئیں ۔میو نسپل حکام کا کہنا ہے کہ پانی کی نکاسی کیلئے40سے زیادہ پمپ نصب کئے گئے اور ترجیحی ہی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ محکمہ کی مشینری کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رکھا گیا ،تاہم لوگوں کا تعائون بھی ضروری ہے ۔ادھر شمالی اور وسطی کشمیر کے نالہ سندھ ،نالہ برنگی ،نالہ فیروز پورہ ،نالہ مدومتی ،نالہ پہرو سمیت کئی نالوں میں شدید موسلا دھار بارشوں سے طغیانی جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ،تاہم یہاں کسی بڑے نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ،تاہم درنیج سسٹم ناکارہ ہونے سے کئی علاقہ جات زیر آب آگئے ہیں جسکی وجہ سے لوگوں کو آنے جانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں ۔اس دوران محکمہ اری گیشن اینڈ فلڈ کنٹرول نے ندی نالوں اور دریائے جہلم کے دونوں اطراف میں آباد لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ الرٹ رہیں جبکہ لوگ ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں ،کیو نکہ پانی کا بہائو تیز ہوگیا ۔ادھر محکمہ موسمیات کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے کوکرناگ علاقے میں صبح ساڑھے 8بجے تک 63.4ملی میٹر بارش ہوئی جبکہ قاضی میں 58.6ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ۔ان کا کہناتھا کہ سرینگر میں صبح ساڑھے 8بجے تک12.6ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ اس میں موسلا دھار بارشوں میں مزید اضافہ ہوا ۔ان کا کہناتھا کہ پہلگام میں 27.8ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔اس دوران وادی بھر کے دریائوں اور ندی نالوں میں مسلسل پانی کی سطح آب بڑھ رہی ہے ۔دریائوں اور ندی نالوں میں صبح9بجے سے پانی کی سطح آب میں اضافہ ہونے کا سلسلہ شروع ہوا جبکہ متواتر موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں دریائوں اور ندی نالوں میں سطح آب میں مزید اضافہ ہوا ۔محکمہ اری گیش اینڈ فلڈ کنٹرول حکام نے جنوبی کشمیر میں ندی نالوں کے نزدیک رہنے والے لوگوں سے کہا کہ وہ الرٹ رہیں ۔دریائے جہلم میں پانی کی سطح کے حوالے سے محکمہ اری گیشن اینڈ فلڈ کنٹرول کی جانب سے ملی تفصیلات کے مطابق صبح 10بجے دریائے جہلم میں پانی کی سطح 12.54فٹ ،رام منشی باغ کے مقام پر7.87فٹ اور عشم کے مقام پر 3.08فٹ تھی ۔نالہ ویشنو میں کھڈ ونی کے مقام پر پانی کی سطح 6.29میٹر ،نالہ رمبی یار آرا ء وچی کے مقام میں سطح آب 0.50میٹر ،نالہ لدر میں سطح آب بٹہ کوٹ کے مقام 1.54میٹر ریکارڈ کی گئی ۔دوپہر 2بجے دریائے جہلم میں سطح آب سنگم کے مقام پر 17.10فٹ ،رام منشی باغ کے مقام پر 9.95فٹ اور عشم کے مقام پر 4.00فٹ ریکارڈ کی گئی ۔نالہ ویشنو میں کھڈ ونی کے مقام پر پانی کی سطح 8.62میٹر ،رمبی یار آراء میں وچی کے مقام پر1.46میٹر اورنالہ لدر میں بٹہ کوٹ کے مقام پر سطح آب1.73میٹر ریکارڈ کی گئی ۔موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ دن بھر جاری رہنے سے ہر ایک گھنٹے کے بعد دریائے جہلم اور ندی نالوں میں سطح آب میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔محکمہ اری گیشن اینڈ فلڈ کنٹرول نے اس حوالے سے جو تفصیلات فراہم کیں ،اُنکے مطابق سہ پہر3بجے دریائے جہلم میں سطح آب سنگم کے مقام پر 18.27فٹ ،رام منشی باغ کے مقام پر10.64فٹ اور عشم کے مقام پر 4.16فٹ ریکارڈ کی گئی ۔نالہ ویشنو میں کھڈ ونی کے مقام پر پانی کی سطح 8.88میٹر ،رمبی یار آراء میں وچی کے مقام پر2.35میٹر اورنالہ لدر میں بٹہ کوٹ کے مقام پر سطح آب1.71میٹر ریکارڈ کی گئی۔سہ پہر 4بجے دریائے جہلم میں سطح آب سنگم کے مقام پر19.41فٹ ،رام منشی باغ کے مقام پر 11.46فٹ اور عشم کے مقام پر 4.33فٹ ریکارڈ کی گئی ۔نالہ ویشنو میں کھڈ ونی کے مقام پر پانی کی سطح 9.09میٹر ،رمبی یار آراء میں وچی کے مقام پر2.89میٹر اورنالہ لدر میں بٹہ کوٹ کے مقام پر سطح آب1.713میٹر ریکارڈ کی گئی۔شام 5بجے دریائے جہلم میں سطح آب سنگم کے مقام پر 20.44فٹ ،رام منشی باغ کے مقام پر12.35فٹ اور عشم کے مقام پر4.5فٹ ریکارڈ کی گئی ۔نالہ ویشنو میں کھڈ ونی کے مقام پر پانی کی سطح 9.21میٹر ،رمبی یار آراء میں وچی کے مقام پر3.32میٹر اورنالہ لدر میں بٹہ کوٹ کے مقام پر سطح آب1.68میٹر ریکارڈ کی گئی۔محکمہ اری گیشن اینڈ فلڈ کنٹرول حکام کے مطابق دریائے جہلم میں جب سطح آب سنگم کے مقام پر18فٹ تک پہنچ جائیگا تو فلڈ الرٹ جاری کیا جاتا ہے اور جب یہاں سطح آب یہاں 21فٹ تک پہنچ جاتا ہے تو سیلاب کا اعلان کیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ اسی طرح جب رام منشی باغ کے مقام پر دریا ئے جہلم میں سطح آب 16فٹ تک پہنچ جاتا ہے ،تو الرٹ اور18فٹ پر سیلاب کا اعلان کیا جاتا ہے ،اسی طرح عشم کے مقام پر دریائے جہلم میں جب سطح 13.5فٹ پر پہنچ جاتا ہے تو الرٹ اور14فٹ پر سیلاب کا اعلان کیا جاتا ہے ۔اس دوران موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں مٹی کے تودے ،چٹانیں کھسکنے اور پسیاں گرآنے کے سبب سرینگر جموں شاہراہ کے ساتھ ساتھ مغل روڑ پر ٹریفک کی آوا جاہی بند کی گئی ۔حکام کے مطابق سرینگر ۔جموں شاہراہ پر رام کے مقام پر موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں بھاری لینڈ سلائڈنگ ہوئی جسکے بعد شاہراہ کو احتیاطی طور پر بند کیا گیا ۔حکام کے مطابق مغل روڑ کو ہلکی گاڑیوں کیلئے دونوں اطراف سے بند کردیا گیا ،تاہم یہ روڑ بھاری گاڑی کیلئے پونچھ ۔راجوری سے شوپیان تک یکطرفہ ٹریفک کیلئے کھلا رکھا گیا ۔ادھر موسلا دھار بارشوں کے باعث سرینگر لہیہ شاہراہ پر بھی ٹریفک کی آوا جاہی پسیاں گرآنے کے بعد گئی گھنٹوں تک بند رہی ،کیونکہ بعد ازاں اس شاہراہ پر ٹریفک کی آوا جاہی بحال کردی گئی ۔اس دوران خطہ جموں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دریائے توی میں بھی پانی کی سطح میں اضافہ ہوا جبکہ خطہ پیر پنچال اور وایٔ چناب میں بھی ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہوگئی اور یہاں بھی کئی علاقے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں ۔

Comments are closed.