سوز کے بیان پر کانگریس معافی مانگے: بی جے پی

نئی دہلی، 22 جون (یو این آئی) جموں و کشمیر کے سابق صدر سیف الدین سوز کے کشمیر کی آزادی سے متعلق بیان نے طول پکڑ لیا ہے۔ بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) نے مسٹر سوز کے بیان کو دہشت گردوں کی زبان قرار دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کو اس کے لئے معافی مانگنی چاہیے۔
مسٹر سوز نے جمعہ کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے لوگوں کی اولین ترجیح آزادی حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کشمیر کی آزادی، ا س سے وابستہ ممالک کی وجہ سے ممکن نہیں ہے لیکن وادی کے لوگ پاکستان کے ساتھ کشمیر کا انضمام نہیں چاہتے۔
مسٹر سوز نے ساتھ ہی کہا کہ ان کے اس بیان کا کانگریس پارٹی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور وہ انفرادی طور پر کشمیریوں کی جانب سے یہ بات کہہ رہے ہیں۔
مرکز میں ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) حکومت میں وزیر رہے مسٹر سوز نے اپنی کتاب ’کشمیر گلمپسز آف ہسٹری اینڈ دی اسٹوری آف اسٹراگل‘ میں پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کے اس بیان کی حمایت کی ہے جس میں مسٹر مشرف نے کہا تھا کہ اگر ووٹنگ کی حالت ہوتی ہے وادی کے لوگ پاکستان اور ہندوستان کے ساتھ جانے کی بجائے تنہا اور آزاد رہنا پسند کریں گے۔
جاری۔یو این آئی۔ این ی

Comments are closed.